Tuesday, May 2, 2017

خلافت کا خاتمہ اور اہل ہندوستان کا کردار


مصطفیٰ کمال پاشا
مارچ کا مہینہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا مہینہ ہے۔ 3 مارچ 1924 کو مصطفی کمال نے 14 سو سال سے قائم اس مقدص ادارے کو سامراجی طاقتوں کی آشیرواد سے ختم کر ڈالا تھا۔
خلافت عثمانیہ کے متوازی حکومت قائم کرنے کے باوجود 8 اپریل 1923ء کی تقریر میں مصطفٰی کمال نے بہت واضع الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ''خلافت ایک مقدص اسلامی ادارہ ہے اس لئے اعلیٰ تُرک قومی اسمبلی اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔" یہی نہیں بلکہ یکم
اثنا عشری شعیوں کے رہنما سید امیر علی
نومبر 1923ء میں ترکی کو جمہوریہ بنائے جانے کی قرار داد میں بھی خلافت کو برقرار رکھا گیا تھا۔

اسی دوران 13 دسمبر 1923 کو فرانس میں مقیم اسماعیلوں کے روحانی پیشوا سر آغا خان اور برطانیہ میں مقیم اثنا عشری، اہل تشیع کے معروف لیڈر جسٹس سید امیر علی نے ایک مشترکہ خط تُرک حکومت پر براجمان مصطفی کمال اور عصمت انونو کو لکھا۔ جس میں خلیفہ کے اختیارات میں تخفیف پر احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عالم اسلام میں بسنے والے کروڑوں "سنّی مسلمانوں" کی جذباتی و مذہبی وابستگی خلافت کے ادارے سے ہے، لہذا تُرک حکومت کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے محتاط رہے۔

خط تُرک حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی فرانس برطانیہ اور خود تُرکی کے اخبارات میں شائع ہو گیا اور دنیا بھر میں ایک سُلگتا ہوا موضوع بحث بن گیا۔

اسماعلیوں کے روحانی پیشوا آغا خان اول
سید امیر علی اور آغا خان کا خط 
 لندن اور پیریس میں موجود دو اعلیٰ سطی اختیارات کے حامل اشخاص کی جانب سے لکھے گئے اس طرح کے خط کے مضمرات کو زیر بحث لانے کے لئے 15 فروری کو تُرک فوجی کمانڈروں کی میٹنگ ازمیر شہر میں طلب کی گئی۔ جہاں اس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اسی موضوع پر یکم مارچ 1924 کو تُرک قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ایک جذباتی تقریر کی۔ اُس نے اسمبلی ممبران کو بتایا کہ یہ خط دراصل برطانیہ اور فرانس کے گماشتوں کی بہت بڑی سازش ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک خلافت کا ادارہ برقرار رہے گا یہ طاقتیں اسی طرح تُرکی کے معملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ خلافت کو ہمیشہ تُرک جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کل کلاں کو خلافت کے اختیارات کی بحالی کی آڑ میں ترکی پر جنگ بھی مسلط کی جا سکتی ہے۔ لہذا تُرک قوم اور ملک کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ اسمبلی میں خوب گرما گرم بحث ہو ئی اور بلآخر 3 مارچ کو اسی جذباتی فضا میں قانون نمبر 431 کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ جس میں خلافت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

خلافت کے تحفظ کے لئے مسلمانانِ برصغیر نے انگریزوں کے غلام ہونے کے باوجود ایثار اور سرفروشی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی بہت اہم ہے، جسے جان بوجھ کر تاریخ سے حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے ساتھ ہی خلافت کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوا تو 5 جولائی 1919ء کو بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم ہوئی۔ جس کا مقصد رائے عامہ کو منظم کر کے ”خلافت کی برقراری، مقامات مقدسہ کے تحفظ اور سلطنتِ ترکی کی مجوزا تقسیم رکوانے کے لئے انگریزوں پر دباؤ ڈالنا تھا۔ خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر اُن کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔ اسی اپیل کے نتیجے میں دسمبر 1919ء کو کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے۔  کانگریس کے اجلاس میں تحریک خلافت کی حمایت کا معملہ زیر بحث آیا تو ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران نے حمایت کے حق میں فیصلہ دیا۔ تحریک خلافت کی حمایت کی مخالفت کرنے والے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے واحد رکن جناب محمد علی جناح صاحب تھے۔ جنہوں نے نہ صرف پارٹی کے اجلاس میں اس فیصلے کی مخالفت کی بلکہ حمایت کا فیصلہ طے پا جانے پر احتجاجا کانگریس کی ورکنگ کمیٹی اور بنیادی رکنیت سے ہی استعفی دے دیا تھا۔

(محمد علی جناح صاحب کی کانگریس سے اعلیحدگی کی یہی وجہ بنی، جس کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ بظاہر محمد علی جناح صاحب کی مخالفت کی وجہ بڑی معقول تھی۔ اُس وقت تک اُن کا تعلق اسماعیلی مذہب سے تھا، جو خلافت کے ادارے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اُن کے نزدیک زندہ امام ہی سربراہ حکومت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس وقت تک جناح صاحب اثنائے عشری مذہب اختیار کر چکے تھے۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے توبھی یہ حقیقت یہی ہے کہ خلافت کا ادارہ اثنائے عشریہ کے ہاں بھی قابل قبول نہیں، اُن کے ہاں خلافت کی جگہ مقدص سیاسی ادارہ "ولایت فقیہ" ہے)

No comments:

Post a Comment

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس ...