Saturday, August 17, 2013

طائفہء منصورہ کے منصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصر کا نوحہ

آج میری حیرت کی کوئی حد نہیں رہی۔ جس طرح میں نے مصر کی سڑکوں پر ان پیکرانِ وفا کو جانیں لُٹاتے دیکھا وہ عقل کو ماعوف کر دینے والا نظارہ تھا۔ حیرت پے حیرت یہ کہ اپنے لہو کی اشرفیوں کو فیاضی سے لُٹانے والے یہ سرفروش اپنی جانبازی پر اتنے نازاں و مسرور تھے کہ ان کی مسکراہٹ ان کے لبوں پر امر ہو گئی تھی۔ اس مسکراہٹ کو ظالم کی شقاوت چھین سکی نا موت کی سختی۔

 یہ حیران کن نظارہ دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ کتنی عظیم ہیں وہ مائیں جنہوں نے ایسےسپوتوں کو جنم دیا۔ پھر انکی ایسی تربیت کی کہ کسی قسم کا خوف انکی کھال میں گُھسنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ کسی ظالم کا ظلم ان کی راہ کھوٹی نہیں کر سکتا۔ اور کسی جابر کا جبر انہیں منزل کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا، اور راہ وفا میں جان لُٹا دینا تو گویا  ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

میرے تخیل نے کچھ مزید پرواز کی تو خیال آیا، ہائے! کیسا عجیب وہ نظارہ ہوگا جب آج یہ اپنی مہربان ماؤں سے رخصت ہوئے ہوں گے۔ جان وارنے والی بہنوں کو آخری سلام کیا ہوگا۔ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آخری بار چوما ہوگا۔ محبت کا دم بھرنے والی شریک حیات کو الوداع کہا ہوگا۔ ضعیف باب سے اجازت لی ہوگی اور اپنے آشیانے پر آخری نگاہ ڈال کر مقتل کی طرف وارفتگی سے چل دیے ہونگے۔

جی چاہا کہ چیخ چیخ کر کہوں! زمانے والو! تم نے منصور حلاج کو بد عقیدگی کے باوجود جرات کا استعارہ بنا ڈالا، کیوں کہ تختہ دار کی طرف اس کی لپک میں والہانہ پن تھا۔ آج آؤ زمانے والو، آج یہاں دیکھو! ہر طرف منصور ہی منصور ہیں ایک دو نہیں، دس بیس نہیں، سو دو سو نہیں، ہزاروں بھی نہیں بلکہ آؤ اور لاکھوں منصور دیکھو۔ آؤ اور طائفہ منصورہ کے منصور دیکھو، عنقریب منصور ہونے والے منصور دیکھو۔

 ان میں کوئی بھی "انا الحق" کے خبط میں مبتلاء نہیں ہے۔ یہ سبھی اللہ اکبر کہنے والے ہیں۔ زرا مقتل کی طرف انکا والہانہ پن تو دیکھو۔۔۔ تم اُس منصور کو بھول جاؤ گے۔ جو پھانسی کا حکم ملنےکے بعد تختہ دار کی جانب لپکا تھا۔ آؤ اور دیکھو، یہ وہ "عشاق الحق" ہیں جنہیں کسی نے سزائے موت نہیں سنائی۔ اگر یہ اپنے گھروں میں رک جائیں تو انہیں ایک حقیر کانٹا چبنے کا بھی امکان نہیں۔ لیکن یہ اپنے رب کی پکار پر گھروں کو چھوڑ آئے ہیں۔ یہ موت کے جام کو لبوں سے لگا کر حیات سرمدی کا لطف لینے کی امید پر آئے ہیں۔

 آؤ، آکر آج قاہرہ میں دیکھو، سکندیہ میں دیکھو، دمیاط میں دیکھو، اسماعلیہ میں دیکھو، پوٹ سعید میں دیکھو۔ آج مصر میں جہاں چاہو دیکھو لو، آج ہر طرف مقتل سجے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتل سجھے ہیں اور یہ چلے آ رہے ہیں۔ یہ شرق اور غرب سے آ رہے ہیں۔ یمین و یسار سے آ رہے ہیں، یہ اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں روشن، ایمان کی چنگاری شعلہ جوالہ بن چکی ہے۔ شہادت کی آزو سے بے تاب ہو کر گھروں سے نکلل آئے ہیں۔ اپنے رب کے دیدار کی امید لے کر نکلے ہیں۔

نادان دشمن انہیں آگ سے بھسم ہونے کا خوف دلاتا ہے۔ لیکن وہ بھول چکا ہے کہ یہ تو اُنہیں راہوں پر رواں ہیں، جن سے کبھی ابرائیم خلیل اللہ گزرے تھے۔ وہ انہیں دھمکیوں اور اسلحے کی شعبدہ بازی سے ڈرانا چاہتا ہے لیکن کیا اسے یاد نہیں کہ یہ موسیٰ کلیم اللہ کے ہم وطن ہیں۔ اس نے انہیں مصائب اور زندان کا خوف دلانے کی کوشش کی، لیکن وہ جانتا نہیں کہ ان کے پیش نظر تو حضرت یوسف کی سنت ہے۔

بس اے "روح فرعونیت" اب وقت پورا ہو چکا۔ اخوان کا لشکر تو اپنے لہو کے "نیل" کو پاٹ کر پار اتر چکا۔ تیرے لئے توبہ کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔ جیزہ میں نئے حرم کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ قاہنوں نے لیلن کے کپڑوں کے تانے بانے بُن لئے ہیں۔ سنکی تابوتوں کی تیاری کا کام کسی بھی لمحے مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر صدیوں بعد ایک اجنبی سیاح جب قاہرہ کے میوزیم میں داخل ہو گا تو یہاں کا گائیڈ اسے کچھ یوں بتائے گا یہ "رعمسیس" کی ممی ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ "آمن جوطف" کی، اِدھر "مرنفتاح" کی ممی رکھی ہے اور اگر ان سے بھی زیادہ شقی القلب انسان دیکھنا چاہتے ہو تو ادھر آو تمیں "سیسی" کی ممی دیکھاؤں۔

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...