Thursday, June 19, 2014

ضرب عضب اور پاکستان کا مسقبل

پاکستانی فوج  نےایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان میں "ضرب عضب"  کے نام سے ایک بڑےفوجی آپریشن کا آغاز کر دیا  ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق  2001ء میں  امریکہ کی اعلان کردہ  جنگ کے
بعد  کے 13 سالوں میں یہ 26واں  بڑا آپریشن ہے جو پاکستانی فوج اپنے ملک کے قبائیلی علاقوں میں شروع کر چکی  ہے،جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں کی جانے  والی چھوٹی عسکری  کاروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔   اگر صرف وزیرستان کی بات کی جائے تو یہاں اس سے پہلے "المیزان،  زلزلہ،  راہ  راست،  راہ  نجات " کے ناموں  سے بڑے آپریشن   ماضی میں کیے جا چکے  ہیں ۔

ان تمام فوجی آپریشنز  کے مقاصد میں دہشت گردی کا خاتمہ اور حکومتی رٹ کی بحالی شامل تھی۔  ہر آپریشن کے  آغاز میں  پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا   نے پوری قوم  میں  جنگی ہجان برپا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عسکری زرائع  سے بھی  دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے اور اُن کے نیٹ ورک کو ملیا میٹ کرنے  کے اعلانات سامنے آتے رہے ہیں۔   آہستہ آہستہ  "کامیابیوں کی نویدِ مسرت " کا بہاو کم ہوتا جاتا اور پھر اچانک کسی سہانی شام میں بغیر کسی اعلان کے یہ آپریشن  انتہائی خاموشی  سے ختم ہوجاتا۔  عوام کو  ہمیشہ  سابقہ آپریشن   کے خاتمے کا سراغ  نئے آپریشن کے آغاز کے اعلان سے ملتا رہا  ہے۔ تاہم ہر نئے  آپریشن کا آغاز ہی اس  بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ  اس سے پہلے  کیے جانے والے تمام آپریشنز اپنے  اہداف کے حصول  میں ناکام رہے تھے۔ 

موجودہ آپریشن "ضرب عضب" بھی ماضی  کے آپریشنز سے بڑی حد تک مماثلت  رکھتا ہے۔  وہی دعوے اور اعلانات ، ویسا ہی جنگی ہیجان  پیدا کرنے کی کوشش۔  باخبر حلقے کہتے ہیں کہ اس آپریشن کے پس منظر میں بھی ماضی کی طرح امریکہ کی جانب سے "ڈو مور " (
Do More)  کا  مطالبہ اور فوجی امداد کو اس فوجی کاروائی سے مشروط کرنے کی دھمکی شامل ہے۔  لیکن یہ آپریشن ماضی میں کیے جانے والے تمام آپریشنز سے ایک لحاظ سے مختلف  بھی  ہے  اور نتائج کے اعتبار سے بہت  زیادہ  بھیانک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس آپریشن کی خاص بات ایک تو اس کی ٹائمنگ  ہے ، یہ آپریشن عین اُس وقت شروع کیا گیا ہے جب امریکہ اس خطے سے ایک بدترین اور ذلت آمیز شکست کے بعد  کسی بھی قیمت پر محفوط انخلاء کی کوشش میں مصروف ہے۔ دوسری  اہم بات یہ کہ موجودہ آپریشن  "تحریک طالبان پاکستان" کے علاوہ  افغان طالبان کے بازوئے شمیشر زن  "حقانی نیٹ ورک" اور اُن کے پاکستانی اتحادی "حافظ گل بہادر گروپ "کے خلاف  بھی کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ "حقانی نیٹ ورک" کو پاکستان کی سکیورٹی  اسٹیبلشمنٹ  اپنا  "تزویراتی     اثاثہ" (
Strategic Asset)قرار  دیتی آئی ہے ۔ ماضی میں اس حوالے  سے امریکی دباؤکو ہمیشہ  نظر انداز کرتی رہی ہے۔  اور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک  اہم نقطہ  رہا ہے  کہ"حقانی نیٹ ورک" کو مسقبل کے لئے محفوط رکھا جائے ،تاکہ جب طالبان اقتدار میں آئیں تو   وہاں پاکستان کے مفادات کا تحفظ  ہو سکے۔

 ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کا افغانستان سے نکل جانا نوشتہ دیوار بن چکا ہے۔  اب وہ  افغانستان پر حملے  کے وقت اعلان کردہ  کوئی بھی ہدف  کا ذکر کرنے کے بجائے محفوظ انخلاء کی بات کر رہا  ہے، افغانستان میں طالبان کی  کابل میں فاتحانہ  واپسی  کے امکانات   اور طاقت  و اقتدار میں ہر گزرنے والا دن اضافہ کررہا ہے، امریکہ کی حمایت  اور طاقت  کے سہارے  قائم ہونے والی "کابل حکومت" کے   اقتدار کی عمارت زمین بوس ہونے کو  ہے،القاعدہ پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے ، اب وہ افغانستان کے پہاڑوں میں روپوش نہیں ہے  بلکہ یمن ، عراق، شام ، لیبیا، مصر، مالی  اور صومالیہ جیسے ممالک میں مغربی طاقتوں اور انکے مقامی حلیفوں  سے براہ راست حالتِ جنگ میں ہے، خود مغربی ممالک میں  مسلمان  نوجوانوں کی بڑی تعداد  القاعدہ  کی دعوت سے متاثر ہو کر جہادی میدانوں میں اتر رہی ہے۔ پاکستانی حکومت  اور سکیورٹی سٹیبلشمنٹ کی جانب سے   "حقانی نیٹ ورک" اور انکے پاکستانی اتحادیوں  (جنہیں وہ اپنا انصار اور محسن قرار دیتے ہیں) کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دینا   سمجھ سے بالاتر عمل ہے۔

حالات پر نظر رکھنے والے حلقے جانتے ہیں  کہ امریکہ کی کوشش میں تھا  کہ وہ افغانستان سے نکلنے سے قبل یہاں "پراکسی وار"
(Proxy War)  کا بدوبست کر سکے۔  ایک ایسی جنگ جس کے ذریعے وہ طالبان اور دیگر اسلامی قوتوں کو مصروف رکھ سکے  لیکن اُس کا اپنا جانی نقصان نہ ہو۔ امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان میں اُس  کی اپنی  تیار  کی ہوئی"افغان ملّی اردو"( Afghan National Army) اس قابل نہیں ہے کہ  امریکی فوج کے انخلاء کے بعد چند مہینوں تک بھی طالبان کا مقابلہ کر سکے۔ اس لئے اسے ایک زیادہ  بہتر فوجی قوت کی ضرورت تھی جو  اُس کی  جاری  کردہ  سراسر خسارے کی جنگ کو اپنے گلے کا طوق بنانے پر تیار ہو جائے۔  

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود مضبوط امریکی لابی میڈیا ،اقتدار کے ایوانوں اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں موجود  اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر  پاکستان کو اس  نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سنجیدہ اور محب الوطن حلقے اس پر واضع  پالیسی  اختیار کریں ، آج اگر  میڈیا اور مغرب نواز حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے جنگی ہیجان  سے خوفزدہ  ہو کر  خاموش رہے۔
اور پاکستان کواس دلدل میں اترنے سے نہ روکنے میں اپنا کردار ادا  نہ کیا   تو مسقبل کے مورخ کی نظر میں  وہ  بھی پاکستان  کی تباہی میں برابر کے مجرم شمار ہوں گے۔ 

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...