Thursday, February 14, 2013

ویلنٹائن ڈے تہذیبوں کی جنگ کا ایک اہم ہتھیار

14 فروری کو منائے جانے والے یوم محبت یا ویلنٹائں ڈے کی ابتداء کہاں اور کیوں ہوئی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی جڑیں تاریخ کے دھندلکوں میں وہاں پیوست ہیں جہاں تاریخ میں روایات اور دیو مالائی کہانیاں یوں گڈ مڈ ہو جاتی ہیں کہ حقییقت اور افسانے کا پتہ چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔

کہیں اسے یونان کی رومانی دیوی '' یونو '' ( دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی) کا مقدس دن مانا جاتا ہے، کئی لوگ اسے" کیوپڈ "(محبت کے دیوتا)اور "وینس"(حسن کی دیوی)سے موسوم کرتے ہیں جو کیوپڈ کی ماں تھی۔ کہیں اس کے تانے بانے رومیوں کے "لپرکالیا فیسٹیول" سے ملائے جاتے ہیں جو زمین اور عورتوں کی زرخیزی کا دن سمجھا جاتا تھا۔ اس روز نوجوان عورتوں کو کوڑے مارے جاتے تھے تاکہ وہ زرخیز ہو جائیں، اور اِسی روز روم کی کنواری  لڑکیوں کے ناموں کی پرچیاں ایک بڑے مرتبان میں ڈالی جاتیں، جنہیں رومی سوما نکالتے، جس لڑکی کے نام کی پرچی جس سوما کے ہاتھ آتی وہ اس روز اس کی ہوس پوری کرنے پر مجبور ہو جاتی۔  

مسیحی دنیا میں اس یوم کی ابتداء کے حوالے سے دستیاب تمام  ہی حوالہ جات غیر مستند ہیں۔ عیسائیوں میں ویلنٹائن نام کے کم ازکم تین نامور افراد تاریخ میں ملتے ہیں۔ جن کی داستان حیات  یکثر مختلف ہیں۔ تاہم جہاں مذہب عیسوی کو رواج دینے کے لئے دیگر بدعتوں کو اپنا لیا گیا وہیں "پوپ گیلاسیس" نے498 عیسوی کے لگ بھگ ہر سال14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کی عید منانے کا اعلان کر دیا۔

یوپ نے ہوس پرستی پر مبنی اس دن کو عیسائیت میں داخل تو کر لیا لیکن اس کے لئے کسی قسم کی عبادات  وضع نہیں گئیں۔ جلد ہی اٹلی میں دین نصرانی کے عالموں نے اس روز سے وابسطہ رسومات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اِسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دے کر ناجائز قرار دے دیا۔ کلیساء کے اس گومگو طرز عمل کے برخلاف عیدِ ویلنٹائن کا تہوار عیسائی دنیا میں کبھی بھی فروغ نہیں پا سکا۔
 
رائج الوقت ویلنٹائں ڈے کا آغاز پندرویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب یورپ "نشاہ ثانیہ" کے عمل سے گزر رہا تھا۔ کلیساء کے جامد اعتقادات کے بجائے سائنس کے جدید تصورات دلوں میں جاگزین ہو رہے تھے۔ پادریوں کے سخت گیر رویے کے باعث بلآخر وہ  وقت آ پہنچا تھا کہ مذہب سے وابسطہ ہر عمل اور رواج دقیانوسیت کی علامت بن کر رہ گیا تھا۔ ایسے میں لادینیت کے علمبرداروں نے شادی بیاہ کے روایتی تصور کو دھنلانے اور خاندانی نظام کو کمزور کرنے کی خاطر عہد قدیم کے "آزاد ہوس پرستی" کے تہوار کا احیاء ویلٹائن ڈے کے عنوان سے کیا۔  

اسے ایک باقاعدہ تحریک کی شکل فرانس کی شہزادی "پرنسس آف ایزابیل" نے سن 1400ء میں دی۔ جلد ہی یوم محبت مغربی یورپ میں مقبول ہو گیا۔ 1797 میں یوم محبت کے عنوان سے "محبوب کوخطوط لکھنے" کی رسم کا آغاز ہوا۔ جس نے بعد میں ویلٹائن کارڈ کی شکل اختیار کرلی۔ جو موجودہ وقت  میں کرسمس کے بعد سب سے زیادہ کارڈز دینے کا دن بن چکا ہے۔ کارڈرذ کے علاوہ دیگر تحائف کے اعتبار سے یہ روز کمائی کا بھی ایک بہت اچھا زریعہ ہے۔

یوم محبت اور اس سے وابسطہ رسومات نے یورپ کے معاشرے پر بہت ہی سنگین اور دیر پا اثرات مرتب کیے، یورپ میں خاندانی نظام کی مکمل تباہی عمل میں آئی، آزاد جنسی تعلقات اور ہم جنس پرستی نے فروغ پایا، شرم و حیا کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

 ایک انتہائی دلچسب حقیقت یہ ہے کہ یورپ دو صدیوں سے زاید عرصے تک مشرق اور بلاد اسلامیہ پر قابض رہا لیکن اس استعماری دور میں ویلنٹائن ڈے کو مقبوضہ ممالک میں رواج دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے اختتام تک مغربی یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے علاوہ اس کا وجود دنیا کے دیگر خطوں خصوصاً اسلامی ممالک میں سرے سے نہیں تھا۔

ویلنٹائن ڈے کو مشرقی ممالک خصوصاً اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے آخری عشرے میں فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ جس کی بنیادی وجہ اسلامی دینا میں بڑھتا ہوا اسلام پسندی کا رجحان تھا۔ کمیونیزم کی شکست و ریخت کے بعد اب مغرب کے مدمقابل اسلامی تہزیب کا عفریت تھا۔ جس کی روک تھام کے لئے دینا میں تہزیبوں کے تصادم کے نظریے کو جنم دیا گیا۔

اگر مغربی تہذیب کی اور اسلامی تہذہب کی ہیت ترکیبی پر غور کیا جائے تو بات اور بھی واضع ہو تی ہے۔ اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز عفت، پاکدامنی، حیا اور خاندانی نظام ہے۔ جبکہ مغربی تہذیب مذہب بیزاری اور جدیدیت کی رو میں ان خصوصیات سے مکمل طور پر عاری ہو چکی ہے۔

امریکہ پر ہونے والے نو گیارہ کے حملوں کے بعد تہذیبوں کی یہ کشمکش ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی ممالک آتش وآہن کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اسلامی دنیا پر حملہ آور ہوئے۔ وہیں اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کے کلچر کے خلاف بھی کھلا اعلان جنگ کر دیا گیا۔

 اس جنگ کے حربوں کے طور پر مردوں کی داڑھی اور خواتیں کے حجاب کو مذاق کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پیغمبر اسلام اور قران مقدس کی شان میں بار بار گستاخی کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے دلوں سے ان کا احترام کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ شرعیت کو ایک پسماندہ اور گھٹن زدہ نظام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔  لیکن اس جنگ کا  اصل ہدف یہاں کا خاندانی نظام اور عفت و حیا کا تصور ہے۔      

سرسری طور پر دیکھنے سے بھی نظر آتا ہے کہ موبائل فون کے سستے نائٹ کال پیکجز اور ایس ایم ایس پیکجز ہوں یا ہر روز منعقد ہونے والے گانے بجانے کے پروگرامات۔ ٹیلی ویژن پر آنے والے اشتہارات ہوں یا ڈرامے، مارننگ شوز ہوں یا نوجوانوں کے پروگرامات، سب میں فروغ ایک ایسے حیا باختہ کلچر کو دیا جا رہا ہے جو ہماری تہذیبی اقدار سے ذرا بھی میل نہیں کھاتا۔ اور جس کا واحد مقصد عفت و عصمت کے تصور کو مٹانا ہے

ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت کو بھی ہمارے ہاں اسی تہذیبی جنگ میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ جس سے ایک جانب تو بے حیائی پروان چڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب معاشرے میں خاندانی نظام کی بنیادوں پر ضرب لگ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ عمل اپنی ابتدائی سطح پر ہے تاہم اس کے اثرات معاشرے میں کھلے بندوں دیکھے جا سکتے ہیں۔

خاتون دوست (Girl Friend) اور مرد دوست (Boy Friend) کے الفاظ اب ہمارے کانوں کے لئے غیر مانوس نہیں رہے۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہفتوں پہلے سرخ رنگ کے تحائف دکانوں پر نظر آنا شرع ہو جاتے ہیں۔ 14 فروری کے روز سرخ غباروں اور سرخ پھولوں کی فروخت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والوں چند ہزار افراد کو چھوڑ کر نہ تو یہ پھول اور تحائف دینے والے اپنے گھروں اور خاندانوں میں اس بات کا تزکرہ کھلے بندوں کر سکنے کی ہمت رکھتے ہیں اور نہ ہی لینے والے۔

ویلنٹائن ڈے کے موقع پر خواتین کو ملنے والے تحائف کی وجہ سے کئی گھروں میں بہت ہی سنگین نوعیت کے حادثات جنم لے چکے ہیں۔ صرف اسلام آباد میں کیے گئے ایک سروے میں کم ازکم پچاس سے زیادہ خود کشی اور ڈھائی سو سے زیادہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی وجوہات میں ویلنٹائن ڈے کے تحائف کا اہم کردار ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی سنجیدہ نوعیت کی  تحقیق کی جائے تو ہوش ربا انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔  

 اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو مغرب کے اس حملے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے خلاف اب کھل کر میدان میں آنا ہو گا۔ اس کے لئے چند اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جو دکاندار اس کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں انہیں سمجھایا جائے اور اس سے باز رکھنے کے لئے معاشرتی دباو ڈالا جائے۔ اپنے بچوں اور دیگر فیملی ممبرز کو اس کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔ ان ٹی وی چینلز کو خطوط، ای میل کے زریعے فیڈ بیک دیا جائے کہ اسے ہم ناپسند کرتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ان کے مقامی دفاتر کے سامنے مظاہروں کا اہتمام کیا جائے۔ ایک بہت ہی اچھا کام اس روز کو حیا ڈے کے طور پر فروغ دینا ہے۔ غرض اس سیلاب کے سامنے بند باندھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ورنہ یہ ہماری تہذیبی اقدار کو بھی اسی طرح ملیا میٹ کر سکتا ہے جس طرح اس سے قبل دنیا کی کئی تہذیبوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔

8 comments:

  1. خاصی جامع تحریر ہے
    املاء کا خیال وقت کے ساتھ ساتھ رکھنا آ جائے گا.
    کلچر پر بس اتنا کہ پہلے ہم یہ فیصلہ تو کر لیں کہ ہمارا کلچر ہے کیا تھا. مغربی نہیں بجا لیکن یہاں تو مقامی کلچر کو بھی اسلامائز کرنا چاہتے ہیں. بے مرکز کٹی پتنگ جیسی سوچ والی قوم.

    ReplyDelete
  2. شاکر بھائی املا کی اغلاط کی نشاندہی کا شکریہ۔ ہمارا کلچر شرم و حیا اور غیرت کا کلچر رہا ہے قبل از اسلام بھی۔

    ReplyDelete
  3. دے کے میں آیا پھول محبت کا گھر کو جب
    کمرے میں میری بہن کے گلدستہ سجا تھا

    ساجد حسین

    ReplyDelete
  4. عمدہ تحریر ہے مگر کیا کریں یہ اُن پر ہی اثر کرتی ہے جو پہلے ہی ویلنٹائن دے منانے کے حق میں نہیں!

    ReplyDelete
  5. NICE WORK MAHTAB BAHI :)

    ReplyDelete
  6. یہ دونسلوں اور تہذیبوں کی جنگ ھے اگر وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے لڑ رھے ھیں تو ھمیں بھی اپنی نسلوں کو محفوظ بنانے کہ لیے ابھی سے کچھ کرنا ھوگا صاحب بلاگ کی تجاویز بہت شاندار ھیں وگرنہ یہ میٹھا زہر جو کہ معاشرت اور آزاد خیالی کے نام پر پھیلایا جارھا ھے معاشرے میں سرایت کرجائے گا

    ReplyDelete
  7. ایک ریفرنس پوسٹ۔

    اصل میں پتہ سب کو ہے ، سب مناتے بھی نہیں ہیں لیکن خطرہ آئندہ ہے ۔ اگلی نسل کافی حد تک فکری طور پر "یتیم" ہے اور مغرب کی فکری غذا پر ہی گزارا فرما رہی ہے ۔

    اسے کچھ دینا کافی نہیں ، بہت کچھ دینا ہو گا پھر ہی کسی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

    ReplyDelete
  8. آپکی تحریر بہت معلوماتی ہے۔
    گو کہ میں آجکل کچھ زیادہ مصروف ہوں اور وقات نہیں ملتا مگر آپ کی اس تحریر کو پڑھ کر آپ کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکا
    اپ نے ایک نہائت مناسب تجزئیہ کیا ہے۔ اور ٹیلی فون کمپنیوں کے پیکجز اور میڈیا کے لچر پروگراموں پہ بھی روشنی ڈالی ہے ۔
    ایک جگہ غلابا آپ روانی میں ”اسلامی تہزیب کا عفریت “۔ لکھ گئیے ہیں جبکہ اسلامی تہذیب ایک حقیقت ہے اور یہ ایک ”عفریت” قطعی طور پہ نہیں ۔ بلکہ باعثِ رحمت ہے ۔ اور انسانیت کی بقا اسی تہذیب میں چھپی ہے۔ ایک وقت آئے گا بنی نوع انسان پکار پکار کر اسلامی تہذیب کو اپنائے گا۔ کیونکہ وہ سارے نظاموں سے مایوس ہو چکا ہوگا۔
    جاوید گوندل ۔ بارسیلونا ، اسپین

    ReplyDelete

بابر مسجد تنازعے کی تاریخ

انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال بیت گئے۔ 6 دسمبر 1992ء کو بھارتی نیم فوجی دستوں،ہندو انتہا پسند شیوسینا، آر ایس...