Friday, June 29, 2018

کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟



حالات تو اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 66 سال کا جہاندیدہ سیاستدان کیا دامِ الفت (honey trap) کا شکار ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب ہاں میں ہے، دنیا کے کئی سیاسی اور عسکری رہنماوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جہیں ڈھلتی یا آخری عمر میں دامِ الفت (honey trap) میں پھنسا کر استعمال کیا گیا۔
خصوصا پاکستانی سیاستدانوں اور فوجی سربراہوں کے ریکارڈ تو اس سلسلے میں بہت خراب ہے۔

دامِ الفت (honey trap) میں پھنسنے والوں میں پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق پنجاب کے علاقے کرنال سے تھا۔ جنہوں نے 38 سال کی عمر میں دوسری شادی بیگم رعنا سے 1936 میں ہوئی۔ بیگم رعنا کی پیدائش ہندوستان کے علاقے اترکھنڈ میں الموڑہ کے مقام پرایک عیسائی خاندان میں ہوئی اور ان کے والد ڈینیل پنت نے ان کا نام شیلا آئرین پنت رکھا تھا۔ شیلا آئرین پنت نے بعد میں لیاقت علیخان کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنا مذہب تبدیل کیا۔ اور شادی کے بعد رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ پاکستان آرمی نے انہیں پہلی خاتون بریگیڈئر جنرل کا اعزاز دیا۔آپ نے پاکستان کی پہلی خاتون سفیر کے طور نیدرلینڈ، اٹلی اور تیونس میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہیں۔بعدازاں بھٹو نے انہیں سندھ کی پہلی خاتون گورنر کے طورپر تعنیات کیا۔ بیگم رعنا پاکستان میں خواتین کو گھروں سے نکالنے، آزاد خیالی اور پردے کی مخالفت کی بانی ہیں۔ انہوں نے اپوا کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی ابتدا سے شرعی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی۔ 
Image may contain: one or more people and people sitting


دامِ الفت (honey trap) کا باقاعدہ شکار ہونے والا پہلا پاکستانی سربراہ گورنر جنرل غلام محمد تھا۔ فالج کا شکار یہ معذور شخص آخری عمر میں ایک جرمن نژاد امریکی خاتون روتھ بورال کی زلف کا اسیر ہوا۔ یہ ایک ایسا سربراہ تھا فالج کی وجہ سے جس کی زبان بھی کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اور نہ ہی یہ کسی کاغذ پر دستخط کر سکتا تھا۔ اس کے بیانات اورہر طرح کے احکامات پر دستخط اس کی امریکی سیکریٹری ہی جاری کرتی تھی۔ اس حالت میں اس نے امریکیوں کو پہلی بار پاکستان میں مداخلت کا موقعہ دیا۔ اور پشاور کے نزدیک بڈبھیر کا ہوائی اڈا امریکیوں کو دیا۔ اسی نے اسمبلیاں توڑ کر غلط رسم کا آگاز کیا، امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا کو اچانک وزیر اعظم مقرر کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہی دور تھا جب پاکستان امریکی کالونی بنا۔Image may contain: 2 people
امریکی میں تعنات پاکستانی سفیر کو اچانک پاکستان کا تیسرا وزیراعظم محمد علی بوگرہ بنائے گئے تھے۔ جن کے دور میں پاکستان میں امریکیوں کو خصوصی مراعات حاصل ہوئیں۔ بوگرا صاحب بھی امریکی میں تعناےی کے دوران دامِ الفت کا شکار ہوئے۔ انکی دوسری بیوی عالیہ سدی لبنانی نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
پاکستان کے ایک اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی بھی دام الفت کا شکار ہوئے۔ اُن کی دوسری اہلیہ کا تعلق روس سے تھا۔ وہ ماسکو آرٹ تھیٹر سے وابستہ ایک روسی اداکارہ تھیں۔ ان کا نام ویرا الیگزینڈرونا کالڈر تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ حسین شہید سہروردی کا پاکستان میں جاری روس امریکہ کشمکش کے دوران جھکاو روس کی جانب تھا۔
پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اہلیہ بیگم وقار النسا نون کا تعلق اسٹریا سے تھا۔ ان کا پیدائشی نام وکٹوریہ ریکھی تھا۔ ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان کی ملاقات وکٹوریہ سے ہوئی۔ جس کے بعد دونوں کی محبت کا آغاز ہوا جو شادی پر منتہج ہوئی۔ بعد ازاں وکٹوریہ اپنا مذہب اور نام ترک کر کے بیگم وقار النسا نون ہوگئیں۔ یہ خواتین کی آزاد خیالی کی حامی اولین تنظیم اپواء کے بانیوں میں شامل تھیں۔ پاکستان میں تعلیم کو سیکولر خطوط پر ڈھالنے میں ان کا اہم کردار ہے۔
ہنی ٹریپ کا دوسرا شکار پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور پہلا صدر سکندر مرزا تھا۔ جسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ معروف غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔ اس کی دوسری اہلیہ ناہید افغامی سے محبت اور شادی کو باقاعدہ ایرانی انٹیلیجنس کا کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت کی ایرانی انٹیلیجنس امریکی سی آئی اے کا ایک ذیلی ادارہ سمجھی جاتی تھی۔ نائید افغامی پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی کی بیوی کی حیثیت سے پاکستان آئیں۔ ایران کے ڈیفنس اتاشی کی اہلیہ کی حیثیت سے اُن کی ملاقات اُس وقت کےڈیفنس سیکرٹری میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوئی۔ ملاقاتیں محبت میں بدل گئیں۔ پھر نائید نے اپنے ایرانی شوہر سے طلاق حاصل کر کے اسکندر مرزا سے شادی کر لی۔ میجر جنرل سکندر مرزا کے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے بعد نائید ملک کے سیاہ اور سفید کی مالک بن گئیں۔ اس دور میں ایران اور امریکہ کے مفاد میں ہونے والے اقدامات کی تفصیل کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہے۔ Image may contain: 2 people, people smiling, people standing and suit
پاکستان کے دوسرے فوجی آمر آغا محمد یحیٰ خان کا کردار اتنا گھنونہ ہے کہ اُس پر بات کرت ہوئے گھن آتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یحیٰ خان کی داشتہ اقلیم اختر المعروف جنرل رانی بھی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایجنٹ تھی۔Image may contain: 1 person
ایرانی انٹیلیجنس کا دوسرا کارنامہ ذولفقار علی بھٹو کو دام الفت میں گرفتار کرنا قرار دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری اہلیہ بیگم نصرت اصفحانی کا تعلق ایران کے شہر اصفحان سے تھا۔ وہ گریجویشن کے بعد پاکستان آئیں، جہاں کراچی میں اُن کی ملاقات بھٹو سے کرائی گئی۔ جو پہلے محبت اور پھر شادی کا باعث بنی۔ ذولفقار علی بھٹو کے کئی اقدامات کے پیچھے نصرت بھٹو کی وساطت سے ایرانی اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ Image may contain: 2 people, suit and indoor
یہ بھی حقیقت ہے ذولفقار علی بھٹو کی اقتدار سے برطرفی کے بعد میں سزائے موت کے بعد ان کا خاندان افغانستان اور پھر شام منتقل ہوا۔ دونوں ممالک اُس وقت ایران کے زیر اثر تھے۔ خاندان کے باقی افراد بعد ازاں مغربی ممالک چلے گئے لیکن دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پاکستان کو مطلوب میر مرتضیٰ بھٹو شام میں ہی مقیم رہے۔ جن کی اہلیہ غنویٰ بھٹو کا تعلق بھی شام سے ہے۔

Wednesday, December 6, 2017

بابر مسجد تنازعے کی تاریخ

انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال بیت گئے۔
6 دسمبر 1992ء کو بھارتی نیم فوجی دستوں،ہندو انتہا پسند شیوسینا، آر ایس ایس کے غنڈوں نے حکومتی سرپرستی میں 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں مسلم کُش فسادات میں 3 ہزار سے زائد مسلمانوں کو بھی شہید کیا گیا تھا۔ جس کے خلاف اُس وقت کے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی
سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ 24 سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ملزم کوسزا نہیں ہو سکی ہے۔
تین گنبدوں والی بابری مسجد شہنشاہ ”بابر“ کے دور میں اودھ کے حاکم ”میرباقی اصفہانی“ نے935 ہجری بمطابق 1528ء میں تعمیر کرائی تھی، مسجد کے مسقف حصہ میں تین صفیں تھیں اور ہر صف میں ایک سو بیس نمازی کھڑے ہوسکتے تھے، صحن میں چار صفوں کی وسعت تھی، اس طرح بیک وقت ساڑھے آٹھ سو مصلی نماز ادا کرسکتے تھے۔
اپنی ابتداء تعمیر سے لے کر 1949ء تک یہ مسجد بغیر کسی نزاع و اختلاف کے مسجد ہی کی حیثیت سے مسلمانوں کی ایک مقدس و محترم عبادت گاہ رہی اور مسلمان امن وسکون کے ساتھ اس میں اپنی مذہبی عبادت ادا کرتے تھے۔ اگرچہ اس دوران شاطر انگریزوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اپنے فلسفے کے مطابق سب سے پہلے ‘‘ رام جنم استھان’’ اور ‘‘سیتا کی رسوئی’’ کا افسانہ ترتیب دیا۔ 1855ء میں ایک بدھسٹ نجومی سے ان دونوں مقامات کی جگہ معلوم کی خاطر زائچہ کھینچوایا گیا۔ جس نے طے شدہ سازش کے عین مطابق زائچہ کھینچ کر ”جنم استھان“ اور ”سیتا کی رسوئی“ کو بابری مسجد سے متصل احاطہ کے اندر بتایا۔ پھر انگریزوں کی ایما پر رافضی العقیدہ ”نقی علی خاں“ جو لکھنو کے مشہور نواب واجد علی کا خسر اور وزیر تھا، نے بابری مسجد کی عمارت ک باہر مگر اس کے احاطہ کے اندر کی جگہ کو ‘‘جنم استھان و سیتا رسوئی’’ کے لئے دے دیا۔
1857 ء میں جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے متحد ہوکر بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا
 بگل بجا، تو باہمی اتفاق و یگانگت کو مستحکم کرنے کی غرض سے اجودھیا کے مسلم رہنما امیر علی اور ہندو رہنما بابا چرن داس نے رام جنم استھان اور بابری مسجد کے تنازعہ کو ہمیشہ کے واسطے ختم کرنے کی غرض سے ایک معاہدہ کیا کہ رام جنم استھان کی مخصوص متنازعہ اراضی ہندوؤں کے حوالہ کردی جائے اور ہندو بابری مسجد کی عمارت سے دست کش ہوجائیں، انگریز جب دوبارہ فیض آباد پر قابض ہوئے تو انہوں نے ہند مسلم اتحاد کو تاراج کرنے کے لئے ، انھوں نے بابارام چرن داس اور امیر علی دونوں کو ایک ساتھ املی کے پیڑ پر لٹکاکر پھانسی دیدی ۔ مندر مسجد کے نزاع کو از سر نو زندہ کرنے کی غرض سے متنازعہ رام جنم استھان اور بابری مسجد کے معاہدے کو کلعدم قرار دے دیا ۔ 
1858ء سے لے کر 1948 ء تک حالات جوں کے توُں رہے۔ 23 اور 22 دسمبر 1949ء کی درمیانی رات کو ایودھیا کے ہنومان گڑھی مندر کے مہنت ‘‘ابھے رام داس’’ نے اپنے کچھ چیلوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر عین محراب کے اندر ایک مورتی رکھ دی۔ جس کے بعد یہ افواہ پھیلائی گئی کہ مورتی اچانک محراب میں نمودار ہو گئی ہے۔ فیض آباد کے سٹی مجسٹریٹ نے نقص امن کا بہانہ بنا کر دفعہ 145 کے تحت مسجد اوراس سے ملحق گنج شہیداں کو قرق کرکے مقفل کردیا۔ اور پولیس کا پہرا لگا دیا گیا۔ اس سلسلے میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے کئی بار آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات کی لیکن مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ 35 سال تک مسجد مقفل ہی رہی۔
اس دوران تالا بندی اور پولیس پہرے کے باوجود مسجد کی عمارت میں کئی تبدیلیاں کی گئیں اور مسجد کی عمارت پر کندہ آیات اور احادیث کو کھرچ ڈالا گیا اور احاطے میں دو چھوٹے چھوٹے مندر بنا دیے گئے۔ 30جنوری 1986ء مسٹر کے، ایم، پانڈے ڈسٹرکٹ جج نے اور رمیش پانڈے نامی شخص کی درخواست پر ہندو ں کو بابری مسجد میں پوچا کی اجازت دے دی۔ اس مجرمانہ فیصلے کے بعد، بغیر کسی تاخیر کے 5 بجکر 19 منٹ پر بابری مسجد کا تالا کھول دیاگیا جو 1950ء میں حکم امتناعی کے نفاذ میں لگایا گیا تھا۔ جس پر ہزاروں ہندو جو وہاں جمع کئے گئے تھے پوجا پاٹ کے لئے مسجد میں داخل ہوگئے، تالا کھولنے کی اس شرمناک تقریب کو سیکولر ملک کے نشریاتی ادارے ”دور درشن“ نے بڑے اہتمام سے نشر کیا۔
30اکتوبر1990ء کو یو پی میں ملائم سنگھ وزیر اعلیٰ تھے جب ہزاروں ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجدکو منہدم کرنے کی کوشش کی۔ ملائم سنگھ کے حکم پر شرپسندوں کو روکنے کیلئے گولی چلائی گئی ۔ کچھ ہندو تخریب کار مارے گئے لیکن مسجد کو بچا لیا گیا ۔ دوسری جانب نرسمہا راؤ وزیراظم بنے تو ستمبر1991ء میں ایک بل پیش کیا گیا جس کے تحت مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور 15اگست1947ء کو ان کی جو حیثیت تھی وہ برقرار رہے گی، تاہم بابری مسجد کو نرسمہاراؤ نے اس بل کی شرائط سے مستثنیٰ رکھا۔
1992 میں یوپی مین بی جے پی کی حکومت بنی اور کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ مقرر ہوا ۔ جسے کے بعد پورے ہندوستان میں ہندو انتہا پسندوں نے جلسے جلوس نکالے اور ایڈوانی، سنگھل، ونے کٹیار اور اوما بھارتی وغیرہ 2 لاکھ ہندو دہشت گردوں کو لے کر ایودھیا پہنچ گئے ۔ مرکز سے اچھی خاصی تعداد میں فوج بھی اجودھیا پہنچ گئی مگر اسے نامعلوم مصالح کی بنیاد پر بابری مسجد سے دو ڈھائی کلومیٹر دور رکھا گیا، صوبہ اور مرکز کے نیم فوجی دستے مسجد کی حفاظت کے لئے اس کے چاروں سمت میں متعین کئے گئی مگر انھیں وزیراعظم کی سخت ہدایت تھی ہندو تخریب کاروں پر کسی حال میں بھی گولی نہ چلائی جائے۔
یوں 6 دسمبر کی وحشتناک تاریخ آگئی، ایڈوانی، اوما بھارتی وغیرہ کی قیادت میں تخریب کاروں نے گیارہ بج کر پچپن منٹ پر بابری مسجد پر دھاوا بول دیا اور بغیر کسی مزاحمت کے پورے اطمینان سے چار بجے تک اسے توڑتے اور ملبہ کو دور پھینکتے رہے یہاں تک کہ صفحہٴ زمین سے بابری مسجد کا نام و نشان ختم کردیا گیا۔
بابری مسجد اور اس کے تنازعے کی تفصیل جاننے کے لئے ”اجودھیا کے اسلامی آثار“ نامی کتاب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

Sunday, October 1, 2017

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔
عرب اور ایران کی نسبت ہندوستان میں شعیہ سُنی منافقرت بہت کم رہی ہے۔ تاریخ کو کھنگالنے پر بھی چند ایک واقعات کے علاوہ کسی بڑے فساد کے شواہد نہیں ملتے ہیں۔
اگرچہ ہندوستان میں محمد بن قاسم کی قائم کردہ سلطنت منصورہ کے بعد دوسری اسلامی مملکت جو ملتان میں قائم ہوئی وہ اسماعیلی شعیوں کی تھی۔ تیمور لنگ کے حملے کے بعد مختصر عرصے کہ لیے دہلی میں ایک شعیہ خاندان کی نیم خود مختار حکومت قائم ہوئی۔ اسی طرح شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد ہمایوں ایران فرار ہوا، اور انتہائی متعصب شعیہ حکمرانوں یعنی صفویوں کی مدد سے دوبارہ ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ہمایوں نے ایران نے باقاعدہ شعیہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ تاہم اس کا اثر مغلوں میں چند شعیہ رسومات کی صورت میں اورنگزیب سے پہلے تک باقی رہا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں کی اکثریت سنی العقیدہ تھی اور ہمیشہ رہی ہے۔
انگریزوں کا برصغیر پر قبضے کے دوران پہلے پہل جن نمایاں شخصیات  واسطہ پڑا وہ بھی شعیہ ہی تھے۔ پلاسی کی جنگ میں انگریزوں کا مقابلہ کرنے والا سراج الدولہ، اور معروف غدار میر جعفر دونوں شعیہ تھے۔ اسی طرح ٹیپو سلطان سے غداری کرنے والا میر صادق بھی شعیہ تھا۔ انگریزوں نے تقسیم کرو کی پالیسی کے مطابق سُنی اکثریت کے مقابلے میں ہمیشہ شعیہ اقلیت کو پروان چڑھایا۔ ایران سے جب آغا خان اول کو انگریزوں کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں جلاوطن کیا گیا۔ تو انہیں ہندوستان لا کر مسلمانوں کی قیادت کے منصب پر سرفراز کرایا گیا۔ جس وقت مسلمانان برصغیر خلافت عثمانیہ کے لیے تاریخ ساز تحریک چلا رہے تھے، عین اُسی وقت معروف شعیہ رہنماوں آغا خان اور سید امیر علی نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود عوام میں شعیہ سنی منافقرت جڑ نہیں پکڑ سکی۔ 
طوالت سے بچنے اور موضوع کو سمجھنے کے لیے  صرف یہی مثال کافی ہوگی  کہ برصغیر میں علمائے دیوبند کی دوسری بڑی جماعت "مجلس احرار" کے جنرل سیکریٹری ایک شعیہ 'مظہر علی اظہر' رہے ہیں ۔ اسی طرح  لکھنو کے ایک شعیہ عالم “تحریک مدح صحابہ" کے روح رواں ہوا کرتے تھے۔ 
پاکستان بننے کے بعد بھی شعیہ سُنی منافقرت کی عمومی فضا بہتر رہی، خصوصا "ختم نبوت " کی پوری تحریک کے دوران شعیہ اور تمام سُنی مکاتیب فکر کے علما ایک ہی سٹیج پر موجود ہوا کرتے تھے۔
معاملات وہاں سے خراب ہونے شروع ہوئے، جب 1979 میں ایران میں آنے والے شعیہ انقلاب کو پاکستان جیسے غالب سُنی اکثریت کے ملک میں درامد کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایرانی انقلاب کے سال ہی پاکستان میں شعیہ عالم مفتی جعفر حسین کی صدارت میں ‘تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان’ کا قیام عمل میں آیا۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دھائی کا نصف اول کچھ غالی شعیوں کی جانب سے مسلسل جہاریت اور ہٹ دھرمی کا گواہ ہے۔ اس دوران پاکستان کی پارلیمان کا گھیراو کیا گیا، عمارت کو آگ بھی لگائی گئی۔ زبردستی اپنے مطالبات منوائے گئے۔ اسی طرح کوئٹہ میں پہلا شعیہ سُنی فساد ہوا جس میں کئی سُنی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے گئے۔ اسی دوران ‘بالائی کرم ایجنسی’ خصوصا پارہ چنار سے سُنیوں کا مکمل صفایا کر کے وہاں مضبوط شعیہ ہولڈ قائم کر لیا گیا۔ اسی دوران ایران اور پاکستان کے کئی غالی شعیوں نے صحابہ اور ازدواج مطہرات  کے متعلق دلآزار کتابیں تصنیف کیں، یا پھر ماضی میں لکھی گئی دلآزار کتابوں کے تراجم ہوئے اور اشاعت نو کی گئی۔
ان واقعات کے بعد اہل سنت کی جانب سے رد عمل آنا ناگزیر تھا۔ چناچہ  انقلاب ایران اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام کے 6 سال بعد سپاہ صحابہ وجود میں آئی۔ جس نے پاکستان میں شعیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ غالی شعیوں کے جواب میں سُنی انتہا پسند موقف کی ترجمانی کی۔ لیکن یہ دوسری انتہا پر یوں چلے گئے کہ انہوں نے "کافر کافر شعیہ کافر" کا نعرہ لگا کر تمام شعیوں کو ترازوں کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں پائے جانے والے شعیوں میں غالی شعیہ بہت کم تھے۔ یہاں ہمیشہ سے زیادہ تعداد تفصیلی شعیوں کی رہی ہے۔ جبکہ زیدی شعیہ بھی خاصی تعداد میں موجود رہے ہیں۔ 
سپاہ صحابہ اور غالی شعیوں کی زبانی وتحریری تکرار جلد ہی مسلح تصادم میں بدل گئی۔ پھر اس میں ایرانی اور سعودی پراکسی وار بھی شامل ہوگئی۔ ایک دوسرے پر حملے، مساجد ، امام باڑوں میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی ہے۔
اس سے فائدہ جہاریت پسند غالی شعیہ طاقتوں نے اٹھایا، جنہوں نے خوف اور مظلومیت کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ کسی شعیہ کے لیے معتدل موقف پر برقرار رہنا ناممکن بنا دیا گیا۔ اس لیے آج پاکستان میں اہل تشیع مذہب کے تمام انڈے غالی شعیوں کی ٹوکری میں ہیں۔
اس سے ملتی جلتی صورتحال نسبتا کم شدت سے سُنیوں کو بھی درپیش ہے، یہاں بھی کسی شعیہ کے حق میں بات کرنا یا شعیوں کے کسی جزوی موقف کو تاریخ طور پر درست قرار دینا، رافضیت کا الزام خود پر لینے کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔ 
اس ساری صورتحال میں بدترین کردار ہماری اسٹیبلشمنٹ کا رہا ہے، جسں نے ایرانی انقلاب کی پاکستان میں درامد اور فروغ کو روکنے کے لیے جذباتی سُنیوں کو استعمال کیا۔ اور پھر انتہا پسند سُنیوں کی گوشمالی کے لیے شعیوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جانب واضع جھکاو کی پالیسی کو ترک کر کے ریاست دونوں طرف کے انتہا پسندوں کے خلاف برابری کی سطح پر غیر جانبدارآپریشن کرے۔ تاکہ ہمارا معاشرہ دونوں جانب کے مٹھی بھر انتہا پسندوں کے نرغے سے آزاد ہو سکے۔

Wednesday, September 6, 2017

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟


بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی جنگ سے متعلق یاداشتوں میں بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑی جنگ کے بادل اگست 1965 کے پہلے ہفتہ سے ہی چھانے شروع ہو گئے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب مقبوضہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے چھاپہ مار کارروائی اپنے عروج پر تھی۔ حکومت پاکستان کا سرکاری بیان تھا کہ یہ کشمیری ’حریت پسندوں‘ کی کارروائی ہے۔ لیکن ہندوستان کی حکومت کا واضع اصرار تھا کے یہ چھاپہ مار پاکستان کے فوجی ہیں جو جنگ بندی لائین پار کر کے ہندوستان
کی حدود میں عسکری کاروائیاں کر رہے ہیں۔
16 اگست 1965 کو ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ نے کی کال پر دلی میں عام ہڑتال ہوئی اور اسی روز ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے سامنے تک جلوس نکالا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے
حملے روکنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
آصف جیلانی بتاتے ہیں 20 اگست 1965 کو بھارتی جریدے ’تھاٹ‘ کے نایب مدیر این مکرجی نے مجھے بتایا کہ انہیں بے حد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صبح کابینہ کے اجلاس میں ہندوستا ن کی بری فوج کے سربراہ جنرل جے این چودھری نے شرکت کی تھی اور خبر دار کیا تھا کہ رن آف کچھ کے معرکہ میں شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اور فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی لازمی ہے۔ مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل چودھری نے صاف صاف الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ملک کی سیاسی قیادت کے لیے
اس کے نتایج خطرناک ہوں گے جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
24 اگست 1965 کو اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ (مقبوضہ) کشمیر میں پاکستان کے در اندازوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی فوج جنگ بندی لائین کے پار کارروائی سے دریغ نہیں کرے
گی۔
دلی میں جنگ کے کے بادل اتنے واضع تھے کہ 17 اگست کو پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے نامہ نگار خلیل بٹالوی جو دلی کے پٹودی ہاوس میں اپنی فیملی کے ہمرا رہائس پذیر تھے۔ جنگی حالات کے پیش نظر پٹودی ہاوس چھوڑ کر چانکیہ پوری میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی عمارت میں پناہ لے لی تھی۔
یکم ستمبر 1965 کو ریڈیو پاکستان لاہور پر اعلان ہوا کہ ’آزاد کشمیر‘ کی فوجوں
نے پاکستانی فوج کی مدد سے چھمب پر قبضہ کر لیا ہے۔
تین ستمبر 1965 کو جب لال بہادر شاستری نے اپنی نشری تقریر میں دلی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں بلیک آوٹ کا اعلان کیا تو کسی کو شبہ نہیں رہا تھا
کہ دونوں ملکوں میں جنگ کا بگل بج گیا ہے۔
پانچ ستمبر کو یہ خبر آئی کہ پاکستانی فوج نے جوڑیاں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اور وہ
اکھنور سے صرف چھ میل دور رہ گئی ہے۔
آصف جیلانی مزید یہ بھی بتاتے ہیں کہ 1965 ستمبر کی جنگ کے بعد بھارت میں پاکستان کے سفیر میاں ارشد حسین نے مجھے بتایا تھا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی ٰٓکہ لال بہادر شاستری نے 3 جولائی کو انتقامی حملہ کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا تھا۔ 6 سمتبر کو لاہور پر حملے کی باوثوق ذرائع سے اطلاع ہمیں تاخیر سے ملی تھی، اس کے باوجود 4 ستمبر کو دلی میں ترکی کے سفارت خانہ کے توسط سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو خبردار کردیا تھا کہ ہندوستان 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کرنے والا
ہے۔
اس سب کے باوجود لاہور پر بھارتی فوج کے حملے کو ہم سرکاری طور پر بزدل دشمن کی چوری چھپے کاروائی قرار دیتے ہیں۔

Monday, September 4, 2017

کیا برما اکسیویں صدی کا اندلس بننے جا رہا ہے؟

روہنگیا یا روہنجیا مسلمان آج دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں، اقوام متحدہ بھی انہیں بجا طور پر سب سے زیادہ ستائی جانے والی اقلیت قرار دیتا ہے۔

برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے، تاریخی طور پر برصغیر کا حصہ رہا ہے، مختلف ادوار میں اس کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس پر مختلف سلطنتیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ برصغیر کے دیگر خطوں پر قبضے کے ساتھ ہی برما پر بھی انگریزوں نے قبضہ کر لیا، موجودہ میانمار کے علاقوں پر انگریزوں کے قبضے کی ابتدا 1826 میں ہوئی جب  'اراکان' اور' تناسرم' کا علاقہ  برٹش انڈیا کے زیر قبضہ آیا، برمن وار 1852 میں وسطی برما جبکہ تیسری اینگلو برمن وار 1885 میں بالائی خطے پر قبضے کے ساتھ ہی تمام برما پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا۔

روہنگیا کا آبائی وطن اراکان بنگال سے متصل ہے، یہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ میں مسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا۔ 1430 میں 'سلیمان شاہ' کے ہاتھوں یہاں پہلی اسلامی حکومت تشکیل پائی، اس خطے پر ساڑھے تین سا سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔ 1784 میں برما کے بدھسٹ راجہ بودھوپیہ نے اراکان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا. جس کے خلاف مسلمانوں کی مزاحمت اور بدھ سپاہیوں کے مظالم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالات کی خرابی کا فائدہ انگریزوں نے اٹھایا اور ابتدا میں اراکان اور پھر پورے برما پر قبضہ کر لیا، برما پر قبضہ کرنے والی برطانوی فوج کے سپاہیوں کی اکثریت بنگالی مسلمانوں کی تھی۔ جبکہ اراکان کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کو نجاعت دھندہ سمجھ کر اُن کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں برما کے مسلمانوں کی حالت بہتر رہی، سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں مسلمان نمایاں تھے۔ برصغیر میں مسلمانوں کے تمام رفاعی اداروں اور انجمنوں کو سب سے زیادہ چندہ برما کے دارلحکومت رنگون سے ملا کرتا تھا۔

انگریزوں نے اپنی انتظامی تقسیم کے تحت بنگال اور برما کی حد چٹاگانگ اور اراکان کے درمیان واقعہ دریائے ناف کو بنایا، یوں تاریخ میں پہلی بار یہ خطہ ایک انتظامی یونٹ کے تحت آگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ کے علاوہ یہ برصغیر کا واحد حصہ تھا جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت تھی۔ اس الگ انتظامی یونٹ میں اراکان کے علاقے کو ایک نیم خود مختار ریاست کا درجہ حاصل تھا، جس کے تمام انتظامی معاملات مقامی حکومت کے ماتحت تھے۔

روس میں سویت انقلاب، چین میں اشتراکی شورش اور جاپان کی جرمنی اور اٹلی سے قربت وہ خاص حالات تھے، جنہوں نے انگریزوں کو انیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے بعد سے تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ان حالات میں برصغیر (ہندوستان) میں بڑھتی ہوئی سیاسی آگاہی اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 1938 میں انگریزوں نے برما کو ہندوستان سے جدا کر کے ایک الگ کالونی کا سٹیٹس دے دیا۔ کیوں کہ برما کی سرحد چین، لاؤس اور تھائی لینڈ سے ملتی ہے۔ جہاں بیک وقت اشتراکی اثرات اور جاپان کی جہاریت کے خدشات لاحق تھے۔ (یہ خدشات دوسری جنگ عظیم میں برما پر جاپانی حملے، اور چین میں اشتراکی حکومت کے قیام کی صورت میں سچ بھی ثابت ہو گئے تھے۔)

یاد رہے برما کی ہندوستان سے علیحدگی کو جواز بنا کر ہی آل انڈیا مسلم لیگ نے 1940 میں ہندوستان کے مسلم اکثریتی خطے پر مشتمل'برما طرز کی' الگ  ڈومین تشکیل دیے جانے کی قرارداد پاس کی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب استعماری طاقتوں کو اپنی 'کالونیوں' پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تو برطانیہ نے جہاں برصغیر کو پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کر کے اگست 1947 میں آزادی دی، وہیں برما کو جنوری 1948 میں ایک ملک کی حیثیت سے آزاد کر دیا۔ اس سے قبل اراکان کے مسلمانوں کی جانب سے 
 1945میں برما مسلم کانگریس (BMC) کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنا کر اراکان کی برما سے اعلیحدگی یا پھر اس مسلم اکثریتی خطے کو برما کے بجائے مسلم اکثریتی مشرقی پاکستان میں ضم کرنے کی تحریک شروع کی تھی۔ لیکن نہ تو انگریزوں نے اس پر کان دھرا نہ ہی پاکستان کی نوزائیدہ مملکت نے اس حوالے سے کوئی سرگرمی دیکھائی۔ 

آزادی کے بعد 1950 سے اراکان کے مسلمان تاریخی پس منظر کے حوالے سے اپنے خطے کی برما سے اعلیحدگی کی کوشش کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے کبھی حالات زیادہ کشیدہ ہو جاتے اور کبھی کشیدگی میں کمی بھی ہوتی۔ اس سلسلے میں بڑی تبدیلی 1962 میں آئی جب برما میں جنرل 'نی ون' نے "برمی قومیت" کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کیا۔ اس کے فوری بعد مارشل لاء آڈر کے تحت برمی فوج اور سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کو غدار قرار دے کر نکال دیا گیا۔ اراکان پر فوج کشی کی گئی اور بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ 5 لاکھ سے زیادہ اراکانی مسلمانوں نے اس دور میں ہجرت کی، جو بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان، سعودیہ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں آباد ہو گئے۔

 1982میں ایک مارشل لا کے ایک ضابظے کے تحت اراکان کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر قرار دے کر حق شہریت سے بھی محروم کردیا گیا۔ یوں یہ اپنے ہی آبائی وطن میں غیر ملکی قرار پائے، نئے قانون کے مطابق ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی کے لیے کم ازکم 30 سال عمر مقرر کی گئی، شادی  کے لیے بھی سرحدی سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول ناگزیر قراردیا گیا، تاکہ ان کی آبادی کی شرح میں اضافہ نہ ہوسکے۔ اراکانی مسلمانوں پر سرکاری سکولوں میں پڑھنے، کاروبار کے لیے لائسنز حاصل کرنے یا ملازمت کرنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ ان پر ملک کے اندر سفر کرنے کے لیے بھی پرمٹ کے حصول کی پابندی لگائی گئی۔ تاکہ یہ اپنے حقوق سے آگاہ نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کے قابل رہیں۔ اراکان کا نام تبدیل کر کے 'رکھائین' رکھ دیا گیا تاکہ مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی سے کاٹا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی حکمران فوجی جنتا نے بدھسٹوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے بدھ مت کے مذہبی پیشواوں یعنی مانکوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ تاکہ عوام کی توجہ فوجی جنتا کی بدعمالیوں سے ہٹی رہے۔ نتیجے میں مسلمان ایک جانب برمی فوج اور دوسری جانب بدھ مذہب کے پروکاروں کے مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس دوران مسلمانوں کو  کئی فسادات کا نشانہ بنایا گیا۔ جن میں 1997کے منڈلالی کے فسادات، 2001 میں ٹنگائو کے فسادات، 2012 ء میں راکھینی  فسادات، 2013ء میں پورے میانمر میں مسلم کش فسادات، 2014ء میں ایک بار پھر منڈلالی فسادات، 2016ء میں مساجدوں کا جلائو اور رہنگیا کے فسادات اور اب 2017ء میں روہنگیا میں ہونے والے مسلم کش فسادات شامل ہیں۔
 2011 میں 1962 سے جاری طویل مارشل لا کا خاتمہ ہو گیا، لیکن جمہوریت کی بحالی سے مسلمانوں کی حالت  میں کوئی فرق نہیں پڑ سکا ہے۔ امن کا نوبل انعام پانے والی برما کی وزیر اعظم 'آنک سان سوچی' بدھ مانکوں کے خوف سے مسلمانوں کی بدترین نسل کشی پر لب کھولنے کی ہمت کے قابل بھی نہیں۔  آج صورتحال یہ ہے، 
ایک لاکھ دس ہزار برمی مسلمان مہاجرین برما۔تھائی لینڈ سرحد پر 9 کیمپوں میں بد حالی کی زندگی گزار رہے ہیں، کئی لاکھ بنگلادیش اور ہندوستان کے کیمپوں میں انتہائی بے بسی کا شکار ہیں۔ جبکہ ان کے آبائی وطن اراکان میں بچے مسلمانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کا گینگ ریپ، عورتوں بچوں اور مردوں کا قتل، مساجد، سکول اور گھروں کو جلانے کی کاروائیاں  فوج خود کر رہی ہے، یا  فوج کی سر پرستی میں یہ عمل جاری ہے۔ فوج اور بدھ دہشت گردوں نے صرف 2 ستمبر 2017 کو 2600 سے زیادہ گھر جلائے ہیں۔ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققوں نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار حکومت کے زیرِ سر پرستی، روہنگیا کی باضابطہ نسل کشی اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

بدھ مانک کھلے عام اعلان کر رہےہیں کہ ہم برما سے مسلمانوں کو اُسی طرح مٹا کر دم لیں گے جس طرح انہیں سپین سے مٹایا گیا تھا۔واقعات بتا رہے ہیں کہ  اس دعوے کو حقیقت بننے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔ 
      

Thursday, August 17, 2017

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اختیار اور 1992 میں سبکدوش ہوئے۔ اس طویل فوجی سروس میں وہ 1987 سے 1989 کے دوران 2 سال کیلئے آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ لیکن وہ ہمیشہ خود کو سابق سربراہ آئی ایس آئی کہلانا پسند کرتے تھے۔ حمید گل صاحب مارچ 1987 جنرل اختر عبد الرحمان کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی کے بعد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے تھے۔ یہ عین وہی وقت تھا جب سوویت یونین نے افغانستان سے انخلا کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جنرل صاحب کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے چند دن بعد ہی افغان مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے والا اوجھڑی کیمپ پراسرار طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اندازے کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد کے 5 ہزار معصوم لوگ لقمہ اجل بنے تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی قربانی 248 سٹنگر میزائلوں کو ملک کے بہترین مفاد میں محفوظ کرنے کے لئے پیش کی گئی تھی۔ سویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے فوری بعد امریکہ اور اس کے زیر اثر مغربی و عرب حکومتوں کی توجہ سویت یونین کی شکست سے مسقبل میں جہادیوں کی طرف سے ممکنا خطرات کی طرف منتقل ہوئی۔ جرنل حمید گل صاحب نے تجربہ کار جہادیوں کو ’’ تلف‘‘ کرنے کی بہترین حکمت عملی تیار کی۔ پہلے مرحلے پر اپنی تمام تر عسکری مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشن جلال آباد کی منصوبہ بندی کی۔ جس کے دوران 4 ہزار تجربہ کار مجاہدین شہید ہوئے لیکن جلال آباد فتح نہ ہو سکا۔ پھر ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ چند ماہ میں ختم ہوتی نظر آنے والی کابل انتظامیہ کئی سال تک چلتی رہی۔ پھر جب کابل انتظامیہ ختم ہوئی تو بھی اقتدار جہادیوں کے ہاتھ نہیں آسکا۔ انہیں جنرل صاحب کے دور میں عرب مجاہدین کے قائد عبد اللہ عزام کو پشاور شہر میں ایک بم حملے میں شہید کر دیا گیا۔ افغان مہاجرین کے شمشتو اور جلوزئی کیمپوں پر عسکری کاروائیاں کر کے غیر افغان خصوصا عرب مجاہدین کو گرفتار کر کے عرب حکومتوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی مجاہدین کو "تلف" کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں جہاد شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا سہرا بھی جرنل صاحب کے سر سجتا ہے۔ حمید گل صاحب کو جب 1989 میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر ملتان بنایا گیا تو وہ خاصے ناراض ہوئے۔ پھر جب 1991 میں انہیں ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نامزد کیا گیا تو انہوں نے اسے اپنی توہین قرار دے کر ریٹائر منٹ اختیار کر لی۔ جرنل صاحب کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی وجہ امریکہ کا دباؤ ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کے بعد امریکہ کو دنیا بھر کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ 
جہادیوں کو "تلف" کرنے کے علاوہ انکا دوسرا کارنامہ "پولٹیکل انجینیئرنگ" ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پرائم انٹیلیجنسی کے ذریعے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، حکومت کی برطرفی و تشکیل اور سیاستدانوں کو اوپر اٹھانے اور گرانے کا ایسا کامیاب نظام وضع کیا، جو آج تک پوری کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ جرنل ریٹائر حمید گل صاحب اپنی بات پورے اعتماد سے کیا کرتے تھے، لیکن 2001 کے بعد میں نے کئی بار اُن سے پرائیوٹ جہاد کے بارے میں سوال کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے خاصے کنفیوژ دیکھائی دیے۔ اُن کی رائے کا لُب لُباب یہ تھا کہ پرائیوٹ جہاد میں کوئی ہرج نہیں اگر وہ مکمل طور پر سرکاری کنٹرول میں رہے تو۔ 
جرنل صاحب اُس خاص زہنیت کا ایک شہکار تھے جس کے خیال میں اسلام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، البتہ اگر کہیں اسلام اور ملکی مفاد میں ٹکراو پیدا ہو جائے تو پھر ترجیع ملکی مفاد کو دی جانی ضروری ہے۔ 
اللہ اُن کی خطاوں سے درگزر اور اُن کی مغفرت فرمائے۔ آمین

Monday, August 14, 2017

یوم آزادی اور حقیقی آزادی کی منزل کا حصول

حقیقی آزادی سے محرومی صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔
تیسری دنیا (Third World) کے تمام ہی ممالک حقیقی آزادی سے کوسوں دور ہیں۔ ہم اس وقت ’مابعد استعماری دور‘ (Post Colonial Era) میں زندہ ہیں۔ یہ دور افریقہ اور ایشیا کے پورے سابق نو آبادیاتی خطے پر یکساں مسلط ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپی قابضین کے لیے اپنی کالونیوں پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مہنگا ہوگیا تو انہوں متبادل انتظام کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ متبادل انتظام دو مختلف سطعوں پر مشتعمل ہے۔
اول استعماری طاقتوں نے یہاں ایک اشرافیہ (Elite Class) تخلیق کی، جس کے مفادات اپنے ملک سے زیادہ استعماری طاقتوں (Colonialist) sy سے وابسطہ ہیں۔ یہ اشرافیہ سول و ملٹری نوکرشاہی، سیاستدانوں اور بڑے کاروباریوں پر مشتعمل ہے۔ (اس اشرافیہ کی تخلیق کس طرح کی گئی اور اس کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے، یہ ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے، جس پر پھر کبھی گفتگو کی جائے گی) بادی النظر میں اشرافیہ کی پہچان یہ ہے کہ ان کے بچے استعماری ممالک میں پڑھتے ہیں، ان کے کاروبار، جائیداد اور بنک اکاونٹ انہی ممالک میں ہوتے ہیں، یہ اپنے علاج کے لیے بھی استعماری ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔
بلواسطہ حکمرانی کی دوسری سطع بین القوامی تنظیمیں ہیں۔ جیسے اقوام متحدہ، ولڈ بینک، آئی ایم ایف، ولڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، وغیرہ، نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا۔ یہ تمام تنظیمیں اور ادارے مل کر ترقی پزیر ممالک کو اپنے جال میں جھکڑے رکھتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد ان ممالک کے عوام کا خون نچوڑنا اور استعماریوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ ان تنظیموں اور اداروں کا ثانوی مقصد ہے کہ اگر کسی ملک کی اشرافیہ کا کوئی طبقہ استعماری مفادات سے روح گردانی کرنا شروع کر دے۔ یا پھر کسی ملک کے اقتدار پر اشرافیہ کے بجائے عوام کے حقیقی نمائندے پہنچ جائیں، تو انہیں روکا جائے۔
ایسی صورت میں یہ تنظیمیں کُھل کر حرکت میں آتی ہیں، پہلے مرحلے اُس ملک کو ولڈ بینک، آئی ایم ایف وٖغیرہ اقتصادی طور پر دیوالیہ کرتے ہیں۔ تاکہ عوام کو روٹی کے لالے پڑھ جائیں اور وہ حکومت سے بدظن ہوں۔ پھر انسانی حقوق کی تنظیمیں اُس ملک کے خلاف الزامات کا طوفان برپا کرتی ہیں، اور میڈیا رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔
اس کے بعد کا مرحلہ دو مختلف انداز میں طے پاتا ہے، حالات کے مطابق یا تو مقامی اشرافیہ کی مدد سے تخہ الٹ دیا جاتا ہے۔ یا پھر اقوام متحدہ باقاعدہ فوجی کاروائی کی اجازت دیتی ہے اور پھر استعماری ممالک کی فوجیں چڑ دوڑتیں ہیں۔
یہاں تک کہ اقتدار پھر استعماری طاقتوں کی وفادار اور تابع فرمان اشرافیہ کے ہاتھ آ جائے۔
مصنوعی طور پر حالات خراب کر کے اقتدار دوبارہ مقامی اشرافیہ کے حوالے کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں، جن میں سے ایران میں ڈاکٹر مصدق اور مصر میں اخوان کی حکومت کے خلاف ہونے والے آپریشن ہمارے ہاں معروف ہیں۔
اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنگی کاروائیوں کی مثالیں، افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ، عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی کی حکومتوں کا خاتمہ ہمارے سامنے ہے۔
استعماری طاقتوں کی اس نئی غلامی سے آزادی کا خواب تک پورا ہونا ممکن نہیں، جب تک اس غلامی کی آگاہی عوام کو نہیں ہو جاتی اور اُن میں اس غلامی سے آزادی کے لیے بھی وہی جذبہ بیدار نہیں ہوجاتا جو استعماری طاقتوی کی براہ راست غلامی کے خلاف بیدار ہوا تھا۔ اس پورے نظام سے مکمل آگاہی کے بغیر اس سے نجاعت کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہیں۔ یہی وجہ ہے آج تک کہیں بھی معمولی سی کامیابی بھی نصیب نہیں ہو سکی ہے۔

کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟

حالات تو اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 66 سال کا جہاندیدہ سی...