Wednesday, May 17, 2017

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس مقام پر پہنچا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ میں ساتویں صدی سے پندرویں صدی عیسوی کا دور مذہب وابستگی کے عروج کا دور تھا۔ کلیساء کے حکم پر عوام مال و جائیداد ہی نہیں بلکہ اولاد و عیال بھی قربان کر دیتے تھے۔ اپنی جان لُٹانا تو ایک معمولی سی بات تھی۔ مذہب کے لئے یورپ والوں جانثاری کی حقیقت جاننے کے لئے صرف صلیبی جنگوں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ اس دور میں ریاست برائے نام تھی، قوت کا اصل اور واحد ماخذ کلیساء تھا۔ والیانِ ریاست اور ڈیوک وغیرہ کلیساء کے حاشیہ بردار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

تیرویں صدی کے بعد مذہبی پیشواوں نے عوام کی عقیدت اور خلوص کو اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ عوام بے حال ہوئے اور مذہبی پیشواوں کے رہن سہن بادشاہوں سے بھی اعلیٰ ہوتا چلا گیا۔ چرچ سونے اور جواہرات سے بھر گئے۔ خانقاہیں عیاشی کے اڈوں میں تبدیل ہوگئیں۔

غضب یہ بھی تھا کہ مذہبی پیشواں کی ان غلط کاریوں پر انگلی اٹھانے کی جرات کرنے، یا پھر مذہبی پیشواون کی کسی تعبیر سے اختلاف کرنے والے کو گمراہ اور بدعقیدہ قرار دیا جاتا۔ اس "بدعقیدہ" کو مذہبی عقوبت خانوں میں ایسے ایسے الاتِ تشدد سے گزار کر اعتراف جرم کرایا جاتا، جن کو عجائب گھروں میں دیکھ کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اعتراف جرم کے بعد اُس "بدعقہدہ" کو شہر کے کسی مرکزی چوک میں آگ کے الاو میں زندہ جلا دیا جاتا۔ دوسری جانب کوئی بھی امیر اور گناہ گار شخص مذہبی پیشواں کو بھاری مالیت کا خراج دے کر دنیا کے لئے معافی نامہ اور آخرت کے لئے بخشش نامہ حاصل کر لیتا تھا۔

ایسے حالات مذہبی پیشواں سے نفرت کا جنم فطری تھا۔ چونکہ یہ پیشوا اپنی تمام بدعمالیوں کے لئے مذہب کا سہارا لیتے تھے اس لئے عوام میں یہ نفرت مذہب بیزاری کا روپ اختیار کرتی چلی گئی۔ جو آج ہمارے سامنے الحاد کی شکل میں موجود ہے۔ اور جس کے باعث عیسائی مذہب ایک نمائشی رسومات کا پلندہ بن چکا ہے۔

سوچنے کی ضروت ہے کہ آج ہمارے ہاں جو الحاد اور مزہب بیزاری کے بیج پھوٹ رہے ہیں۔ اس کی وجوعات کیا ہیں۔ کیا کہیں مذہبی شدت پسندی، مسلک پرستی، اور مذہبی پیشواوں کی مادیت پرستی سے نم تو نہیں مل رہا؟

کیا ہم یورپ کی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بار تاریخ خود کو مشرق میں دہرا دے۔  

1 comment:

  1. تاریخ دہرا نہ دے نہیں ۔۔۔ تاریخ دہرا رہی ہے ۔۔۔ پاکستان کی ““ کی پوسٹ “ پر ، میڈیا پر ، ایجوکیشن پر ، مدارس میں یہی لوگ بیٹھے ہیں ۔۔۔ جن کو زمانے نے ، ایجوکیشن نے ، مغرب نے اور وقت نے الحاد کا سبق دے دیا ہوا ہے ۔۔۔ اور اب حالیہ اور آنے والی جنریشن سے آپ مذہب اسلام کی توقع نہ رکھیں ۔۔۔اب مذہب نہیں انسانیت کے واویلے کا جنون ہوگا۔۔۔ جو جہنم کے آخری کونے میں لے جائے گا

    ReplyDelete

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...