Saturday, April 11, 2015

اے شیوخِ عرب

اے شیوخِ عرب!!
تمہیں علم ہے کہ تم پر عذاب کیوں نازل ہوا ہے؟ یہ کئی سر والا عفریت جو تمیں چاروں طرف سے گھیر رہا ہے۔ لبنان، شام، بحرین کے بعد اب یمن تمارے لئے ڈرونا خواب بن چکا ہے، تماری سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ تم جو آج اپنی عشرت گاہوں میں لرزہ بر اندام ہو۔ جانتے ہو کہ یہ کس جرم کی سزا ہے؟
کبھی غور کیا! آج تمیں اپنے عالیشان محلات میں چین نصیب نہیں، دنیا کی سب سے بہترین اور آرام دہ گاڑیوں میں سکون میسر نہیں، ملازموں کی فوج ظفر موج کے ہوتے، غم روزگار کی فکر سے آزاد ہی نہیں بلکہ دولت کے انباروں میں ڈوبے ہونے کے باوجود، جو تمیں کسی کروٹ چین نہیں ملتا، کبھی سوچا ہے کہ قدرت تم سے تمہاری کس بدعمالی کا انتقام لے رہی ہے؟؟
تمارے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ تم یاد تو کرو، کل تک تم صرف ایک خانہ بدوش بدّو تھے۔ 20و یں صدی کے چھٹے عشرے تک تمہیں جدید دنیا کی کوئی نعمت میسر نہیں تھی۔ تمہاری گزر اوقات مال مویشی پالنے پر تھی، یا پھر سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر تم زندگی کا سامان مہیا کرتے تھے۔ بار برداری اور نقل وحمل کا واحد زریعہ اونٹ اور گھوڑے تھے۔ تمارے فقیر خیرات کی خاطر اور متمول بہتر مزدوری کی تمنا دل میں لے کر یمن، شام، ترکی اور ہندوستان کی خاک چھانا کرتے تھے۔
پھر مشیت ایزدی کو تم پر رحم آگیا۔ تمارے صحرا سے تیل کے چشمے جاری ہو گئے۔ تم پر ہُن برسنے لگا۔ دنیا کی ہر نعمت تمارے قدموں میں آگئی۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ آکر تماری چاکری کرنے لگے۔ اور تم اللہ کی ان نعمتوں کے حصول پر شکرگزار ہونے کے بجائے اترانے لگے۔ تکبّر کو اپنا شعار بنا لیا۔ جس سرزمین پر اللہ کے بنی ﷺ نے مساوات کا درس دیا تھا، وہیں تم نے انسانوں کو وطنی اور اجنبی کے اعلیٰ اور ادنیٰ خانوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اللہ کی صفات کو اپنی ذات میں مرکوز کرنے کی جسارت کی اور خود کو انسانوں کا "کفیل" اور "ارباب" کہنے و سمجھنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ تم نے اسراف کی انتہا کر دی۔ دولت کو اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے کے بجائے نمود نمائش پر اڑاتے گئے۔ جس اللہ کی نمعتوں سے سرفراز ہوئے تھے اُس کے دین کی امداد کے بجائے، تم دین کے دشمنوں پر اپنے خزانے لُٹاتے رہے۔ اس سب کے باوجود اللہ کی رسی دراز ہوتی گئی۔
پھر تم ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اپنی عیاشیوں کی خاطر اللہ کے دین کے غلبے کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے دشمن بن گئے۔ ظاغوت اکبر نے عراق کے مسلمانوں کا قتل عام کیا تو تم اُس کے معاون اور ممددگار تھے۔ شام میں اللہ کا دشمن بشار تماری نیم رضامندانہ خاموشی کی شہہ پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ سیسی نے جب سے علائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد میں مصروف اخوان کے خون سے مصر کے کوچہ و بازار کو رنگین کرنا شروع کیا تو تم نے اُس کے لئے اپنے خزانے وقف کر دیے۔ تم بھول ہی گئے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اُس کی تدبیر ہر مکر پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ جب اپنے کُتوں میں سے کسی کُتے کو متکبر دشمن پر مسلط کر دیتا ہے تو پھر کسی مدد کرنے والے کا حصار کارآمد نہیں ہوتا۔
اے شیوخِ عرب تمیں جو چیز اللہ کے عذاب سے بچا سکتی ہے وہ کسی ملک کی فوج ہے نہ کسی عالمی تنظیم یا حکومت کا اثر و رسوخ۔
ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے۔ پلٹ آؤ قبل اس کے، کہ یہ آخری دروازہ بھی بند ہو جائے۔

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔ عرب اور ایران کی ن...