Monday, February 18, 2013

کوئٹہ دھماکہ اہل تشیع پر حملہ یا جمہوریت کے خلاف سازش ؟

کوئٹہ میں ایک بار پھر ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مرنے والے 85 افراد کی لاشوں کے ساتھ لواحقین نے دھرنا دیا ہوا ہے۔ مظاہریں کا مطالبہ ہے کہ صوبہ بلوچستان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اپنے مطالبے کی منظوری تک وہ دھرنا ختم کریں گے نہ لاشوں کی تدفین کریں گے۔ بلوچستان میں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی، کوئٹہ یکجہتی کونسل، مجلس وحدت المسلمین، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان اور تحفظ اعزاداری کی اپیل پر ہڑتال ہے۔

 اخباری اطلاعات کے مطابق  ہڑتال کی حمایت ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریکِ انصاف اور دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔ کوئٹہ میں دھرنا دینے والوں سے یکجہتی کے لئے ملک کے مختلف شہروں میں جگہ جگہ دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی اس دوران ملیر میں ایک گاڑی کو بھی آگ لگادی گئی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ٹائر جلائے گئے، ملیر میں احتجاج کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت بھی تاخیر کا شکار ہوگئی جبکہ ملک کے اکثر شہروں مین ٹریفک جام ہے اور لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ 

یہ دوسرا موقع ہے کہ کوئٹہ میں اس نوعیت کا دھرنا دیا جا رہا ہے اس سے قبل 10 جنوری کو دیے جانے والے ایسے ہی ایک دھرنے کے نتیجے میں بلوچستان کی صوبائی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا تھا۔ جبکہ فوج  کے ادارے "فرینٹیر کور" کو پولیس کے اختیارات دے کر اسے صوبہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔  

اس طرح لاشیں سامنے رکھ کر دھرنا دینے کا یہ ملک میں پہلا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی ہی حکومت کو برطرف کر ڈالا۔ اس دھرنے کو ایک جانب میڈیا نے بھرپور کوریج دی دوسری جانب انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ملک کی سول سوسائٹی نے اس کا کھل کر ساتھ دیا۔

شاید اس طرح لاشوں کے ساتھ دھرنے کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے ہی خیبر ایجنسی میں فوج کی کاروائی میں مرنے والوں کی لاشیں سامنے رکھ کر ان کے لواحقین نے بھی خیبر پختونحواہ کے گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کی کوشش کی تھی۔ ان مرنے والوں کے لواحقین الزام عائد کر رہے تھے کہ ان افراد کو فوج نے گھروں سے نکال کر قتل کیا گیا ہے، انکا مطالبہ تھا کہ اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

لیکن کوئٹہ کے برعکس خیبر پختونخواہ کی پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کرکے لاشوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جنہیں مبینہ طور پر 15 ہزار فی لاش "بطور جرمانہ" رشوت لینے اور دوبارہ ایسی حرکت نہ کرنے کا اقرار نامہ لکھوانے کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا۔ خیبر پختونخواہ والے اس دھرنے کا میڈیا نے مکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور ملک کی سول سوسائٹی بھی اس پورے منظر میں کہیں نظر نہیں آئی۔

اگر ان دو دھرنوں کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں صرف مظلوم ہونے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ احتجاج کرنے کا حق، میڈیا کی توجہ، سول سوسائٹی کی امداد اور مطالبات کی کامیابی کی توقعات کے لئے کچھ اور لوازمات بھی ضروری ہیں جن کا تذکرہ پھر کبھی سہی ۔

 اگر دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کے اعداد و شمار کا سالانہ یا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ دلچسب  حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کی تعداد اسی عرصے میں کراچی اور پشاور میں دہشت گردی کے نتیجے میں مرنے والوں سے کہیں کم ہے۔ 

کوئٹہ میں لاشوں کے ہمرا دیے جانے والے سابقہ دھرنے کے نتیجے میں حکومت کی برطرفی نے ایک آئینی خلا پیدا کر دیا ہے۔ الیکشن کے انعقاد سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نگران حکومت کا تقرر ایک آئینی تقاضہ ہے، جس پر عمل حکومت کی برطرفی اور اسمبلیوں کی معطلی کے بعد ممکن نہیں رہا۔ آج ایک بار پھر مظاہرین لاشوں کے ہمرا دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ شہر سمیت پورے صوبہ بلوچستان کا کنٹرول مکمل طور پر فوج کے حوالے کیا جائے۔ جو صوبے میں مارشل لاء کا نفاذ کی ایک صورت ہوگی۔

عملاً  اس وقت کوئٹہ میں فوجی ادارے "فرنٹیر کور" کو پہلے سے حاصل خصوصی اختیارات کے علاوہ اب پولیس کے تمام عمومی اختیارات بھی مل چکے ہیں۔ جبکہ "فرنٹیر کور" کے علاوہ  فوجی انٹیلی جینس ادارے بھی کوئٹہ میں مصروف عمل ہیں۔ لیکن امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور دھماکوں کی روک تھام کے لئے کسی قسم کی مثبت کارکردگی کا مظاہرہ تا حال دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبے کا انتظامی کنٹرول اگر فوج کو مل گیا تو ان کے ہاتھ وہ کون سا "الہٰ دین کا چراغ" آ جائے گا جس کو رگڑ کر وہ دہشت گردی پر قابو پا لے گی۔  

یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے گورنر نواب ذولفقار مگسی نے ملک کے سکیورٹی اداروں کو اس واقعے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو وہ نااہل ہیں یا پھر دہشت گردوں سے خوف زدہ ہیں۔ کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خورشید شاہ نے بھی کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔

دہشت گردی کی ہر کاورائی جو خواہ کسی کی جانب سے بھی کی گئی ہو یقیناً قابل مذمت ہے۔ لیکن دہشت گردی کی آڑ میں الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کرنے اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم کسی فرد، گروہو یا ادارے کی جانب سے مارشل لاء کے نفاذ کی خوائش اور کوشش کو سختی سے رد کیا جانا چاہیے۔ 

 اس وقت سیاسی جماعتوں کا امتحان ہے کہ وہ جمہوریت کے خلاف ہونے والی اس سازش سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہیں۔ جبکہ میڈیا کے ذمہ داران کے لئے بھی یہ اہم ہے کہ وہ جمہوریت کی بقا کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ تاکہ الیکشن کا بر وقت انعقاد ہو سکے اور ملک ایک بار پھر آمریت کے منحوس شکنجے میں جانے سے بچ جائے۔   


3 comments:

  1. انٹیلی جنس ایجنسیوں کےھیڈ کو پکڑاجاے تؤ پتآ چل جآے

    ReplyDelete
  2. بھای صاحب آپ کے خدشات درست ھی لگتے ھین، اس ملک مین وردی کے خلاف کون بول سکتا ھے، بس آخر مین ھی حساب ھوگا

    ReplyDelete
  3. باقاعدگی سے اچھے نھیں ستم
    کچھ روز نامچےمیں ترمیم کیجیے

    ReplyDelete

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اخ...