Friday, March 8, 2013

میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کی حقیقت


وطن عزیز میں ان دنوں میڈیا ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی آزادی کا ڈھول کچھ زیادہ ہی  پیٹا جانے لگا ہے۔ خصوصا میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا چرچا جس شد ومد سے کیا جا رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی ڈر لگتا ہے کہ کوئی سادہ مزاج اسے حقیقت ہی نہ سمجھ لے۔ اور پھر نتائج اس کے پورے خاندان کو بھگتنے  پڑیں۔ اس لئے یہی مناسب سمجھا کہ سب کو ’اپنی‘ یعنی میڈیا والوں کی اوقات کُھل کر بتا دی جائے اور ساتھ ہی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی آزادی کی حقیقت کے  بارے میں اشاروں کنائیوں میں  نشاندہی کر دی جائے تاکہ کوئی نووارد لکھاری غلط فہمی میں مارا نہ جائے۔

 پاکستان میں میڈیا بہت ہی آزاد ہے لیکن اگر اس کی آزادی کے خد و خال پر سطعی نظر بھی ڈالی جائے تو حقیقت بہت جلد واضع جاتی ہے۔ اس آزادی کا حدود اربعہ کچھ کمزور سیاسیدانوں کو گالیاں دینے اور بے ضرر قسم کے سرکاری محکوں کے افسران اور اہلکاروں کے بارے میں حقائق منظر عام پر لانے تک محدود ہے۔ جب بھی کوئی عاقبت نااندیش صحافی اس حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے فوراً ہی اس کی اصل اوقات بتا دی جاتی ہے ۔

 میڈیا کی آزادی کے بارے میں اسی غلط فہمی کا شکار ہوکر ایک سیاسی جماعت کے بارے میں لب کشائی کرنے والے ’ولی خان بابر‘ کو "سیاسی نامعلوم افراد" نے سبق سکھایا تھا۔ اسی طرح کراچی کے مہران ائیر بیس پر حملے سے متعلق  اہم سرکاری رازوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرنے والا سلیم شہزاد "سرکاری نامعلوم افراد" کے ہاتھوں عبرت کا نشان بن گیا تھا۔

 اس لئے اب میڈیا بہت سیانا ہو گیا ہے، اگر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے "رضاکارانہ طور پر" کاروبار بند کرنے کی اپیل کے فوری بعد اسی سیاسی جماعت کے جھنڈے اٹھا ئے لوگ فائرنگ کرکے دکانیں زبردستی بند کراتے نطر آئیں تو بھی انہیں نامعلوم ہی بتایا جاتا ہے۔

 اسی طرح اگر کامرہ ائیر بیس پر حملے کے فوراً بعد اگر بتایا جائے کہ حملہ آوروں کو بیرونی دیوار عبور کرنے سے پہلے ہی اگلے جہان پپہنچا دیا گیا ہے تو میڈیا داد و تحسین کے ڈونگرے پرسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ ہاں اگر کچھ عرصے بعد بیان آجائے کہ اس حملے میں 20 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا تو کوئی بال کی کھال اتارنے والا صحافی  یہ پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتا کہ آیا یہ نقصان ائیر بیس کی بیرونی دیوار کے باہر لگی گھاس کے حملہ آوروں کے قدموں تلے مسلے جانے سے ہوا ہے؟؟؟؟  یہ بھی توآخر اہم قومی سلامتی کا راز ہی تو ہے۔

عدلیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت محتاط ہونا پڑتا ہے کیوں کہ عدلیہ اپنی توہین کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہے۔ شاہد اسی حساسیت کے باعث وہ وزیر اعظم کو تو عدالت میں طلب کر لیتی ہے لیکن بلوچستان امن و امان کیس میں کمانڈنٹ ایف سی، کراچی بد امنی کیس میں ڈی جی رینجرز اور زبردستی گمشدہ افراد کے کیس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان کو طلب نہیں کرتی۔ اسی طرح فوجی عدالت سے سزا یافتہ برگیڈئیر علی اہلیہ کا بیان اخبارات کی زینت بنا ہے کہ انکے شوہر کو فوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود فوجی عدالت سے سزا سنائے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخوست دائر کی تھی جو ایک سال سے کم عرصے میں 9 ججوں کے پاس سماعت کے لئے جا چکی ہے لیکن کوئی ایک بھی  سماعت کے لئے تیار نہیں ہوا۔ 

الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اور ملک کا نامور ترین قانون دان جناب فخر الدین جی ابرائیم سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں نئی اتخابی حد بندیوں کے حکم پر عمل درامد کی یقین دھانی کرائی تھی۔ دو دن بعد ان کی ملاقات چیف آف آرمی سٹاف جرنل اشفاق پرویز کیانی سے ہوئی۔ چند منٹ کی ملاقات میں سپہ سالار نے آئین و قانون کی وہ تشریحات بیان کیں کہ فخرو بھائی کو اپنی عدالتوں کی راہ داریوں میں گزرے 65 سال وقت کا ضیاع محسوس ہوئے۔ انہوں نے فوراً اعلان فرما دیا کہ مردم شماری کے بغیر نئی انتخابی حد بندیوں کی ملک کا آئین اجازت ہی نہیں دیتا۔

پہلے زمانے میں بادشاہوں کے سامنے کسی ناگوار بات کو زبان سے نکالنے سے پہلے درباری جان کی امان طلب کر لیا کرتے تھے۔ لیکن اب تو جمہوریت کی برکات سے عوام سپریم پاور ہو چکے ہیں لہذا یہ چانس بھی جاتا رہا ہے۔ اس لئے اب جو آزادی اظہار کے پراپگنڈے کا شکار ہو گا وہ اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے۔
 ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہم مجبوروں پے ناحق تحمت ہے مختاری کی

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس ...