Friday, December 13, 2013

بنگلہ دیش جنگی جرائم کے ٹریبیونل اور اس کے تحت دی جانے والی سزاوں کی حقیقت


بنگلہ دیش میں منتازعہ ترین عدالتی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ جرنل سکریٹری عبدالقادر ملا کو گزشتہ رات پھانسی دے دی گئی۔ جس کی دنیا کے ہرانصاف پسند انسان شدد مذمت کر رہا ہے۔ عبدالقادر ملا کو ابتدائی طور پر نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کے سیکولر اور بھارت نواز افراد نے اس سزا کو کم کہہ کر اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے تھے۔ جس کے دباو میں آگر بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کے نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے جن اسلام پسند رہنماوں کو سزا سنائی ہے ان میں بی این پی کے صلاح الدین قادر چوہدری کے علاوہ جماعت اسلامی کے پروفیسرغلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی ، علامہ دلاور حسین سعیدی، مولانا ابوالکلام آزاد و دیگر رہنما شامل ہیں۔ جن میں سے مولانا ابوالکلام آزاد کے علادہ تمام رہنما بنگلہ دیش کی جیلوں میں بند ہیں۔

 بنگلہ دیش کی پاکستان سے اعلیحدگی کے 42 سال بعد اس قسم کے متعصب ٹریبونل کا قیام اور اس کے جانبدارانہ فیصلوں کے نتیجے میں سزاوں کا نفاذ دراصل بنگلہ دیش میں برسر اقتدارعوامی لیگ کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش ہے تو دوسری جانب یہ اسلام پسندوں کے خلاف جاری بین القوامی مہم کا ایک حصہ ہے، جسے وہ ’سیاسی اسلام‘ کو دنیا میں شکست دینے کی مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

 وکی لیکس‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی ایک کیبل کے مطابق 18 جون 2009ء کو بنگلہ دیش میں اس وقت کے امریکی سفیر ’ مسٹر موری آر ٹی‘ نے ایک خفیہ پیغام واشنگٹن بھیجا تھا جس میں بتایا گیا تھاکہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ و سینٹرل ایشین افیئرز، مسٹر رابرٹ بلیک جب ڈھاکہ کے دورہ پر آئے تو بنگلہ دیش کی خاتوں وزیر داخلہ ایڈووکیٹ سہارا خاتون ان سے ملاقات کی تھی۔ جس میں انہوں نے مسٹر بلیک سے جنگی مجرموں کے ٹرائل کے حوالے سے معملات طے کیے تھے۔ ملاقات میں بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں امریکی حمایت بھی طلب کی تھی جس پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے مشروط آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ہونے والی یہ تمام کاروائی ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کیوں کے بنگلہ دیش کے قیام کے فوری بعد اس وقت کے صدر اورآزادی کے ہیرو شیخ مجیب حکومت نے کڑی تفتیش کے بعد پاکستانی فوج کے 195 افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے 19 جولائی 1973ء کو بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل ایکٹ پاس کروایا گیا تھا۔ لیکن 9 اپریل 1974ء کو دہلی میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے وزراے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں ان 195 مجرم قرار دیے جانے والے افراد کو بنگلہ دیش کی حکومت نے باقاعدہ طور پر معاف کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ شیخ مجیب کی زیر نگرانی ہونے والی اس تمام کاروائی کے دوران کبھی بھی کسی سویلین کو جنگی مجرم قرار نہیں دیا۔

 جو لوگ بنگلہ دیش بنانے کی مہم میں شامل نہ تھے، اس کے مخالف تھے یا پاکستان آرمی کے ساتھ تھے۔ مجیب حکومت کے کمیشن نے ان سب کو collaborator یعنی تعاون کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہاں میں اس بات کا ذکرکرنا مناسب ہے کہ 1971 میں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے مقامی لوگوں پر مشتمل کئی تنظیمیں تشکیل دیں تھیں ان عسکری تنظیموں میں البدر، الشمس اور رضاکار کے نام اہم ہیں۔ ان تنظیموں کی تشکیل رضاکارانہ اور اس وقت کی حکومت کی رضا مندی سے ہوئی تھی ۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب حکومت نے collaborator قرار دیا تھا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے 24.جنوری 1972ء کو collaborator's orderجاری کیا گیا تھا۔ جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو گرفتاربھی کیا گیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں سے 37 ہزار4 سو 71 افراد پر الزامات عائد کیے گئے۔ جن افراد پر الزامات عاید کیے گئیے تھے ان میں سے 2334 افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ دائر کرنا ممکن نہ ہوسکا تھا۔ کُل صرف 2 ہزار 8 سو 48 افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ جن میں سے عدالت نے 752 کے خلاف جرم ثابت ہونے پر، مختلف سزاؤں کے فیصلے دیے گئے تھے۔ جب کہ 2 ہزار 94 افراد کو باعزت طور پر بری کردیا گیا ۔ بعد ازاں جب نومبر1973ء میں بنگہ دیش کی حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان کیا گیا تو یہ تمام افراد بھی رہا ہو گئے تھے۔

 موجودہ حسینہ واجد کی حکومت نے 42 سال گزرنے کے بعد ملزمان کے خلاف تفتیش کے لیے جو ادارہ بنایا ہے وہ سرکاری پارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس ٹریبونل کے لیے حکومت نے اپنے من پسند ججوں کا تقرر کیا ہے۔ ایک طرف کمزور اور جانب دارکالا قانون تیار کیا گیا اور دوسری طرف اپنے ہی لوگوں کے ذریعے تحقیقات اورپھر من پسند ججوں کا تقرر۔ ان حالات میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس کیس میں انصاف کا کوئی معمولی تعلق بھی ان فیصلوں میں تھا تو یہ حماقت ہے۔ عملاً جو ہوا ہے کہ تفتیشی ٹیم نےاپنی پسند کے لوگوں کو اکٹھا کرکے ،انھیں جھوٹی گواہیاں دلائی ہیں۔ واقفانِ حال اور غیر جانب دار گواہوں کو اس ٹیم نے پوچھتا تک بھی نہیں، بلکہ پولیس کے ذریعے ان کو ہراساں کرکے بھگانے کے لیے کوشاں رہتی ہے ۔ یہ سب واقعات اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس طرح ٹریبونل کی یہ کارروائی پہلے دن سے عوام کے نزدیک ایک مذاق بن کر رہ گئی تھی۔

Saturday, August 17, 2013

طائفہء منصورہ کے منصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصر کا نوحہ

آج میری حیرت کی کوئی حد نہیں رہی۔ جس طرح میں نے مصر کی سڑکوں پر ان پیکرانِ وفا کو جانیں لُٹاتے دیکھا وہ عقل کو ماعوف کر دینے والا نظارہ تھا۔ حیرت پے حیرت یہ کہ اپنے لہو کی اشرفیوں کو فیاضی سے لُٹانے والے یہ سرفروش اپنی جانبازی پر اتنے نازاں و مسرور تھے کہ ان کی مسکراہٹ ان کے لبوں پر امر ہو گئی تھی۔ اس مسکراہٹ کو ظالم کی شقاوت چھین سکی نا موت کی سختی۔

 یہ حیران کن نظارہ دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ کتنی عظیم ہیں وہ مائیں جنہوں نے ایسےسپوتوں کو جنم دیا۔ پھر انکی ایسی تربیت کی کہ کسی قسم کا خوف انکی کھال میں گُھسنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ کسی ظالم کا ظلم ان کی راہ کھوٹی نہیں کر سکتا۔ اور کسی جابر کا جبر انہیں منزل کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا، اور راہ وفا میں جان لُٹا دینا تو گویا  ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

میرے تخیل نے کچھ مزید پرواز کی تو خیال آیا، ہائے! کیسا عجیب وہ نظارہ ہوگا جب آج یہ اپنی مہربان ماؤں سے رخصت ہوئے ہوں گے۔ جان وارنے والی بہنوں کو آخری سلام کیا ہوگا۔ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آخری بار چوما ہوگا۔ محبت کا دم بھرنے والی شریک حیات کو الوداع کہا ہوگا۔ ضعیف باب سے اجازت لی ہوگی اور اپنے آشیانے پر آخری نگاہ ڈال کر مقتل کی طرف وارفتگی سے چل دیے ہونگے۔

جی چاہا کہ چیخ چیخ کر کہوں! زمانے والو! تم نے منصور حلاج کو بد عقیدگی کے باوجود جرات کا استعارہ بنا ڈالا، کیوں کہ تختہ دار کی طرف اس کی لپک میں والہانہ پن تھا۔ آج آؤ زمانے والو، آج یہاں دیکھو! ہر طرف منصور ہی منصور ہیں ایک دو نہیں، دس بیس نہیں، سو دو سو نہیں، ہزاروں بھی نہیں بلکہ آؤ اور لاکھوں منصور دیکھو۔ آؤ اور طائفہ منصورہ کے منصور دیکھو، عنقریب منصور ہونے والے منصور دیکھو۔

 ان میں کوئی بھی "انا الحق" کے خبط میں مبتلاء نہیں ہے۔ یہ سبھی اللہ اکبر کہنے والے ہیں۔ زرا مقتل کی طرف انکا والہانہ پن تو دیکھو۔۔۔ تم اُس منصور کو بھول جاؤ گے۔ جو پھانسی کا حکم ملنےکے بعد تختہ دار کی جانب لپکا تھا۔ آؤ اور دیکھو، یہ وہ "عشاق الحق" ہیں جنہیں کسی نے سزائے موت نہیں سنائی۔ اگر یہ اپنے گھروں میں رک جائیں تو انہیں ایک حقیر کانٹا چبنے کا بھی امکان نہیں۔ لیکن یہ اپنے رب کی پکار پر گھروں کو چھوڑ آئے ہیں۔ یہ موت کے جام کو لبوں سے لگا کر حیات سرمدی کا لطف لینے کی امید پر آئے ہیں۔

 آؤ، آکر آج قاہرہ میں دیکھو، سکندیہ میں دیکھو، دمیاط میں دیکھو، اسماعلیہ میں دیکھو، پوٹ سعید میں دیکھو۔ آج مصر میں جہاں چاہو دیکھو لو، آج ہر طرف مقتل سجے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتل سجھے ہیں اور یہ چلے آ رہے ہیں۔ یہ شرق اور غرب سے آ رہے ہیں۔ یمین و یسار سے آ رہے ہیں، یہ اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں روشن، ایمان کی چنگاری شعلہ جوالہ بن چکی ہے۔ شہادت کی آزو سے بے تاب ہو کر گھروں سے نکلل آئے ہیں۔ اپنے رب کے دیدار کی امید لے کر نکلے ہیں۔

نادان دشمن انہیں آگ سے بھسم ہونے کا خوف دلاتا ہے۔ لیکن وہ بھول چکا ہے کہ یہ تو اُنہیں راہوں پر رواں ہیں، جن سے کبھی ابرائیم خلیل اللہ گزرے تھے۔ وہ انہیں دھمکیوں اور اسلحے کی شعبدہ بازی سے ڈرانا چاہتا ہے لیکن کیا اسے یاد نہیں کہ یہ موسیٰ کلیم اللہ کے ہم وطن ہیں۔ اس نے انہیں مصائب اور زندان کا خوف دلانے کی کوشش کی، لیکن وہ جانتا نہیں کہ ان کے پیش نظر تو حضرت یوسف کی سنت ہے۔

بس اے "روح فرعونیت" اب وقت پورا ہو چکا۔ اخوان کا لشکر تو اپنے لہو کے "نیل" کو پاٹ کر پار اتر چکا۔ تیرے لئے توبہ کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔ جیزہ میں نئے حرم کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ قاہنوں نے لیلن کے کپڑوں کے تانے بانے بُن لئے ہیں۔ سنکی تابوتوں کی تیاری کا کام کسی بھی لمحے مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر صدیوں بعد ایک اجنبی سیاح جب قاہرہ کے میوزیم میں داخل ہو گا تو یہاں کا گائیڈ اسے کچھ یوں بتائے گا یہ "رعمسیس" کی ممی ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ "آمن جوطف" کی، اِدھر "مرنفتاح" کی ممی رکھی ہے اور اگر ان سے بھی زیادہ شقی القلب انسان دیکھنا چاہتے ہو تو ادھر آو تمیں "سیسی" کی ممی دیکھاؤں۔

Saturday, June 8, 2013

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا کُھلا تضاد

حالیہ الکشن کے دوران پاکستان کی تمام ہی "مذہبی سیاسی" جماعتوں کی جانب سے عوام کو باور کروانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ووٹ ایک مقدس امانت ہے۔ اسے دیانت دار لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ کہا جاتا رہا ہے کہ  ووٹ کی بہت اہم شرعی حیثیت ہے۔ اس کے غلط استعمال پر روز آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ گر کسی ووٹر نے جان بوجھ کر قومی اور ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی اغراض کی وجہ سے نااہل اور بددیانت امیدوار کو ووٹ دیا تو وہ شخص مقدس امانت میں خیانت کا مرتکب ہو گا۔ مزید براں اگر غلط آدمی منتخب ہو گیا تو وہ پانچ سال جتنے بد عمل کرے گا اس کو ووٹ دینے والے اس کے جرائم اور گناہوں میں شریک ہو جائیں گے۔

الیکشن کے نتائج آنے پر یہ ساری جماعتیں ہی شکواہ کناں ہیں کہ عوام نے ووٹ کے استعمال میں اس کے "شرعی" تقاضوں کا خیال نہیں رکھا۔ ووٹ دیتے وقت عوام کی اکثریت نے ذاتی اور گروہی مفادات کو اولیت دی ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی اور دینی جماعتوں کے امیدوار بہت کم تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عوام کی نمائندگی کے لئے منتخب ہو پائے ہیں۔

لیکن خود یہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت ووٹ کے تقدس کے فلسفے اور اس کی آخرت میں جوابدہی کے موقف سے واضع روگردانی کرتی نظر آئی ہیں جب انہوں نے الیکشن کے اگلے مرحلے میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اندر ووٹ کا استعمال کا مرحلہ درپیش آیا ہے۔

جماعت اسلامی نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ جبکہ اسی صوبے میں جے یو آئی مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی ناکام کوشش کر چکی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہی جمعیت علمائے اسلام نے ایک قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حمایت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں دونوں بڑی مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے ووٹ وزارت اعظمیٰ کے امید وار اور مسلم نون کے سربراہ میان محمد نواز شریف کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔

یہاں تضاد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ کل عام انتخابات کے موقع پر جن جماعتوں کو سیکولر، لبرل اور اباجیت پسند کہہ کر عوام کو ان کے امید واروں کو ووٹ نہ ڈالنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اب انہی افراد کو دینی جماعتوں کی قیادت کس معیار پر ووٹ دے کر ملک کی اہم ترین ذمہ داریوں کے لئے منتخب کر رہی ہے؟؟

اگر یہ لوگ واقعی ان مناصب کے لئے اہل ہیں اور مذہبی جماعتوں کی قیادت اگلے پانچ سال کے لئے ان کے عمال کا وبال اٹھانے اور آخرت میں ہونی والی جوابدہی کے لئے تیار ہے تو پھر ایک عام آدمی ان کی ہی پیروی میں براہ راست ان جماعتوں کو ووٹ کیوں نہ ڈالے؟؟؟؟
 

Wednesday, May 8, 2013

چھوٹا بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرعابد نقی خان

چھوٹا بھائی جی وہ چاند بن کر مری چشم تر میں رہتا ہے ٹی ایس ایلیٹ نے سچ کہا ہے کہ ” اپریل سب سے زیا دہ بے رحم مہینہ ہے جو مردہ زمین میں لالہ اگاتا ہے، یادوں کی خواہشوں سے آمیزش کرتا ہے اور ابر بہار کے ذریعے پژ مردہ جڑوں کو جگا تا ہے“
 اسی اپریل کے یہی دن تھے جب ہر طرف کیکر اور دریک کے پھولوں کی مہک پھیلی تھی، بہار اپنے جوبن پر تھی اور شام کے کناروں سے مہکتے شفق میں وہ جانکا واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ جب بھی اپریل کا مہینہ آتا ہے، ان نا قابل فراموش اور ہماری زندگی کی بہاریں چھین لینے والی یادوں کی آمیزش، خوشبوں میں ہر طرف پھیلی محسوس ہوتی ہے۔ یوں بہار کے یہ دن و رات صبح شام گزارنے مشکل ہوجاتے ہیں۔
 اردو کے مشہور افسانہ نگار کے یہ الفاظ  مجھے معلوم نہیں کیوں اچھے لگے تھے۔ پھر میں نے اپنی ڈائری پہ لکھتے ہوئے بالکل نہیں سوچا تھا کہ وہ انہیں امر کر جائے گا” میں ایک پر نشہ وداع کو غمگین وصال پر ترجیح دیتا ہوں یہی وجہ ہے کہ چاہتا ہوں کہ دغدغئہ حیات کو بہار کے پر شوق کے زمانے میں ۔جب پھول کھلے ہوں، دنیا میری طرف ہنس رہی ہو اور میں دنیا کی طرف۔ ایسے میں دنیا کو الوداع کہوں“
ان لفظوں کو حقیقت کا روپ دینے والا اور اپریل کے پر بہاردنوں میں سارے شہر کو ویران کرنے والا ہمارا پیارا حافظ خالد نقی خان جسے عرف عام میں حافظ صاحب اور میں پیار سے” چھوٹا بھائی جی “ کہا کرتا تھا۔ آج اسے پھر یاد کرتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو مرحوم بھی ہوچکے ہوں لکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے کہ دل مانتا ہی نہیں کہ وہ مرحوم ہو چکے ہیں۔ درمیانہ سا قد، چھوٹی چھوٹی ترشی ہوئی داڑھی، خوش گفتار و خوش مزاج، ہونٹوں کے ساتھ آنکھوں سے بھی مسکانے والا، اونچے اونچے سانس لینے اور ہر کسی کو"آو جی" کہنے والا چھوٹا بھائی جی، مرحوم ہوگیا ہے یہ 12 سال پورے ہونے پر بھی یقین نہیں آتا۔
 بچپن ہی سے دینی تعلیم کی طرف راغب خالد نقی خان نے آٹھویں کلاس میں قرآن حفظ کرکے اپنے نام کے ساتھ حافظ کا بھی اضافہ کرلیا تھا۔ صابر شہید پائلٹ سکول سے میٹرک اور حسین خان شہید ڈگری (اب پوسٹ گریجویٹ) کالج سے ایف اے اور بی اے (پرائیویٹ) کرنے والا خالد بھائی درس نظامی کے لئے راولپنڈی چلا گیا اور درس نظامی مکمل کرنے کے بعد 1990میں احباب جمعیت و جماعت کی خواہش کے مطابق دوبارہ راولاکوٹ (آزاد کشمیر) منتقل ہوگیا اور اسلامی جمعیت طلباءکے پلیٹ فارم سے طلباء سیاست میں ایک مثالی کردار اد اکرتے ہوئے ناظم مقام راولاکوٹ رہا۔
 جمعیت سے فراغت کے بعد اختتام زندگی تک جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر ذمہ دار کارکن کی حیثیت سے تحریک اسلامی کے کام میں مگن رہا۔ خالد بھائی یادگار کردار کی صورت ہر طرف یادیں بکھیرتا چلا گیا۔  انیس سو اٹھانوے میں جب میں نے دبستان (ایک مقامی تعلیمی ادارے کا نام) میں بطور معلم کام شروع کیا تو 2 سال پہلے سے پڑھانے والے خالد نقی خان کو طلباء اس طرح چاہتے ہوں گے یہ اندازہ نہیں تھا۔ طلباء کے ساتھ اس کی نرم مزاجی اور شفقت مثالی تھی پھر تحریک کشمیر میں حصہ ڈالنے کے لئے قطر گئے تو اس دلجمعی کے ساتھ کام کیا کہ بالآخر بھارتی سفارتخانے نے انہیں ان سرکل(incircle) کر کے خصوصی کوششوں کے بعد زبردستی واپس پاکستان کے سفر پر روانہ کرایا۔
خالی ہاتھ پاکستان پہنچے اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر کے کے مارکیٹنگ سروسز کے نام سے کاروبار کیا۔ سات ماہ کے اندر ہی ریکارڈ بزنس کر کے اپنے آپ کو کامیاب تاجر منوایا۔ غرض خالد بھائی کسی بھی فیلڈ میں گیا اس نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ہجوم آبادی نہیں۔ جمیعت طلباءعربیہ ہو کہ اسلامی جمیعت طلباء یا جماعت اسلامی، سارے کارکنان خالد بھائی کے جداگانہ رول کے گواہ ہیں۔
خالد بھائی مرحوم ہونا دراصل تحریک اسلامی کا ایک تربیت یافتہ وپختہ فکر اور ایک بالغ نظر اور غیر معمولی صلاحیتوں والے کارکن سے محرو م ہونا ہے۔ صرف تحریک اسلامی  ہی نہیں بلکہ ہمارے سارے رشتہ دار، اہل محلہ و علا قہ اب خالد بھائی ایسے ساتھی سے محروم ہوگئے جو شاید صرف دوسروں کے لئے جینے کا ہنر جانتا تھا۔
 اس بات کا اندازہ اس لمحے ہوا جب خالد بھائی کے دفنانے کے بعد تعزیت کے لئے آنے والے اس کے دوستوں سے ملاقات ہوئی ۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ خود روؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا انہیں چپ کراوں۔  پھر خالد بھائی کی وفات کے بعد اس کے مسجد کے ساتھیوں میں سے حافظ گوہر رحمان صاحب کے تعزیتی خط سے اندازہ ہوا کہ خالد بھائی کا اپنے دوستوں کے ساتھ کیسا گہرا جذباتی تعلق اور ان پریادگار اثرات تھے جنہوں نے لکھا تھا کہ "یوں تو کئی سال ہوئے خالد بھائی سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن وہ ہرلمحہ میرے ساتھ تھے اور اب جب اخبار میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو ایسے لگا جس طرح میرے حقیقی بھائی مجھ سے جدا ہو گئے ہوں ۔
 خالد بھائی کے حادثے اور پھر 30 اپریل کی صبح ان کے اختتام دنیا کے وقت میں پشاور یونیورسٹی میں تھا گھر والوں نے مجھے اطلاع دینے کے لئے میرے پیارے دوست حسان (مرحوم ) کی ذمہ داری لگائی ۔ حسان نے مجھے بتانے کے بجائے خود رونا شروع کیا اور کہا کہ اس کو فورا گھر پہنچنا ہے ۔ راولاکوٹ سے کچھ فاصلے پہلے تک میں اس کو ہی تسلیاں دیتا آیا لیکن جب راولاکوٹ شہر میں پہنچے تو خالد بھائی کے جسد خاکی کو صابر شہید اسٹیڈیم لایا جا رہا تھا ۔ میرے قدموں تلے سے تو زمین نکل ہی چکی تھی لیکن انسانوں کا ایک جم غفیر سنسان شہر آہیں اور سسکیاں آخری دیدار کے لئے بے قرار ہزاروں آنکھوں اور ہر طبقہ فکر اور شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت آزاد کشمیر اور پنڈی اسلام آباد سے آنے والے چیدہ چیدہ افراد کی شمولیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بھائی جی جسے ہم گھر میں سادہ بھائی کہتے تھے کتنے جامع کمالات اور تعلقات کے حامل شخصیت تھا۔ راولاکوٹ کی تاریخ کے چند بڑے جنازوں میں ایک اس کی نماز جنازہ بھی تھی ۔

استاد محترم ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کے تاثراتی الفاظ کچھ اس طرح ہیں "حافظ خالد نقی جیسے نوجوانوں کا یوں اٹھ جانا اگرچہ خدا کی مرضی ہے اور یہی ہمارے لئے تسلی اور تشفی کا باعث ہے لیکن ظاہری اسباب کے سحر میں گرفتار معاشرے کے لئے یہ ایک عظیم سانحہ ہے ایسے نوجوانوں کا نام حافظ خالد نقی تھا لیکن شہادت کے انعام سے سر خرو ہونے کے بعد وہ ایک زندہ بیدار جذبہ و احساس بن گیا ہے محبت خلوص امن آشتی ٹھنڈک سکون و راحت کا جذبہ حوصلے و قار متانت سپردگی جانفروشی پختگی سعادت و شہادت کا جذبہ انہی جذبوں کا نام خالد نقی تھا"۔

 آج خالد بھائی ہمارے درمیان موجود نہیں ہمارے گھر کے بالکل سامنے ہی مغرب کی طرف وہ ابدی نیند سو رہا ہے اس کے پیکر خاکی کو ہماری پیاسی آنکھیں اگرچہ دیکھنے سے قاصر ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ چھوٹا بھائی جی ہمارے درمیان ہی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماکر درجات بلند فرمائے ۔ آمین

Thursday, April 25, 2013

ہمیں یاد ہے وہ زرا زرا ، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

آج جب سابق فوجی ڈیکٹیٹر پرویز مشرف کا وکیل اور اس کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کا سینیر رہنما احمد رضا قصوری سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر سابق صدر مشرف کا دفاع کرتے ہوئے رو پڑا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ماضی میں کئی بار پرویز مشرف سے دبئی میں ملاقات کی اور دیکھا کہ پرویز مشرف اپنی والدہ کو روٹی کے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر دیتا تھا۔

مگر مچھ کے انسو بہاتے اس شخص کو دیکھ کر مجھے اسی سپریم کورٹ کے باہر کھڑی وہ روحیفہ بی بی بہت یاد آرئی ہے جس کے تین بیٹوں کو لاہور ہائی کورٹ باعزت رہا کرنے کا حکم دے چکی تھی لیکن خفیہ اداروں نے ان سمیت گیارہ قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اغوا کرلیا تھا۔

ایک بیٹے کو سرکاری ہراست میں قتل کیے جانے کے بعد  بوڑھی ماں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ خفیہ ادارے اس کے بیٹوں کو باری باری مارنے کی بجائے ایک ہی دفعہ مار دیں تاکہ وہ اپنے تینوں بیٹوں کو ایک ساتھ ہی دفن کرکے ان کی فکر سے آزاد ہو جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جب 3 فروری کو انہیں سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تو روحیفہ بی بی نے اپنے بیٹوں عبدالماجد اور عبدالباسط کے ساتھ ملاقات کی تو ان کے لاغر چہرے اور زخم زخم جسم دیکھ کر رو پڑی تھی۔ بے پناہ تشدد کے باعث یہ اپنے پاوں پر کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ اپنے دونوں بچوں کی حالت دیکھ کر روحیفہ بی بی کی زبان سے ان سب کے لئے بددعائیں نکلیں جنہوں نے قومی سلامتی کے نام پر ان دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

مکاری سے بھرپور ان انسوں کو دیکھ کر آمنہ مسعود جنجوعہ کی معصوم بیٹی میری نظروں کے سامنے آجاتی ہے جو جبری گمشدہ افراد کے لئے لگائے جانے والے ہر کیمپ میں اپنی آنکھوں میں دنیا جہاں کی اداسی سمیٹے پوچھتی رہتی ہے کہ میرے ابو کب آئیں گے؟؟ ان کا وہ کون سا قصور ہے جس کی وجہ سے انہیں ہم سے دور کردیا گیا ہے؟؟
اور یہ معصوم کلی کوئی تنہا تو نہیں، اس جیسے دیگر ہزاروں بچے ملک کے کونے کونے میں یہی سوال کر رہے ہیں۔ اور صرف بچے ہی نہیں کتنے ہی بوڑھے والدین ہیں جن سے ان کے بڑھاپے کے سہارے کو چھین لیا گیا ہے، کتنی وفا شعار بیویوں کی نگائیں اپنے سہاگ کی راہ دیکھتے ہوئے پتھرا چکی ہیں۔ کتنے بہنوں سے انکے بھائی جدا کیے گئے۔
یہ سب اس شخص کی ہدایت پر اپنائی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
 
 کبھی ڈاکٹر عافیہ کی بیٹی اور بیٹا سراپہ سوال بن کر میرے سامنے آکر پوچھتے ہیں کہ ہماری ماں کو اغواہ کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا، جہاں انہیں ناکردہ جرم میں 86 سال کے لئے پسِ دیوار زندان دھکیل دیا گیا ہے، اب جو ہم ساری زندگی اپنی ماں کی ممتا سے محروم رہیں گے، آخر ہم نے یا ہماری نے وہ کون سا قصور کیا ہے جس کے باعث ہمیں یہ سزا ملی ہے؟ کبھی ڈروان حملوں میں مرنے والے معصوم بچوں کے والدین سامنے آ رہے ہیں جن کے جگر گوشے اس ایک شخص کی جانب سے امریکوں کو دی گئی اجازت کی وجہ سے مسلسل قتل کیے جا رہے ہیں۔    

میں سوچ رہا ہوں کہ کیا اس شخص کے باعث ازیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہزاروں لوگوں میں سے کوئی ایک بھی کسی عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے؟؟ کسی ایک پر دہشت گردی کی کی دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے؟؟ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج تو کیا کسی مجرم کو بھی حبس بے جا میں رکھنے کا ملزم ہے؟؟ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی قتل کے الزام میں ماخوذ ہے؟؟ کیا ان میں سے کسی ایک پر بھی ملک کی اعلیٰ عدالت غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دے چکی ہے؟؟؟

یقیناً ایسا کچھ بھی نہیں،  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے مشرف کو ایک بہادر کمنڈو ثابت کرنے کے لئے یہی مکار شخص میڈیا کو بتا رہا ہے کہ عدالت کی جانب سے گرفتاری کا حکم پاوں تلے روند کر اپنے محل نما گھر میں کافی اور سنگار سے لطف اندوذ ہو رہا ہے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ جعلی بہادری کی نمائش فائدہ مند نہیں ہے تو اب ایک نیا ڈرامہ شروع کر کے آنسو بہا رہا ہے کہ بہادر کمانڈو کو 4 دن اپنےہی محل میں قید رہنے کے بعد اماں کی یاد آنا شروع ہو گئی ہے۔

لیکن یہ مگر مچھ کے آنسو  اب کوئی نیا ہیرو نہیں تشکیل دے سکتے، اب اس ملک میں عوام با شعور ہو چکے ہیں !! خبردار اے اہل پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لال مسجد میں قتل عام پر خاموشی کا گناہ آگے ہی تمھارے گلے پڑا ہوا ہے کہیں اس کے قاتل کو ہیرو سمجھ کر اس کے وبال میں اور نہ آجانا، بے گناہ لوگوں کے قاتل کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہوتے

Friday, March 8, 2013

میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کی حقیقت


وطن عزیز میں ان دنوں میڈیا ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی آزادی کا ڈھول کچھ زیادہ ہی  پیٹا جانے لگا ہے۔ خصوصا میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا چرچا جس شد ومد سے کیا جا رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی ڈر لگتا ہے کہ کوئی سادہ مزاج اسے حقیقت ہی نہ سمجھ لے۔ اور پھر نتائج اس کے پورے خاندان کو بھگتنے  پڑیں۔ اس لئے یہی مناسب سمجھا کہ سب کو ’اپنی‘ یعنی میڈیا والوں کی اوقات کُھل کر بتا دی جائے اور ساتھ ہی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی آزادی کی حقیقت کے  بارے میں اشاروں کنائیوں میں  نشاندہی کر دی جائے تاکہ کوئی نووارد لکھاری غلط فہمی میں مارا نہ جائے۔

 پاکستان میں میڈیا بہت ہی آزاد ہے لیکن اگر اس کی آزادی کے خد و خال پر سطعی نظر بھی ڈالی جائے تو حقیقت بہت جلد واضع جاتی ہے۔ اس آزادی کا حدود اربعہ کچھ کمزور سیاسیدانوں کو گالیاں دینے اور بے ضرر قسم کے سرکاری محکوں کے افسران اور اہلکاروں کے بارے میں حقائق منظر عام پر لانے تک محدود ہے۔ جب بھی کوئی عاقبت نااندیش صحافی اس حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے فوراً ہی اس کی اصل اوقات بتا دی جاتی ہے ۔

 میڈیا کی آزادی کے بارے میں اسی غلط فہمی کا شکار ہوکر ایک سیاسی جماعت کے بارے میں لب کشائی کرنے والے ’ولی خان بابر‘ کو "سیاسی نامعلوم افراد" نے سبق سکھایا تھا۔ اسی طرح کراچی کے مہران ائیر بیس پر حملے سے متعلق  اہم سرکاری رازوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرنے والا سلیم شہزاد "سرکاری نامعلوم افراد" کے ہاتھوں عبرت کا نشان بن گیا تھا۔

 اس لئے اب میڈیا بہت سیانا ہو گیا ہے، اگر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے "رضاکارانہ طور پر" کاروبار بند کرنے کی اپیل کے فوری بعد اسی سیاسی جماعت کے جھنڈے اٹھا ئے لوگ فائرنگ کرکے دکانیں زبردستی بند کراتے نطر آئیں تو بھی انہیں نامعلوم ہی بتایا جاتا ہے۔

 اسی طرح اگر کامرہ ائیر بیس پر حملے کے فوراً بعد اگر بتایا جائے کہ حملہ آوروں کو بیرونی دیوار عبور کرنے سے پہلے ہی اگلے جہان پپہنچا دیا گیا ہے تو میڈیا داد و تحسین کے ڈونگرے پرسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ ہاں اگر کچھ عرصے بعد بیان آجائے کہ اس حملے میں 20 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا تو کوئی بال کی کھال اتارنے والا صحافی  یہ پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتا کہ آیا یہ نقصان ائیر بیس کی بیرونی دیوار کے باہر لگی گھاس کے حملہ آوروں کے قدموں تلے مسلے جانے سے ہوا ہے؟؟؟؟  یہ بھی توآخر اہم قومی سلامتی کا راز ہی تو ہے۔

عدلیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت محتاط ہونا پڑتا ہے کیوں کہ عدلیہ اپنی توہین کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہے۔ شاہد اسی حساسیت کے باعث وہ وزیر اعظم کو تو عدالت میں طلب کر لیتی ہے لیکن بلوچستان امن و امان کیس میں کمانڈنٹ ایف سی، کراچی بد امنی کیس میں ڈی جی رینجرز اور زبردستی گمشدہ افراد کے کیس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان کو طلب نہیں کرتی۔ اسی طرح فوجی عدالت سے سزا یافتہ برگیڈئیر علی اہلیہ کا بیان اخبارات کی زینت بنا ہے کہ انکے شوہر کو فوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود فوجی عدالت سے سزا سنائے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخوست دائر کی تھی جو ایک سال سے کم عرصے میں 9 ججوں کے پاس سماعت کے لئے جا چکی ہے لیکن کوئی ایک بھی  سماعت کے لئے تیار نہیں ہوا۔ 

الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اور ملک کا نامور ترین قانون دان جناب فخر الدین جی ابرائیم سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں نئی اتخابی حد بندیوں کے حکم پر عمل درامد کی یقین دھانی کرائی تھی۔ دو دن بعد ان کی ملاقات چیف آف آرمی سٹاف جرنل اشفاق پرویز کیانی سے ہوئی۔ چند منٹ کی ملاقات میں سپہ سالار نے آئین و قانون کی وہ تشریحات بیان کیں کہ فخرو بھائی کو اپنی عدالتوں کی راہ داریوں میں گزرے 65 سال وقت کا ضیاع محسوس ہوئے۔ انہوں نے فوراً اعلان فرما دیا کہ مردم شماری کے بغیر نئی انتخابی حد بندیوں کی ملک کا آئین اجازت ہی نہیں دیتا۔

پہلے زمانے میں بادشاہوں کے سامنے کسی ناگوار بات کو زبان سے نکالنے سے پہلے درباری جان کی امان طلب کر لیا کرتے تھے۔ لیکن اب تو جمہوریت کی برکات سے عوام سپریم پاور ہو چکے ہیں لہذا یہ چانس بھی جاتا رہا ہے۔ اس لئے اب جو آزادی اظہار کے پراپگنڈے کا شکار ہو گا وہ اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے۔
 ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہم مجبوروں پے ناحق تحمت ہے مختاری کی

Monday, February 18, 2013

کوئٹہ دھماکہ اہل تشیع پر حملہ یا جمہوریت کے خلاف سازش ؟

کوئٹہ میں ایک بار پھر ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مرنے والے 85 افراد کی لاشوں کے ساتھ لواحقین نے دھرنا دیا ہوا ہے۔ مظاہریں کا مطالبہ ہے کہ صوبہ بلوچستان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اپنے مطالبے کی منظوری تک وہ دھرنا ختم کریں گے نہ لاشوں کی تدفین کریں گے۔ بلوچستان میں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی، کوئٹہ یکجہتی کونسل، مجلس وحدت المسلمین، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان اور تحفظ اعزاداری کی اپیل پر ہڑتال ہے۔

 اخباری اطلاعات کے مطابق  ہڑتال کی حمایت ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریکِ انصاف اور دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔ کوئٹہ میں دھرنا دینے والوں سے یکجہتی کے لئے ملک کے مختلف شہروں میں جگہ جگہ دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی اس دوران ملیر میں ایک گاڑی کو بھی آگ لگادی گئی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ٹائر جلائے گئے، ملیر میں احتجاج کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت بھی تاخیر کا شکار ہوگئی جبکہ ملک کے اکثر شہروں مین ٹریفک جام ہے اور لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ 

یہ دوسرا موقع ہے کہ کوئٹہ میں اس نوعیت کا دھرنا دیا جا رہا ہے اس سے قبل 10 جنوری کو دیے جانے والے ایسے ہی ایک دھرنے کے نتیجے میں بلوچستان کی صوبائی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا تھا۔ جبکہ فوج  کے ادارے "فرینٹیر کور" کو پولیس کے اختیارات دے کر اسے صوبہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔  

اس طرح لاشیں سامنے رکھ کر دھرنا دینے کا یہ ملک میں پہلا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی ہی حکومت کو برطرف کر ڈالا۔ اس دھرنے کو ایک جانب میڈیا نے بھرپور کوریج دی دوسری جانب انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ملک کی سول سوسائٹی نے اس کا کھل کر ساتھ دیا۔

شاید اس طرح لاشوں کے ساتھ دھرنے کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے ہی خیبر ایجنسی میں فوج کی کاروائی میں مرنے والوں کی لاشیں سامنے رکھ کر ان کے لواحقین نے بھی خیبر پختونحواہ کے گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کی کوشش کی تھی۔ ان مرنے والوں کے لواحقین الزام عائد کر رہے تھے کہ ان افراد کو فوج نے گھروں سے نکال کر قتل کیا گیا ہے، انکا مطالبہ تھا کہ اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

لیکن کوئٹہ کے برعکس خیبر پختونخواہ کی پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کرکے لاشوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جنہیں مبینہ طور پر 15 ہزار فی لاش "بطور جرمانہ" رشوت لینے اور دوبارہ ایسی حرکت نہ کرنے کا اقرار نامہ لکھوانے کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا۔ خیبر پختونخواہ والے اس دھرنے کا میڈیا نے مکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور ملک کی سول سوسائٹی بھی اس پورے منظر میں کہیں نظر نہیں آئی۔

اگر ان دو دھرنوں کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں صرف مظلوم ہونے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ احتجاج کرنے کا حق، میڈیا کی توجہ، سول سوسائٹی کی امداد اور مطالبات کی کامیابی کی توقعات کے لئے کچھ اور لوازمات بھی ضروری ہیں جن کا تذکرہ پھر کبھی سہی ۔

 اگر دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کے اعداد و شمار کا سالانہ یا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ دلچسب  حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کی تعداد اسی عرصے میں کراچی اور پشاور میں دہشت گردی کے نتیجے میں مرنے والوں سے کہیں کم ہے۔ 

کوئٹہ میں لاشوں کے ہمرا دیے جانے والے سابقہ دھرنے کے نتیجے میں حکومت کی برطرفی نے ایک آئینی خلا پیدا کر دیا ہے۔ الیکشن کے انعقاد سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نگران حکومت کا تقرر ایک آئینی تقاضہ ہے، جس پر عمل حکومت کی برطرفی اور اسمبلیوں کی معطلی کے بعد ممکن نہیں رہا۔ آج ایک بار پھر مظاہرین لاشوں کے ہمرا دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ شہر سمیت پورے صوبہ بلوچستان کا کنٹرول مکمل طور پر فوج کے حوالے کیا جائے۔ جو صوبے میں مارشل لاء کا نفاذ کی ایک صورت ہوگی۔

عملاً  اس وقت کوئٹہ میں فوجی ادارے "فرنٹیر کور" کو پہلے سے حاصل خصوصی اختیارات کے علاوہ اب پولیس کے تمام عمومی اختیارات بھی مل چکے ہیں۔ جبکہ "فرنٹیر کور" کے علاوہ  فوجی انٹیلی جینس ادارے بھی کوئٹہ میں مصروف عمل ہیں۔ لیکن امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور دھماکوں کی روک تھام کے لئے کسی قسم کی مثبت کارکردگی کا مظاہرہ تا حال دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبے کا انتظامی کنٹرول اگر فوج کو مل گیا تو ان کے ہاتھ وہ کون سا "الہٰ دین کا چراغ" آ جائے گا جس کو رگڑ کر وہ دہشت گردی پر قابو پا لے گی۔  

یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے گورنر نواب ذولفقار مگسی نے ملک کے سکیورٹی اداروں کو اس واقعے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو وہ نااہل ہیں یا پھر دہشت گردوں سے خوف زدہ ہیں۔ کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خورشید شاہ نے بھی کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔

دہشت گردی کی ہر کاورائی جو خواہ کسی کی جانب سے بھی کی گئی ہو یقیناً قابل مذمت ہے۔ لیکن دہشت گردی کی آڑ میں الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کرنے اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم کسی فرد، گروہو یا ادارے کی جانب سے مارشل لاء کے نفاذ کی خوائش اور کوشش کو سختی سے رد کیا جانا چاہیے۔ 

 اس وقت سیاسی جماعتوں کا امتحان ہے کہ وہ جمہوریت کے خلاف ہونے والی اس سازش سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہیں۔ جبکہ میڈیا کے ذمہ داران کے لئے بھی یہ اہم ہے کہ وہ جمہوریت کی بقا کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ تاکہ الیکشن کا بر وقت انعقاد ہو سکے اور ملک ایک بار پھر آمریت کے منحوس شکنجے میں جانے سے بچ جائے۔   


Thursday, February 14, 2013

ویلنٹائن ڈے تہذیبوں کی جنگ کا ایک اہم ہتھیار

14 فروری کو منائے جانے والے یوم محبت یا ویلنٹائں ڈے کی ابتداء کہاں اور کیوں ہوئی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی جڑیں تاریخ کے دھندلکوں میں وہاں پیوست ہیں جہاں تاریخ میں روایات اور دیو مالائی کہانیاں یوں گڈ مڈ ہو جاتی ہیں کہ حقییقت اور افسانے کا پتہ چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔

کہیں اسے یونان کی رومانی دیوی '' یونو '' ( دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی) کا مقدس دن مانا جاتا ہے، کئی لوگ اسے" کیوپڈ "(محبت کے دیوتا)اور "وینس"(حسن کی دیوی)سے موسوم کرتے ہیں جو کیوپڈ کی ماں تھی۔ کہیں اس کے تانے بانے رومیوں کے "لپرکالیا فیسٹیول" سے ملائے جاتے ہیں جو زمین اور عورتوں کی زرخیزی کا دن سمجھا جاتا تھا۔ اس روز نوجوان عورتوں کو کوڑے مارے جاتے تھے تاکہ وہ زرخیز ہو جائیں، اور اِسی روز روم کی کنواری  لڑکیوں کے ناموں کی پرچیاں ایک بڑے مرتبان میں ڈالی جاتیں، جنہیں رومی سوما نکالتے، جس لڑکی کے نام کی پرچی جس سوما کے ہاتھ آتی وہ اس روز اس کی ہوس پوری کرنے پر مجبور ہو جاتی۔  

مسیحی دنیا میں اس یوم کی ابتداء کے حوالے سے دستیاب تمام  ہی حوالہ جات غیر مستند ہیں۔ عیسائیوں میں ویلنٹائن نام کے کم ازکم تین نامور افراد تاریخ میں ملتے ہیں۔ جن کی داستان حیات  یکثر مختلف ہیں۔ تاہم جہاں مذہب عیسوی کو رواج دینے کے لئے دیگر بدعتوں کو اپنا لیا گیا وہیں "پوپ گیلاسیس" نے498 عیسوی کے لگ بھگ ہر سال14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کی عید منانے کا اعلان کر دیا۔

یوپ نے ہوس پرستی پر مبنی اس دن کو عیسائیت میں داخل تو کر لیا لیکن اس کے لئے کسی قسم کی عبادات  وضع نہیں گئیں۔ جلد ہی اٹلی میں دین نصرانی کے عالموں نے اس روز سے وابسطہ رسومات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اِسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دے کر ناجائز قرار دے دیا۔ کلیساء کے اس گومگو طرز عمل کے برخلاف عیدِ ویلنٹائن کا تہوار عیسائی دنیا میں کبھی بھی فروغ نہیں پا سکا۔
 
رائج الوقت ویلنٹائں ڈے کا آغاز پندرویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب یورپ "نشاہ ثانیہ" کے عمل سے گزر رہا تھا۔ کلیساء کے جامد اعتقادات کے بجائے سائنس کے جدید تصورات دلوں میں جاگزین ہو رہے تھے۔ پادریوں کے سخت گیر رویے کے باعث بلآخر وہ  وقت آ پہنچا تھا کہ مذہب سے وابسطہ ہر عمل اور رواج دقیانوسیت کی علامت بن کر رہ گیا تھا۔ ایسے میں لادینیت کے علمبرداروں نے شادی بیاہ کے روایتی تصور کو دھنلانے اور خاندانی نظام کو کمزور کرنے کی خاطر عہد قدیم کے "آزاد ہوس پرستی" کے تہوار کا احیاء ویلٹائن ڈے کے عنوان سے کیا۔  

اسے ایک باقاعدہ تحریک کی شکل فرانس کی شہزادی "پرنسس آف ایزابیل" نے سن 1400ء میں دی۔ جلد ہی یوم محبت مغربی یورپ میں مقبول ہو گیا۔ 1797 میں یوم محبت کے عنوان سے "محبوب کوخطوط لکھنے" کی رسم کا آغاز ہوا۔ جس نے بعد میں ویلٹائن کارڈ کی شکل اختیار کرلی۔ جو موجودہ وقت  میں کرسمس کے بعد سب سے زیادہ کارڈز دینے کا دن بن چکا ہے۔ کارڈرذ کے علاوہ دیگر تحائف کے اعتبار سے یہ روز کمائی کا بھی ایک بہت اچھا زریعہ ہے۔

یوم محبت اور اس سے وابسطہ رسومات نے یورپ کے معاشرے پر بہت ہی سنگین اور دیر پا اثرات مرتب کیے، یورپ میں خاندانی نظام کی مکمل تباہی عمل میں آئی، آزاد جنسی تعلقات اور ہم جنس پرستی نے فروغ پایا، شرم و حیا کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

 ایک انتہائی دلچسب حقیقت یہ ہے کہ یورپ دو صدیوں سے زاید عرصے تک مشرق اور بلاد اسلامیہ پر قابض رہا لیکن اس استعماری دور میں ویلنٹائن ڈے کو مقبوضہ ممالک میں رواج دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے اختتام تک مغربی یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے علاوہ اس کا وجود دنیا کے دیگر خطوں خصوصاً اسلامی ممالک میں سرے سے نہیں تھا۔

ویلنٹائن ڈے کو مشرقی ممالک خصوصاً اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے آخری عشرے میں فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ جس کی بنیادی وجہ اسلامی دینا میں بڑھتا ہوا اسلام پسندی کا رجحان تھا۔ کمیونیزم کی شکست و ریخت کے بعد اب مغرب کے مدمقابل اسلامی تہزیب کا عفریت تھا۔ جس کی روک تھام کے لئے دینا میں تہزیبوں کے تصادم کے نظریے کو جنم دیا گیا۔

اگر مغربی تہذیب کی اور اسلامی تہذہب کی ہیت ترکیبی پر غور کیا جائے تو بات اور بھی واضع ہو تی ہے۔ اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز عفت، پاکدامنی، حیا اور خاندانی نظام ہے۔ جبکہ مغربی تہذیب مذہب بیزاری اور جدیدیت کی رو میں ان خصوصیات سے مکمل طور پر عاری ہو چکی ہے۔

امریکہ پر ہونے والے نو گیارہ کے حملوں کے بعد تہذیبوں کی یہ کشمکش ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی ممالک آتش وآہن کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اسلامی دنیا پر حملہ آور ہوئے۔ وہیں اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کے کلچر کے خلاف بھی کھلا اعلان جنگ کر دیا گیا۔

 اس جنگ کے حربوں کے طور پر مردوں کی داڑھی اور خواتیں کے حجاب کو مذاق کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پیغمبر اسلام اور قران مقدس کی شان میں بار بار گستاخی کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے دلوں سے ان کا احترام کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ شرعیت کو ایک پسماندہ اور گھٹن زدہ نظام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔  لیکن اس جنگ کا  اصل ہدف یہاں کا خاندانی نظام اور عفت و حیا کا تصور ہے۔      

سرسری طور پر دیکھنے سے بھی نظر آتا ہے کہ موبائل فون کے سستے نائٹ کال پیکجز اور ایس ایم ایس پیکجز ہوں یا ہر روز منعقد ہونے والے گانے بجانے کے پروگرامات۔ ٹیلی ویژن پر آنے والے اشتہارات ہوں یا ڈرامے، مارننگ شوز ہوں یا نوجوانوں کے پروگرامات، سب میں فروغ ایک ایسے حیا باختہ کلچر کو دیا جا رہا ہے جو ہماری تہذیبی اقدار سے ذرا بھی میل نہیں کھاتا۔ اور جس کا واحد مقصد عفت و عصمت کے تصور کو مٹانا ہے

ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت کو بھی ہمارے ہاں اسی تہذیبی جنگ میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ جس سے ایک جانب تو بے حیائی پروان چڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب معاشرے میں خاندانی نظام کی بنیادوں پر ضرب لگ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ عمل اپنی ابتدائی سطح پر ہے تاہم اس کے اثرات معاشرے میں کھلے بندوں دیکھے جا سکتے ہیں۔

خاتون دوست (Girl Friend) اور مرد دوست (Boy Friend) کے الفاظ اب ہمارے کانوں کے لئے غیر مانوس نہیں رہے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہفتوں پہلے سرخ رنگ کے تحائف دکانوں پر نظر آنا شرع ہو جاتے ہیں۔ 14 فروری کے روز سرخ غباروں اور سرخ پھولوں کی فروخت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والوں چند ہزار افراد کو چھوڑ کر نہ تو یہ پھول اور تحائف دینے والے اپنے گھروں اور خاندانوں میں اس بات کا تزکرہ کھلے بندوں کر سکنے کی ہمت رکھتے ہیں اور نہ ہی لینے والے۔

ویلنٹائن ڈے کے موقع پر خواتین کو ملنے والے تحائف کی وجہ سے کئی گھروں میں بہت ہی سنگین نوعیت کے حادثات جنم لے چکے ہیں۔ صرف اسلام آباد میں کیے گئے ایک سروے میں کم ازکم پچاس سے زیادہ خود کشی اور ڈھائی سو سے زیادہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی وجوہات میں ویلنٹائن ڈے کے تحائف کا اہم کردار ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی سنجیدہ نوعیت کی  تحقیق کی جائے تو ہوش ربا انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔  

 اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو مغرب کے اس حملے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے خلاف اب کھل کر میدان میں آنا ہو گا۔ اس کے لئے چند اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جو دکاندار اس کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں انہیں سمجھایا جائے اور اس سے باز رکھنے کے لئے معاشرتی دباو ڈالا جائے۔ اپنے بچوں اور دیگر فیملی ممبرز کو اس کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔ ان ٹی وی چینلز کو خطوط، ای میل کے زریعے فیڈ بیک دیا جائے کہ اسے ہم ناپسند کرتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ان کے مقامی دفاتر کے سامنے مظاہروں کا اہتمام کیا جائے۔ ایک بہت ہی اچھا کام اس روز کو حیا ڈے کے طور پر فروغ دینا ہے۔ غرض اس سیلاب کے سامنے بند باندھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ورنہ یہ ہماری تہذیبی اقدار کو بھی اسی طرح ملیا میٹ کر سکتا ہے جس طرح اس سے قبل دنیا کی کئی تہذیبوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔

Thursday, January 31, 2013

پہلی "بین القوامی" اردو بلاگنگ کانفرنس ۔۔۔۔ میری بلائینڈ ڈیٹ

لاہور میں ہونے والی "بین القوامی اردو بلاگنگ کانفرنس" میرے لئے واقعی ایک "بلائنڈ ڈیٹ"  تھی۔ چند مہینے بیشتر ہی اردو بلاگنگ کی دنیا میں آیا ہی تھا کہ یہاں قدم قدم پے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  میرے جاننے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کا آزالہ کر سکتا ہو۔ ایسے میں ایک مہربان نے "اردو بلاگر گروپ" میں شمولیت کا مشورہ دیا کہ وہاں سے مناسب رہنمائی ملنے کی امید ہے۔

بدقسمتی سے میں گروپ میں اس وقت  شامل ہوا جب وہاں گمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ ابتدا میں تو یہی سمجھا کہ اردو بلاگنگ کے لئے یہ سب ضروری ہوتا ہو گا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معرکہ عارضی ہے اور وجہ نزاع مستقبل قریب میں ہونے والی ایک عدد "اردو بلاگر کانفرنس" ہے۔ چند پوسٹیں اور ان پر ہونے والے ڈھیروں تبصرے پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ کانفرنس ہی "بین القوامی" نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک بڑی بین لاقوامی سازش بھی ہونے جا رہی ہے۔ 

سازش کا معلوم ہوتے ہی میری صحافیانہ حس بھی بیدار ہو گئی اور میں نے گروپ میں دیے گئے ویب پتے پر رجسٹریشن فارم پُر کر دیا۔ چار دن ہی گزرے تھے کہ بلاگر فورم کا جواب موصول ہوا کہ تم بحیثیت بلاگر شرکت کرنے کے اہل نہیں ہو، اگر بلاگنگ کے شوقین کے طور پر شریک ہونا چاہو تو آ جانا، لیکن اپنے خرچے پر۔     

سوچا یہ بھی اچھا ہے ہمیشہ دوسروں کے خرچے پر کانفرنسیں اور سمینارز میں شرکت کی ہے، چلو ایک اپنے پلے سے بھی کر دیکھتے ہیں کہ اس کا مزا کیسا ہوتا ہے۔ خود کو سمجایا کہ میں واقعی بلاگنگ میں نو وارد ہوں ابھی تو ایک بلاگ پر کوئی 90 پوسٹ ہوئی ہیں اور دوسرے پر صرف دو ہیں۔ سچ پوچھیں تو بلاگر فورم کے اس "کڑے میرٹ" پر پیار بھی آیا کہ سچے اور کھرے لوگ ہیں۔ یوں انجانے اندیکھے لوگوں اور کئی سازشی نظریات میں گھری ہوئی کانفرنس میں شرکت کا اٹل فیصلہ ہو گیا، "چلو بلائینڈ ڈیٹ ہی سہی"

اسلام آباد سے پہلے بس اور پھر رکشے کے سفر کے اختتام پر جب لاہور ایوان صعنت و تجارت کے اڈیٹوریم میں پہنچا تو کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا. حسب عادت آخری رو کی ایک خالی کرسی پر قبضہ جمایا اور حالات کا جائزہ لینے لگا۔ ابتداء میں  سمجھ کچھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کوئی بھی شناسا چہرہ دیکھنے کو نہیں ملا اس لئے کچھ نروس سا ہو گیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ چائے کے وقفے کا اعلان ہوا۔  

چائے کی میز بہت سے پرُ تکلف لوازمات سے پُر تھی، لیکن میں پنجابی محاورے کے مطابق ’گمشدہ گائے‘ کی ماند کسی شناسا چہرے کی تلاش میں گھوم رہا تھا، یہاں ہر فرد ’آپ کہاں سے ہیں؟ اور کس نام سے لکھتے ہیں؟‘ کے زریعے متعارف ہو رہا تھا، جلد ہی میرا پہلا تعارف برادر سعد ملک سے ہوا لیکن ان کے تن و توش کو دیکھ کر میں ان کے تمام تر خلوص کے باوجود ان سے کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر پایا۔   

 یہ دیکھ کر ڈھارس بندھی کہ یہاں مجھ سے بھی کمزور کئی افراد موجود ہیں۔ اپنے خیال میں سب سے کمزور فرد کا انتخاب کرکے رائج الوقت دونوں سوال داغ دیے۔ جواب ملا کہ ’تعلق سوات سے ہے‘’ بلاگنگ تو نہیں کرتا لیکن ایک ویب سائیڈ بنانے کا ارادہ ضرور ہے‘ اپنے سامنے موجود دوست کے گلے میں لٹکتے کارڈ پر لکھا ہوا ’بلاگر‘ مجھے منہ چڑھانے لگا لیکن میں نے خود کو ڈانٹ کر سمجھایا کہ یہ معرفت کی باتیں ہیں اور مجھے تصوف کی سمجھ کبھی نہیں آسکتی۔

چند گھنٹوں بعد کانفرنس میں دیا جانے والا کھانا چائے کی نسبت بہت "بے تکلف" تھا۔ اس وقت تک میں بھی سب بلاگروں سے بے تکلف ہو چکا تھا۔ کھل کر گپ شپ شروع ہو گئی تھی۔ شام کو شرکاء کانفرنس لاہور کی سیر کو نکلے تو مجھے بھی  پروگرام نہ ہونے کے باوجود نئے نویلے دوستوں کے اصرار پر شامل ہونا پڑا۔ سیر کے دوران بہت ہی لطف آیا، ایک عرصے بعد کالج کا وقت یاد آیا۔

کانفرنس کا دوسرا دن دیار غیر میں بسنے والوں کے نام رہا۔ کنیڈا سے صحافی ناہید مصطفیٰ کے مشورے اور کیٹی مرسر کے ٹوٹکے کسی "بلاگر" کے لئے مفید ہوں یا نہ ہوں مجھے ان سے بہت کچھ حاصل ہوا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام سے قبل ہی میں نے جان لیا کہ روایتی میڈیا کے مکارانہ طرز عمل کے مقابلے میں سوشل میڈیا کے بلاگرز کی بے لاگ تحریروں سے معاشرے کی سچی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی حرس و ہوس، ہر لالچ اور دباؤ سے آزاد، ستائش اور ناموری کی تمنا سے کوسوں دور رہ کر حق و سچ کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔

کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سبھی محمود ایاز ایک ہی صف میں میں نظر آرہے تھے، لیکن کبھی کبھی احساس ہوتا جیسے ایک صاحب کو خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے۔ جب ان کی قبل از وقت رخصتی کا اعلان رقت امیز انداز سے ہوا تو میں رہ نہ پایا اور ساتھ کی نشت پر تشریف فرما ایک "ثقہ بلاگر" سے دریافت کیا کہ "یہ کون ہیں اور اس خصوصی برتاو کی وجہ کیا ہے؟" انہوں نے مختصراً بتایا کہ موصوف کا بلاگ ملک کے ایک بڑے نشریاتی و اشاعتی ادارے کی ویب سائیڈ پے پبلش ہوتا ہے۔ مجھے ایک بار پھر جھٹکا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"روایتی میڈیا کا جھوٹ ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سوشل میڈیا کا سچ؟؟" لیکن جلد ہی خود کو سمجھا لیا کہ یہ بھی معرفت کی بات ہو گی اور مجھے تو تصوف کی سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔   

سو باتوں کی ایک بات کہ کانفرنس بہت کامیاب رہی، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ دوستوں کی ڈھیر ساری محبتوں اور موبائل نمبروں سمیت بہت سی یادیں سمیٹی ہیں، یوں میری بلائینڈ ڈیٹ بہت ہی کامیاب رہی۔

Friday, January 25, 2013

عید میلاد۔۔۔۔۔۔ عشق رسول یا کاروبار ؟

آج صبح آفس پہنچ کر اخبارات پڑھنے شروع کیے تو اچانک دل میں ایک ہوک سی اٹھی، اخبارات کے صفحوں پر جمی سرخیاں  مسلم امہ کا حال زار چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام اور املاک کی تباہی کے بعد اب انہیں بردہ فروشوں کو بیچا جا رہا ہے۔ مالی میں اسلامی شرعیت کے نفاذ کا اعلان کرنے والوں پر صلیب کے پجاریوں کی یلغار ہے، شام میں خانہ جنگی کے بعد اب اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت ہو چکی ہے، افغانستان ہو یا شیشان، پاکستان ہو  یا کشمیر عراق و فلسطین ہوں یا یمن، ہر جگہ خون مسلم کی ارزانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اخبارات کا مطالعہ ابھی جاری ہی تھا کہ اسائنمنٹ ڈیسک کا پیغام ملا۔ آج "عید میلاد" کی تیاریوں پر رپوٹ تیار کرنا ہے۔ کیمرہ مین کے ساتھ ایک چھوٹی سی میٹنگ کے بعد طے پایا کہ اس پیکج رپوٹ کی تیاری کے لئے راولپنڈی جانا بہتر رہے گا۔ وہاں آسانی سے کم وقت میں درکار تمام شاٹس اور ساٹ (S.O.T)  مل جائیں گے۔

 یوں ہم راولپنڈی کے بنی چوک کی جانب روانہ ہوئے جہاں آرائشی لائٹس، ساونڈ سسٹمز کے علاوہ ہر قسم کی پرنٹنگ کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔

راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ "مری روڈ" کو چھوڑ کر جیسے ہی ایک ذیلی سڑک کی طرف ٹرن لیا، تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نئی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سبز رنگ کی جھنڈیوں اور جھنڈوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ سبز کپڑے کے کئی میٹر لمبے ٹکڑوں کو سڑک کے دائیں بائیں کی عمارتوں سے باندھ کر یوں تان دیا گیا ہے کہ ایک چھت کا گمان ہو رہا تھا. دیواروں اور دروازوں کو جھنڈیوں کے علاوہ چمکدار پنیوں سے سجایا گیا ہے۔

کیمرہ مین نے در و دیور کو عکس بند کرنا شروع کیا تو میں علاقے کے کاروباریوں سے معلومات اگٹھی کرنے میں مشغول ہو گیا۔ سب سے پہلے آرائشی بتیوں اور ساؤنڈ سسٹم والوں سے رابطہ ہوا، تو پتہ چلا کہ لائٹنگ کی بکنگ تو ہفتوں پہلے مکمل ہو چکی ہے، تاہم کئی سیانے دکاندار اب بھی بلیک میں بکنگ کر رہے ہیں، لیکن اس کے ریٹس شادیوں میں ہونے والی لائٹنگ کے مقابلے میں تگنے چگنے ہیں۔  قیمت کی کسی کو فکر نہیں البتہ دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے لئے پیسوں کے علاوہ سفارش اور دھونس بھی خوب چل رہی ہے۔

لائٹنگ اینڈ ساؤنڈ سسٹم کے دکانداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اگرچہ شادیوں کا سیزن اور 14 اگست بھی ان کے کاروبار کے لئے منافع بخش ایام ہوتے ہیں، لیکن "عید میلاد" کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس مرتبہ یہاں کتنے کا بزنس متوقع ہے؟  یہ سوال پوچھنے پر انہوں نےبتایا! حتمی طور پر کچھ کہنا تو ذرا مشکل ہے، تاہم صرف اس مارکیٹ میں اس دن کے لئے 29 لاکھ روپے سے زیادہ کی بکنگ ہو چکی ہے۔ میری معلومات میں اضافے کے لئے انہوں نے بتایا کہ اب روایتی لائٹنگ کے علاوہ لیزر لائٹنگ اور لانگ رینج ہلوجن لائٹنگ کی بھی بکنگ ہو رہی ہے، ساونڈ سسٹمز میں بھی عام
ایمپلی فائیر اور ہارن لاوڈ سپیکرز کے ساتھ ساتھ اب مکمل "ڈی جے سیٹ" کی بکنگ بھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے سالوں کی نسبت کاروبار کے مالیاتی حجم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔


پرنٹنگ والوں نے بتایا کہ "میلاد" کے دن کے لئے مختلف انداز کی جھنڈیوں کے علاوہ بیجز، سٹکرز اور پوسٹرز تیار کیے جاتے ہیں، ایک ذیلی کاروبار کے طور پر حرم مکی اور مسجد نبوی کے مختلف انداز اور سائز کے "تعزیہ نما" ماڈلز بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ کپڑے اور پینافلیکس کے بینرز اور پس منظر (Backdrops) کی تیاری اس کے علاوہ ہے۔ بنی چوک سے ملحقہ سرکلر روڈ اور اردو بازار میں "میلاد" کے حوالے سے اس سال تقریباً 87 لاکھ روپے کا کاروبار متوقع ہے۔

نعت خوانوں اور دیگر شرکا کو حوصلہ افزائی کے طور پر دی جانے والی ٹرافیوں، شیلڈز اور سوینیرز (Souvenirs) کی فروخت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ میلاد کے روز پہننے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں عربی لباس بھی خصوصی طور پر تیارکیا جاتا ہے، جس کی مجموعی مالیت بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔ جلوسوں کے شرکاء کی سواری کے لئے ٹرک، پک اپ اور ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر اقسام کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ گھوڑوں اور اُنٹوں کی بھی بکنگ مہنگے داموں ہو رہی ہے۔

 اس سال "عید میلاد" کی مناسبت سے ایک نئی جدت "میلاد کیک" خصوصی طور پر متعارف کی گئی ہے، بیکریوں والے "میلاد" کے دن کی مناسبت سے سبز رنگ اور حرمین مکہ و مدینہ کی تصویروں والے کیک تیار کر رہے ہیں، جن کے آڈرز بھی دھڑا دھڑ بک کیے جارہے ہیں، امید ہے کہ کئی لاکھ کے کیک بھی اس روز کے لئے تیار کیے جائیں گے۔ جلوس کے شرکا، نعت خوانوں اور مقررین پر نچھاور کرنے کے لئے نئے کرنسی نوٹوں کی خریداری بھی عروج پر ہے۔

میلاد کمیٹیوں کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ تو دراصل ضمنی اخراجات ہیں۔ عیدِ میلاد کا اصل خرچ تو نعت خوانوں اور مقرروں کا معاوضہ ہے۔ جس کی پیشگی آدائیگی کے بعد ہی وہ جلوس کے راستے میں آنے والے ہر "مقام" پر سرور کائناتﷺ کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کریں گے اور سیرت پاکﷺ پر روشنی ڈالیں گے۔ معروف نعت خوان اور مقرر تو کئی لاکھ روپے معاوضہ طلب کر تے ہیں۔ ان کی بکنگ بھی بلیک میں ہوتی ہے۔ طے شدہ معاوضے کے علاوہ جلوس کے دوران ویلوں اور نچھاور ہونے والے نوٹوں کی شکل میں بھی انہیں خاصی آمدن ہو جاتی ہے۔   

یہ تمام مواد جمع کر کے آفس پہنچ کر جب میں اس رپوٹ کے لئے سکرپٹ لکھنے بیٹھا، تو اچانک خیال آیا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے عشق کے نام پر ہم جو کچھ کر رہے ہیں کیا یہ انﷺ کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے؟؟؟
دل سے صدا آئی ہر گز نہیں۔

تیرے حسن خلق کی اک رمک میرے زندگی میں نہ مل سکی 
میں اسی میں خوش ہوں کے شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
یہ میری عقیدت بے بصر ، یہ میری ارادت بے ثمر
مجھے میرے دعوایٰء عشق نے  نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آپﷺ کو اپنی امت سے جس قدر محبت تھی وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج جب امت کے لاکھوں مرد و زن اور معصوم بچے بھوک اور سردی کے عذاب سے دوچار ہیں۔ ہم عشق نبی ﷺ کے نام پر در و دیوار سجا کر آخرت میں شفاعت کی امید رکھتے ہیں تو یہ ہماری خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ جس نبی ﷺ نے امت کے غم میں لاتعداد راتوں کے کئی کئی پہر آنسوں بہاتے گزارے ہیں، انﷺ کے سامنے قیامت کے دن کیا منہ لے کر جائیں گے۔

ایک لمحے کے لئے یہ خیال آیا اور پھر میں سر جھٹک کر سکرپٹ لکھنے میں مصروف ہوگیا ۔۔۔۔۔ "عید میلاد" نبی ﷺ کو پورے عقیدت و احترام سے منانے کی تیاریاں عروج پر پہنج گئیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلیوں اور محلوں کو دلہن کی ظرح سجا دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, January 6, 2013

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا

کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھے کے پاس جانے کون سا جادو تھا جس کے زور پے وہ لاکھوں نوجونوں کے دلوں میں بستا تھا۔

 آج جب وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا تو پتہ چلا کہ اس کی عمر تو 74 سال ہو چکی تھی ۔ 
لیکن کیا کروں کہ اسے لاٹھی کے سہارے چلتے دیکھ کر بھی کبھی یقین نہیں آیا کہ یہ شخص بوڑھا بھی ہو سکتا ہے۔ یقین آتا بھی تو کیسے؟ میں نے اسے نہ جانے کتنی ہی بار آنسو گیس کے گہرے بادلوں میں ثابت قدم، اور پولیس کی برستی ہوئی لاٹھیوں کے سامنے سینہ سپر دیکھا ہے۔ 

 انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہ صرف وہ خود امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتا، بلکہ دوسروں کے لئے بھی امید کی کرن بن جایا کرتا تھا۔ جوانوں میں بجلیاں بھرنے کا جادو تو اسے آ تا ہی تھا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ضعیف العمر افراد بھی اسکی ولولہ انگریز شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو کر بے خود ہو جایا کرتے تھے۔ 

مجھے آج سندھ کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والا وہ بوڑھا "بابا چانڈیو" بے طرح یاد آ رہا ہے جو اڈیالہ جیل میں لہک لہک کر نعرے لگایا کرتا تھا۔
 ہم بیٹے کس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔    قاضی کے
ہم دست و بازو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے
ہم ساتھ جیئیں گے۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے 
ہم ساتھ مریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے

بینظیر حکومت کے خلاف ہونے والے دھرنے کی پاداش میں با با چانڈیو بھی سینکڑوں دیگر کارکنان جماعت کے ہمرا اڈیالہ جیل میں قید تھا۔  بابا چانڈیو جب نعرے لگا کر تھک جاتا تو ہم پوچھتے کہ بابا! کیا قاضی صاحب آپ سے بڑے ہونگے؟ 
بابا ایک دم جذباتی ہو کر کہتا "ہونگے تو چھوٹے ہی، لیکن اس سے کیا ہوتا ہے، میں ان کا احترام اپنے باپ سے زیادہ کرتا ہوں۔

ایک بابا چانڈیو ہی کیا، بہت ہی قلیل تعداد ان لوگوں کی ہوگی، جن کے دلوں میں اس شخص کے لئے احترام کے جذبات کے سوا بھی کچھ ہوگا۔ میں نے مخالف سیاستدانوں اور مذہبی رہنماوں کو (جو اپنی پارٹی اور اپنے فرقے کے باہر کے کسی شخص کے بارے میں کلمہ خیر کہنے کو گناہ سمجھتے ہیں) قاضی حسین احمد کی تعریف کرتے ہی دیکھا ہے۔ان میں مرحوم شاہ احمد نورانی، حافظ حسین احمد اور چوہدری شجاعت حسین کے الفاظ کا میں خود گواہ ہوں۔

بات اگر عوام کی ہو تو مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق یہاں تک کہ پیپلز پارٹی تک کے ورکروں کو اس بوڑھے کی ہمت اور جرات کو سلام کرتے دیکھا ہے۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ مخالف مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں میں بھی اگر کسی کی بات توجہ اور احترام سے سنی جاتی تھی تو وہ بھی یہی شخصیت تھی، جس کے گرویدہ دیوبندی بھی تھے، شعیہ بھی، اہل حدیث بھی تھے اور بریلوی بھی۔

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا۔ آج "میرے عزیزو" کی صدا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی، "شاندار اسلامی انقلاب" کی نوید سنانے والا اس بستی سے کوچ کر گیا، ظالموں کو مبارک ہو اب "قاضی کھبی نہیں آئے گا"۔

 وہ یقیناً بہت ہی خوش و خرم اس جہان فانی سے رخصت ہوا ہوگا لیکن کون شمار کرے کہ اپنے کتنے بیٹوں کو احساس یتیمی دے گیا ہے۔ کتنی آنکھیں اس کے لئے اشکبار ہیں۔ جن دلوں میں وہ بجلیاں دوڑایا کرتا تھا آج  ان میں رنج و ملال کے سوا کچھ بھی نہیں۔  
آج جب خود کو اس کا دست و بازو قرار دینے والے ہاتھ ہی اسے لحد میں اتار چکے ہیں۔ تو میں سوچ رہا ہوں " اے میرے قائد تیرا بدل کوئی نہیں ہوسکتا۔ 

کون ہے کہ تجھ سا کہیں جسے


کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...