Thursday, January 31, 2013

پہلی "بین القوامی" اردو بلاگنگ کانفرنس ۔۔۔۔ میری بلائینڈ ڈیٹ

لاہور میں ہونے والی "بین القوامی اردو بلاگنگ کانفرنس" میرے لئے واقعی ایک "بلائنڈ ڈیٹ"  تھی۔ چند مہینے بیشتر ہی اردو بلاگنگ کی دنیا میں آیا ہی تھا کہ یہاں قدم قدم پے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  میرے جاننے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کا آزالہ کر سکتا ہو۔ ایسے میں ایک مہربان نے "اردو بلاگر گروپ" میں شمولیت کا مشورہ دیا کہ وہاں سے مناسب رہنمائی ملنے کی امید ہے۔

بدقسمتی سے میں گروپ میں اس وقت  شامل ہوا جب وہاں گمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ ابتدا میں تو یہی سمجھا کہ اردو بلاگنگ کے لئے یہ سب ضروری ہوتا ہو گا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معرکہ عارضی ہے اور وجہ نزاع مستقبل قریب میں ہونے والی ایک عدد "اردو بلاگر کانفرنس" ہے۔ چند پوسٹیں اور ان پر ہونے والے ڈھیروں تبصرے پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ کانفرنس ہی "بین القوامی" نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک بڑی بین لاقوامی سازش بھی ہونے جا رہی ہے۔ 

سازش کا معلوم ہوتے ہی میری صحافیانہ حس بھی بیدار ہو گئی اور میں نے گروپ میں دیے گئے ویب پتے پر رجسٹریشن فارم پُر کر دیا۔ چار دن ہی گزرے تھے کہ بلاگر فورم کا جواب موصول ہوا کہ تم بحیثیت بلاگر شرکت کرنے کے اہل نہیں ہو، اگر بلاگنگ کے شوقین کے طور پر شریک ہونا چاہو تو آ جانا، لیکن اپنے خرچے پر۔     

سوچا یہ بھی اچھا ہے ہمیشہ دوسروں کے خرچے پر کانفرنسیں اور سمینارز میں شرکت کی ہے، چلو ایک اپنے پلے سے بھی کر دیکھتے ہیں کہ اس کا مزا کیسا ہوتا ہے۔ خود کو سمجایا کہ میں واقعی بلاگنگ میں نو وارد ہوں ابھی تو ایک بلاگ پر کوئی 90 پوسٹ ہوئی ہیں اور دوسرے پر صرف دو ہیں۔ سچ پوچھیں تو بلاگر فورم کے اس "کڑے میرٹ" پر پیار بھی آیا کہ سچے اور کھرے لوگ ہیں۔ یوں انجانے اندیکھے لوگوں اور کئی سازشی نظریات میں گھری ہوئی کانفرنس میں شرکت کا اٹل فیصلہ ہو گیا، "چلو بلائینڈ ڈیٹ ہی سہی"

اسلام آباد سے پہلے بس اور پھر رکشے کے سفر کے اختتام پر جب لاہور ایوان صعنت و تجارت کے اڈیٹوریم میں پہنچا تو کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا. حسب عادت آخری رو کی ایک خالی کرسی پر قبضہ جمایا اور حالات کا جائزہ لینے لگا۔ ابتداء میں  سمجھ کچھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کوئی بھی شناسا چہرہ دیکھنے کو نہیں ملا اس لئے کچھ نروس سا ہو گیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ چائے کے وقفے کا اعلان ہوا۔  

چائے کی میز بہت سے پرُ تکلف لوازمات سے پُر تھی، لیکن میں پنجابی محاورے کے مطابق ’گمشدہ گائے‘ کی ماند کسی شناسا چہرے کی تلاش میں گھوم رہا تھا، یہاں ہر فرد ’آپ کہاں سے ہیں؟ اور کس نام سے لکھتے ہیں؟‘ کے زریعے متعارف ہو رہا تھا، جلد ہی میرا پہلا تعارف برادر سعد ملک سے ہوا لیکن ان کے تن و توش کو دیکھ کر میں ان کے تمام تر خلوص کے باوجود ان سے کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر پایا۔   

 یہ دیکھ کر ڈھارس بندھی کہ یہاں مجھ سے بھی کمزور کئی افراد موجود ہیں۔ اپنے خیال میں سب سے کمزور فرد کا انتخاب کرکے رائج الوقت دونوں سوال داغ دیے۔ جواب ملا کہ ’تعلق سوات سے ہے‘’ بلاگنگ تو نہیں کرتا لیکن ایک ویب سائیڈ بنانے کا ارادہ ضرور ہے‘ اپنے سامنے موجود دوست کے گلے میں لٹکتے کارڈ پر لکھا ہوا ’بلاگر‘ مجھے منہ چڑھانے لگا لیکن میں نے خود کو ڈانٹ کر سمجھایا کہ یہ معرفت کی باتیں ہیں اور مجھے تصوف کی سمجھ کبھی نہیں آسکتی۔

چند گھنٹوں بعد کانفرنس میں دیا جانے والا کھانا چائے کی نسبت بہت "بے تکلف" تھا۔ اس وقت تک میں بھی سب بلاگروں سے بے تکلف ہو چکا تھا۔ کھل کر گپ شپ شروع ہو گئی تھی۔ شام کو شرکاء کانفرنس لاہور کی سیر کو نکلے تو مجھے بھی  پروگرام نہ ہونے کے باوجود نئے نویلے دوستوں کے اصرار پر شامل ہونا پڑا۔ سیر کے دوران بہت ہی لطف آیا، ایک عرصے بعد کالج کا وقت یاد آیا۔

کانفرنس کا دوسرا دن دیار غیر میں بسنے والوں کے نام رہا۔ کنیڈا سے صحافی ناہید مصطفیٰ کے مشورے اور کیٹی مرسر کے ٹوٹکے کسی "بلاگر" کے لئے مفید ہوں یا نہ ہوں مجھے ان سے بہت کچھ حاصل ہوا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام سے قبل ہی میں نے جان لیا کہ روایتی میڈیا کے مکارانہ طرز عمل کے مقابلے میں سوشل میڈیا کے بلاگرز کی بے لاگ تحریروں سے معاشرے کی سچی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی حرس و ہوس، ہر لالچ اور دباؤ سے آزاد، ستائش اور ناموری کی تمنا سے کوسوں دور رہ کر حق و سچ کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔

کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سبھی محمود ایاز ایک ہی صف میں میں نظر آرہے تھے، لیکن کبھی کبھی احساس ہوتا جیسے ایک صاحب کو خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے۔ جب ان کی قبل از وقت رخصتی کا اعلان رقت امیز انداز سے ہوا تو میں رہ نہ پایا اور ساتھ کی نشت پر تشریف فرما ایک "ثقہ بلاگر" سے دریافت کیا کہ "یہ کون ہیں اور اس خصوصی برتاو کی وجہ کیا ہے؟" انہوں نے مختصراً بتایا کہ موصوف کا بلاگ ملک کے ایک بڑے نشریاتی و اشاعتی ادارے کی ویب سائیڈ پے پبلش ہوتا ہے۔ مجھے ایک بار پھر جھٹکا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"روایتی میڈیا کا جھوٹ ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سوشل میڈیا کا سچ؟؟" لیکن جلد ہی خود کو سمجھا لیا کہ یہ بھی معرفت کی بات ہو گی اور مجھے تو تصوف کی سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔   

سو باتوں کی ایک بات کہ کانفرنس بہت کامیاب رہی، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ دوستوں کی ڈھیر ساری محبتوں اور موبائل نمبروں سمیت بہت سی یادیں سمیٹی ہیں، یوں میری بلائینڈ ڈیٹ بہت ہی کامیاب رہی۔

Friday, January 25, 2013

عید میلاد۔۔۔۔۔۔ عشق رسول یا کاروبار ؟

آج صبح آفس پہنچ کر اخبارات پڑھنے شروع کیے تو اچانک دل میں ایک ہوک سی اٹھی، اخبارات کے صفحوں پر جمی سرخیاں  مسلم امہ کا حال زار چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام اور املاک کی تباہی کے بعد اب انہیں بردہ فروشوں کو بیچا جا رہا ہے۔ مالی میں اسلامی شرعیت کے نفاذ کا اعلان کرنے والوں پر صلیب کے پجاریوں کی یلغار ہے، شام میں خانہ جنگی کے بعد اب اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت ہو چکی ہے، افغانستان ہو یا شیشان، پاکستان ہو  یا کشمیر عراق و فلسطین ہوں یا یمن، ہر جگہ خون مسلم کی ارزانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اخبارات کا مطالعہ ابھی جاری ہی تھا کہ اسائنمنٹ ڈیسک کا پیغام ملا۔ آج "عید میلاد" کی تیاریوں پر رپوٹ تیار کرنا ہے۔ کیمرہ مین کے ساتھ ایک چھوٹی سی میٹنگ کے بعد طے پایا کہ اس پیکج رپوٹ کی تیاری کے لئے راولپنڈی جانا بہتر رہے گا۔ وہاں آسانی سے کم وقت میں درکار تمام شاٹس اور ساٹ (S.O.T)  مل جائیں گے۔

 یوں ہم راولپنڈی کے بنی چوک کی جانب روانہ ہوئے جہاں آرائشی لائٹس، ساونڈ سسٹمز کے علاوہ ہر قسم کی پرنٹنگ کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔

راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ "مری روڈ" کو چھوڑ کر جیسے ہی ایک ذیلی سڑک کی طرف ٹرن لیا، تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نئی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سبز رنگ کی جھنڈیوں اور جھنڈوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ سبز کپڑے کے کئی میٹر لمبے ٹکڑوں کو سڑک کے دائیں بائیں کی عمارتوں سے باندھ کر یوں تان دیا گیا ہے کہ ایک چھت کا گمان ہو رہا تھا. دیواروں اور دروازوں کو جھنڈیوں کے علاوہ چمکدار پنیوں سے سجایا گیا ہے۔

کیمرہ مین نے در و دیور کو عکس بند کرنا شروع کیا تو میں علاقے کے کاروباریوں سے معلومات اگٹھی کرنے میں مشغول ہو گیا۔ سب سے پہلے آرائشی بتیوں اور ساؤنڈ سسٹم والوں سے رابطہ ہوا، تو پتہ چلا کہ لائٹنگ کی بکنگ تو ہفتوں پہلے مکمل ہو چکی ہے، تاہم کئی سیانے دکاندار اب بھی بلیک میں بکنگ کر رہے ہیں، لیکن اس کے ریٹس شادیوں میں ہونے والی لائٹنگ کے مقابلے میں تگنے چگنے ہیں۔  قیمت کی کسی کو فکر نہیں البتہ دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے لئے پیسوں کے علاوہ سفارش اور دھونس بھی خوب چل رہی ہے۔

لائٹنگ اینڈ ساؤنڈ سسٹم کے دکانداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اگرچہ شادیوں کا سیزن اور 14 اگست بھی ان کے کاروبار کے لئے منافع بخش ایام ہوتے ہیں، لیکن "عید میلاد" کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس مرتبہ یہاں کتنے کا بزنس متوقع ہے؟  یہ سوال پوچھنے پر انہوں نےبتایا! حتمی طور پر کچھ کہنا تو ذرا مشکل ہے، تاہم صرف اس مارکیٹ میں اس دن کے لئے 29 لاکھ روپے سے زیادہ کی بکنگ ہو چکی ہے۔ میری معلومات میں اضافے کے لئے انہوں نے بتایا کہ اب روایتی لائٹنگ کے علاوہ لیزر لائٹنگ اور لانگ رینج ہلوجن لائٹنگ کی بھی بکنگ ہو رہی ہے، ساونڈ سسٹمز میں بھی عام
ایمپلی فائیر اور ہارن لاوڈ سپیکرز کے ساتھ ساتھ اب مکمل "ڈی جے سیٹ" کی بکنگ بھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے سالوں کی نسبت کاروبار کے مالیاتی حجم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔


پرنٹنگ والوں نے بتایا کہ "میلاد" کے دن کے لئے مختلف انداز کی جھنڈیوں کے علاوہ بیجز، سٹکرز اور پوسٹرز تیار کیے جاتے ہیں، ایک ذیلی کاروبار کے طور پر حرم مکی اور مسجد نبوی کے مختلف انداز اور سائز کے "تعزیہ نما" ماڈلز بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ کپڑے اور پینافلیکس کے بینرز اور پس منظر (Backdrops) کی تیاری اس کے علاوہ ہے۔ بنی چوک سے ملحقہ سرکلر روڈ اور اردو بازار میں "میلاد" کے حوالے سے اس سال تقریباً 87 لاکھ روپے کا کاروبار متوقع ہے۔

نعت خوانوں اور دیگر شرکا کو حوصلہ افزائی کے طور پر دی جانے والی ٹرافیوں، شیلڈز اور سوینیرز (Souvenirs) کی فروخت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ میلاد کے روز پہننے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں عربی لباس بھی خصوصی طور پر تیارکیا جاتا ہے، جس کی مجموعی مالیت بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔ جلوسوں کے شرکاء کی سواری کے لئے ٹرک، پک اپ اور ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر اقسام کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ گھوڑوں اور اُنٹوں کی بھی بکنگ مہنگے داموں ہو رہی ہے۔

 اس سال "عید میلاد" کی مناسبت سے ایک نئی جدت "میلاد کیک" خصوصی طور پر متعارف کی گئی ہے، بیکریوں والے "میلاد" کے دن کی مناسبت سے سبز رنگ اور حرمین مکہ و مدینہ کی تصویروں والے کیک تیار کر رہے ہیں، جن کے آڈرز بھی دھڑا دھڑ بک کیے جارہے ہیں، امید ہے کہ کئی لاکھ کے کیک بھی اس روز کے لئے تیار کیے جائیں گے۔ جلوس کے شرکا، نعت خوانوں اور مقررین پر نچھاور کرنے کے لئے نئے کرنسی نوٹوں کی خریداری بھی عروج پر ہے۔

میلاد کمیٹیوں کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ تو دراصل ضمنی اخراجات ہیں۔ عیدِ میلاد کا اصل خرچ تو نعت خوانوں اور مقرروں کا معاوضہ ہے۔ جس کی پیشگی آدائیگی کے بعد ہی وہ جلوس کے راستے میں آنے والے ہر "مقام" پر سرور کائناتﷺ کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کریں گے اور سیرت پاکﷺ پر روشنی ڈالیں گے۔ معروف نعت خوان اور مقرر تو کئی لاکھ روپے معاوضہ طلب کر تے ہیں۔ ان کی بکنگ بھی بلیک میں ہوتی ہے۔ طے شدہ معاوضے کے علاوہ جلوس کے دوران ویلوں اور نچھاور ہونے والے نوٹوں کی شکل میں بھی انہیں خاصی آمدن ہو جاتی ہے۔   

یہ تمام مواد جمع کر کے آفس پہنچ کر جب میں اس رپوٹ کے لئے سکرپٹ لکھنے بیٹھا، تو اچانک خیال آیا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے عشق کے نام پر ہم جو کچھ کر رہے ہیں کیا یہ انﷺ کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے؟؟؟
دل سے صدا آئی ہر گز نہیں۔

تیرے حسن خلق کی اک رمک میرے زندگی میں نہ مل سکی 
میں اسی میں خوش ہوں کے شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
یہ میری عقیدت بے بصر ، یہ میری ارادت بے ثمر
مجھے میرے دعوایٰء عشق نے  نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آپﷺ کو اپنی امت سے جس قدر محبت تھی وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج جب امت کے لاکھوں مرد و زن اور معصوم بچے بھوک اور سردی کے عذاب سے دوچار ہیں۔ ہم عشق نبی ﷺ کے نام پر در و دیوار سجا کر آخرت میں شفاعت کی امید رکھتے ہیں تو یہ ہماری خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ جس نبی ﷺ نے امت کے غم میں لاتعداد راتوں کے کئی کئی پہر آنسوں بہاتے گزارے ہیں، انﷺ کے سامنے قیامت کے دن کیا منہ لے کر جائیں گے۔

ایک لمحے کے لئے یہ خیال آیا اور پھر میں سر جھٹک کر سکرپٹ لکھنے میں مصروف ہوگیا ۔۔۔۔۔ "عید میلاد" نبی ﷺ کو پورے عقیدت و احترام سے منانے کی تیاریاں عروج پر پہنج گئیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلیوں اور محلوں کو دلہن کی ظرح سجا دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, January 6, 2013

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا

کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھے کے پاس جانے کون سا جادو تھا جس کے زور پے وہ لاکھوں نوجونوں کے دلوں میں بستا تھا۔

 آج جب وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا تو پتہ چلا کہ اس کی عمر تو 74 سال ہو چکی تھی ۔ 
لیکن کیا کروں کہ اسے لاٹھی کے سہارے چلتے دیکھ کر بھی کبھی یقین نہیں آیا کہ یہ شخص بوڑھا بھی ہو سکتا ہے۔ یقین آتا بھی تو کیسے؟ میں نے اسے نہ جانے کتنی ہی بار آنسو گیس کے گہرے بادلوں میں ثابت قدم، اور پولیس کی برستی ہوئی لاٹھیوں کے سامنے سینہ سپر دیکھا ہے۔ 

 انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہ صرف وہ خود امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتا، بلکہ دوسروں کے لئے بھی امید کی کرن بن جایا کرتا تھا۔ جوانوں میں بجلیاں بھرنے کا جادو تو اسے آ تا ہی تھا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ضعیف العمر افراد بھی اسکی ولولہ انگریز شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو کر بے خود ہو جایا کرتے تھے۔ 

مجھے آج سندھ کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والا وہ بوڑھا "بابا چانڈیو" بے طرح یاد آ رہا ہے جو اڈیالہ جیل میں لہک لہک کر نعرے لگایا کرتا تھا۔
 ہم بیٹے کس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔    قاضی کے
ہم دست و بازو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے
ہم ساتھ جیئیں گے۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے 
ہم ساتھ مریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے

بینظیر حکومت کے خلاف ہونے والے دھرنے کی پاداش میں با با چانڈیو بھی سینکڑوں دیگر کارکنان جماعت کے ہمرا اڈیالہ جیل میں قید تھا۔  بابا چانڈیو جب نعرے لگا کر تھک جاتا تو ہم پوچھتے کہ بابا! کیا قاضی صاحب آپ سے بڑے ہونگے؟ 
بابا ایک دم جذباتی ہو کر کہتا "ہونگے تو چھوٹے ہی، لیکن اس سے کیا ہوتا ہے، میں ان کا احترام اپنے باپ سے زیادہ کرتا ہوں۔

ایک بابا چانڈیو ہی کیا، بہت ہی قلیل تعداد ان لوگوں کی ہوگی، جن کے دلوں میں اس شخص کے لئے احترام کے جذبات کے سوا بھی کچھ ہوگا۔ میں نے مخالف سیاستدانوں اور مذہبی رہنماوں کو (جو اپنی پارٹی اور اپنے فرقے کے باہر کے کسی شخص کے بارے میں کلمہ خیر کہنے کو گناہ سمجھتے ہیں) قاضی حسین احمد کی تعریف کرتے ہی دیکھا ہے۔ان میں مرحوم شاہ احمد نورانی، حافظ حسین احمد اور چوہدری شجاعت حسین کے الفاظ کا میں خود گواہ ہوں۔

بات اگر عوام کی ہو تو مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق یہاں تک کہ پیپلز پارٹی تک کے ورکروں کو اس بوڑھے کی ہمت اور جرات کو سلام کرتے دیکھا ہے۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ مخالف مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں میں بھی اگر کسی کی بات توجہ اور احترام سے سنی جاتی تھی تو وہ بھی یہی شخصیت تھی، جس کے گرویدہ دیوبندی بھی تھے، شعیہ بھی، اہل حدیث بھی تھے اور بریلوی بھی۔

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا۔ آج "میرے عزیزو" کی صدا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی، "شاندار اسلامی انقلاب" کی نوید سنانے والا اس بستی سے کوچ کر گیا، ظالموں کو مبارک ہو اب "قاضی کھبی نہیں آئے گا"۔

 وہ یقیناً بہت ہی خوش و خرم اس جہان فانی سے رخصت ہوا ہوگا لیکن کون شمار کرے کہ اپنے کتنے بیٹوں کو احساس یتیمی دے گیا ہے۔ کتنی آنکھیں اس کے لئے اشکبار ہیں۔ جن دلوں میں وہ بجلیاں دوڑایا کرتا تھا آج  ان میں رنج و ملال کے سوا کچھ بھی نہیں۔  
آج جب خود کو اس کا دست و بازو قرار دینے والے ہاتھ ہی اسے لحد میں اتار چکے ہیں۔ تو میں سوچ رہا ہوں " اے میرے قائد تیرا بدل کوئی نہیں ہوسکتا۔ 

کون ہے کہ تجھ سا کہیں جسے


کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...