Wednesday, May 17, 2017

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس مقام پر پہنچا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ میں ساتویں صدی سے پندرویں صدی عیسوی کا دور مذہب وابستگی کے عروج کا دور تھا۔ کلیساء کے حکم پر عوام مال و جائیداد ہی نہیں بلکہ اولاد و عیال بھی قربان کر دیتے تھے۔ اپنی جان لُٹانا تو ایک معمولی سی بات تھی۔ مذہب کے لئے یورپ والوں جانثاری کی حقیقت جاننے کے لئے صرف صلیبی جنگوں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ اس دور میں ریاست برائے نام تھی، قوت کا اصل اور واحد ماخذ کلیساء تھا۔ والیانِ ریاست اور ڈیوک وغیرہ کلیساء کے حاشیہ بردار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

تیرویں صدی کے بعد مذہبی پیشواوں نے عوام کی عقیدت اور خلوص کو اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ عوام بے حال ہوئے اور مذہبی پیشواوں کے رہن سہن بادشاہوں سے بھی اعلیٰ ہوتا چلا گیا۔ چرچ سونے اور جواہرات سے بھر گئے۔ خانقاہیں عیاشی کے اڈوں میں تبدیل ہوگئیں۔

غضب یہ بھی تھا کہ مذہبی پیشواں کی ان غلط کاریوں پر انگلی اٹھانے کی جرات کرنے، یا پھر مذہبی پیشواون کی کسی تعبیر سے اختلاف کرنے والے کو گمراہ اور بدعقیدہ قرار دیا جاتا۔ اس "بدعقیدہ" کو مذہبی عقوبت خانوں میں ایسے ایسے الاتِ تشدد سے گزار کر اعتراف جرم کرایا جاتا، جن کو عجائب گھروں میں دیکھ کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اعتراف جرم کے بعد اُس "بدعقہدہ" کو شہر کے کسی مرکزی چوک میں آگ کے الاو میں زندہ جلا دیا جاتا۔ دوسری جانب کوئی بھی امیر اور گناہ گار شخص مذہبی پیشواں کو بھاری مالیت کا خراج دے کر دنیا کے لئے معافی نامہ اور آخرت کے لئے بخشش نامہ حاصل کر لیتا تھا۔

ایسے حالات مذہبی پیشواں سے نفرت کا جنم فطری تھا۔ چونکہ یہ پیشوا اپنی تمام بدعمالیوں کے لئے مذہب کا سہارا لیتے تھے اس لئے عوام میں یہ نفرت مذہب بیزاری کا روپ اختیار کرتی چلی گئی۔ جو آج ہمارے سامنے الحاد کی شکل میں موجود ہے۔ اور جس کے باعث عیسائی مذہب ایک نمائشی رسومات کا پلندہ بن چکا ہے۔

سوچنے کی ضروت ہے کہ آج ہمارے ہاں جو الحاد اور مزہب بیزاری کے بیج پھوٹ رہے ہیں۔ اس کی وجوعات کیا ہیں۔ کیا کہیں مذہبی شدت پسندی، مسلک پرستی، اور مذہبی پیشواوں کی مادیت پرستی سے نم تو نہیں مل رہا؟

کیا ہم یورپ کی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بار تاریخ خود کو مشرق میں دہرا دے۔  

Friday, May 12, 2017


مطیع الرحمن نظامی۔۔۔۔ سعادت کی زندگی شہادت کی موت






اس شخص کے نصیب کے کیا ہی کہنے۔
ایک مومن کی خواہشات ہی کتنی ہوتی ہیں؟
سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت۔
اس شخص کی حیات قابل رشک تھی تو موت قابل فخر۔ 31 مارچ 1943 کو لطف الرحمٰن کے گھر پیدا ہونے والا مطیع الرحمٰن بچپن میں والدین کا ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کا دلارا رہا۔ مدرسہ العالیہ سے اسلامی فقہ میں کامل کی سند اور ڈھاکہ یونیوسٹی سے گریجویشن کی ڈگری کے ساتھ استاتذہ کی محبت بھی سمیٹی۔ دور طالب عملی میں ہی وہ لاکھوں طلبہ کی دلوں کی دھڑکن بھی بن چکا تھا۔ پہلے اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان (اسلامی چھاترو شنگو) کا ںاطم ہوا، پھر متحدہ پاکستان میں طالبہ کی سب سے بڑی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلا اور اکلوتا بنگالی ناظم اعلیٰ بنا۔ بیسویں صدی کے چھٹے اور ساتویں پُر آشوب عشروں میں یہ نوجوانوں کا ہیرو تھا۔ یہ بنگلہ، انگریزی، عربی اور اردو کا بے مثل مقرر تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد انتہائی خطرناک حالات میں اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلامی چھاترو شبر کے نام سے احیاٗ کیا۔ پھر جماعت اسلامی میں آئے اور ایک عشرے کے اندر ہی اُسے ملک کی بڑی سیاسی جماعت بنا ڈالا۔ یہ کسی ایک جماعت کا ہی نہیں بلکہ عوام کا بھی ہر دلعزیز قائد تھا۔ ہر حلقے کا ناقابل شکست سیاسی امیدار رہا ۔ ایک بار وزیر زراعت اور ایک بار وزیر صنعت بنا۔ اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کے کامیاب ترین وزیروں میں شمار کیا گیا۔ پیشے کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات کا استاد تھا۔ اُس نے مختلف موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کیں۔ مسلم دنیا میں انہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک دنیا کے 500 با اثر ترین افراد میں شامل رہا ہے۔
 پھر جب عالمی استعماری طاقتوں نے دنیا میں اسلام کے نفاذ کی تحریکوں کو مٹانے کا فیصلہ کیا، تو سکیولرازم کے نشانے پر اسلامی سیاسی جماعتیں آئیں۔ سیاسی اسلام کے لئے دنیا بھر میں عرصہ حیات تنگ ہوا۔ بنگلہ دیش میں ربع صدی پہلے حل ہو جانے والے قضیے کو دوبارہ کھولا گیا۔ نام نہاد جنگی جرائم کی تحقیق کا ایسا ٹربیونل بنا جس کی کاروائی کی مذمت دنیا بھر نے کی۔ اسی ٹربیونل کی جانب سے اس پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ بنایا گیا۔ انتہائی یکطرفہ کاروائی کے بعد موت کی سزا سنائی گئی۔ اس قسمت کے دھنی نے فیصلہ پوری جرات اور استقامت سے سنا۔ ایک اللہ کے سوا کسی سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کیا، تہتر سال کی عمر میں ثابت قدمی اور آہنی عزم کے ساتھ خود چل کر تختہ دار تک آیا۔ اسلام سے وفاداری کی پاداشت میں ملنے پھندے کو چوم کر گلے میں حمائل کیا۔ اور ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔
 اس شخص کی دار فانی سے رخصتی پر دنیا بھر کے کروڑوں اہل ایمان کی آنکھیں نمناک ہوئیں، اور دل دکھ سے شق ہوئے۔ دنیا کے تقریبا ہر بڑے شہر میں اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ایسے نصیب اللہ کی خاص عنایت سے ہی میسر آ سکتے ہیں۔
اے راہروانِ راہ وفا! ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
 تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت
(مطیع الرحمٰن نظامی صاحب کی شہادت پر لکھی گئی تحریر)

Tuesday, May 2, 2017

خلافت کا خاتمہ اور اہل ہندوستان کا کردار


مصطفیٰ کمال پاشا
مارچ کا مہینہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا مہینہ ہے۔ 3 مارچ 1924 کو مصطفی کمال نے 14 سو سال سے قائم اس مقدص ادارے کو سامراجی طاقتوں کی آشیرواد سے ختم کر ڈالا تھا۔
خلافت عثمانیہ کے متوازی حکومت قائم کرنے کے باوجود 8 اپریل 1923ء کی تقریر میں مصطفٰی کمال نے بہت واضع الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ''خلافت ایک مقدص اسلامی ادارہ ہے اس لئے اعلیٰ تُرک قومی اسمبلی اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔" یہی نہیں بلکہ یکم
اثنا عشری شعیوں کے رہنما سید امیر علی
نومبر 1923ء میں ترکی کو جمہوریہ بنائے جانے کی قرار داد میں بھی خلافت کو برقرار رکھا گیا تھا۔

اسی دوران 13 دسمبر 1923 کو فرانس میں مقیم اسماعیلوں کے روحانی پیشوا سر آغا خان اور برطانیہ میں مقیم اثنا عشری، اہل تشیع کے معروف لیڈر جسٹس سید امیر علی نے ایک مشترکہ خط تُرک حکومت پر براجمان مصطفی کمال اور عصمت انونو کو لکھا۔ جس میں خلیفہ کے اختیارات میں تخفیف پر احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عالم اسلام میں بسنے والے کروڑوں "سنّی مسلمانوں" کی جذباتی و مذہبی وابستگی خلافت کے ادارے سے ہے، لہذا تُرک حکومت کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے محتاط رہے۔

خط تُرک حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی فرانس برطانیہ اور خود تُرکی کے اخبارات میں شائع ہو گیا اور دنیا بھر میں ایک سُلگتا ہوا موضوع بحث بن گیا۔

اسماعلیوں کے روحانی پیشوا آغا خان اول
سید امیر علی اور آغا خان کا خط 
 لندن اور پیریس میں موجود دو اعلیٰ سطی اختیارات کے حامل اشخاص کی جانب سے لکھے گئے اس طرح کے خط کے مضمرات کو زیر بحث لانے کے لئے 15 فروری کو تُرک فوجی کمانڈروں کی میٹنگ ازمیر شہر میں طلب کی گئی۔ جہاں اس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اسی موضوع پر یکم مارچ 1924 کو تُرک قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ایک جذباتی تقریر کی۔ اُس نے اسمبلی ممبران کو بتایا کہ یہ خط دراصل برطانیہ اور فرانس کے گماشتوں کی بہت بڑی سازش ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک خلافت کا ادارہ برقرار رہے گا یہ طاقتیں اسی طرح تُرکی کے معملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ خلافت کو ہمیشہ تُرک جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کل کلاں کو خلافت کے اختیارات کی بحالی کی آڑ میں ترکی پر جنگ بھی مسلط کی جا سکتی ہے۔ لہذا تُرک قوم اور ملک کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ اسمبلی میں خوب گرما گرم بحث ہو ئی اور بلآخر 3 مارچ کو اسی جذباتی فضا میں قانون نمبر 431 کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ جس میں خلافت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

خلافت کے تحفظ کے لئے مسلمانانِ برصغیر نے انگریزوں کے غلام ہونے کے باوجود ایثار اور سرفروشی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی بہت اہم ہے، جسے جان بوجھ کر تاریخ سے حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے ساتھ ہی خلافت کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوا تو 5 جولائی 1919ء کو بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم ہوئی۔ جس کا مقصد رائے عامہ کو منظم کر کے ”خلافت کی برقراری، مقامات مقدسہ کے تحفظ اور سلطنتِ ترکی کی مجوزا تقسیم رکوانے کے لئے انگریزوں پر دباؤ ڈالنا تھا۔ خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر اُن کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔ اسی اپیل کے نتیجے میں دسمبر 1919ء کو کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے۔  کانگریس کے اجلاس میں تحریک خلافت کی حمایت کا معملہ زیر بحث آیا تو ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران نے حمایت کے حق میں فیصلہ دیا۔ تحریک خلافت کی حمایت کی مخالفت کرنے والے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے واحد رکن جناب محمد علی جناح صاحب تھے۔ جنہوں نے نہ صرف پارٹی کے اجلاس میں اس فیصلے کی مخالفت کی بلکہ حمایت کا فیصلہ طے پا جانے پر احتجاجا کانگریس کی ورکنگ کمیٹی اور بنیادی رکنیت سے ہی استعفی دے دیا تھا۔

(محمد علی جناح صاحب کی کانگریس سے اعلیحدگی کی یہی وجہ بنی، جس کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ بظاہر محمد علی جناح صاحب کی مخالفت کی وجہ بڑی معقول تھی۔ اُس وقت تک اُن کا تعلق اسماعیلی مذہب سے تھا، جو خلافت کے ادارے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اُن کے نزدیک زندہ امام ہی سربراہ حکومت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس وقت تک جناح صاحب اثنائے عشری مذہب اختیار کر چکے تھے۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے توبھی یہ حقیقت یہی ہے کہ خلافت کا ادارہ اثنائے عشریہ کے ہاں بھی قابل قبول نہیں، اُن کے ہاں خلافت کی جگہ مقدص سیاسی ادارہ "ولایت فقیہ" ہے)

Tuesday, October 27, 2015

تاریخ برصغیر چند حقائق (حصہ اوّل)


تاریخ کا کھلے دماغ اور غیرجاندارانہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو عجیب عجیب انکشافات ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے تاریخ برصغیر زیر مطالعہ ہے۔ اس مطالعہ سے حاصل ہونے والی اہم معلومات احباب سے شئیر کرنے کا ارادہ ہے۔ تاکہ جو حقائق نظر آئے ہیں، اجتماعی طور پر معروضی انداز میں اُن کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور اگر سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اُس کی اصلاح ہو سکے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی ستمبر 1599ء میں لندن میں وجود میں آئی۔ اگلے سال یعنی 1600 اس نے ملکہ الزبتھ اول سے ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ 1612ء میں تھامس مور نے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہو کر کمپنی کے لئے تجارت کی اجازت حاصل کی۔ 1613ء میں سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی گئی۔1647ء تک ان کی 23 قلعہ بند فیکٹریاں مختلف شہروں میں تھیں۔ جن کی حفاظت کے نام پر خاصی بڑی فوج بھی تیار کی گئی تھی۔ جس کی مدد سے 1689ء میں کمپنی نے پہلی مرتبہ بھاری معاوضے پر علاقائی جھگڑے میں ایک فریق کی مدد کی۔ یوں وہ ایک علاقائی قوت بن گئی۔ طوائف الملوکی کے اس دور میں پرائیوٹ فوج سب سے نفع بخش کاروبار تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کاروبار سے خوب نفع کمایا۔ اور ساتھ ہی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے طور پر علاقوں کی تسخیر کا آغاز بھی کر دیا۔ 1717ء میں کمپنی کے سامان اور مال پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ جس سے اس کے نفعے میں گئی گناہ اضافہ ہو گیا۔ کمپنی نے اس نفعے کو فوج میں اضافے کے لئے استعمال کیا۔ اور وہ ایک بڑی فوجی قوت بن گئی۔ کمپنی کو پہلی بڑی عسکری کامیابی 1757ء میں پلاسی کے میدان میں حاصل ہوئی۔ جب اس کی افواج نے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال جیسے بڑے صوبے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کمپنی کامیابیوں کو گویا پر لگ گئے۔ 1799 ء میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شکست کے بعد ہندوستان پر قبضے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔ یہاں تک کہ 1835ء میں سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن اکبر شاہ ثانی انگریزوں کا کٹ پُتلی بن گیا۔ تب سے منادی کرنے والوں نے صدا لگانی شروع کی کہ "خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا"۔ 1849ء تک پنجاب، سرحد اور سندھ بھی انگریزوں کے سامنے ڈھیر ہو چکے تھے۔ یوں انیسویں صدی کے نصف اول کے اختتام سے پہلے ہی برصغیر کی تمام ریاستیں، راجے، مہاراجے اور فوجی طاقتیں یا تو انگریزوں کی حاشیہ بردار بن چکی تھیں یا پھر اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
ہندوستان کی کامل تسخیر کو صرف آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ 1857ء میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوئی۔ جسے ہندوستانیوں نے جنگ آزادی اور انگریزوں نے غدر کا نام دیا۔ یہ بغاوت سراسر عوامی تھی۔ اس میں تمام ہندوستانیوں نے بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب مل کر حصہ لیا۔ خصوصا مسلمانوں اور ہندوں کا اتحاد مثالی تھا۔
ایک بار تو انگریزوں کی ہوا اکھڑ گئی تھی۔ لیکن وہ سکھوں کی فوج اور غداروں کی مدد سے بلآخر بمشکل بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔ غداروں میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ جنگ آزادی تو ناکام ہو گئی، لیکن انگریزوں کو کھٹکا لگ گیا کہ کسی بھی وقت دوبارہ بغاوت کا ظہور ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لئے انہوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی اختیار کی۔
انگریزوں کی اس پالیسی نے متحدہ ہندوستان میں کیا رنگ بکھیرے اور آج تک ہم کن صورتوں میں اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں اسی کا مطالعہ ہمارا موضوع ہے۔
انشا اللہ آئیندہ اقساط میں اسی پر گفتگو کی جائے گی۔
(جاری ہے)

Saturday, October 24, 2015

واعظ اثر کیوں کھو دیتے ہیں

نکاح کی تقریب میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مولانا صاحب نے سماں باندھ دیا. نہایت جلالی انداز میں حاضریں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے اپنی خوائشات اور نمود نمائش کی خاطر نکاح کو مہنگا بنا دیا ہے. جس کی وجہ سے زنا آج آسان جبکہ نکاح مشکل ہو چکا ہے. بے حیائی نے معاشرے کی چولیں ہلا ڈالی ہیں. یاد رکھو قوموں کی تباہی میں سب سے اہم کردار بے حیائی اور زنا کاری کا ہوتا ہے. تمارا معاشرہ اب تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے. اگر اب بھی نہ پلٹے تو تمارا مقدر دردناک عذاب ہو گا. اگر اللہ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے نکاح کو سہل اور بلا قیمت کر دو. شادی میں مہر اور ولیمہ کے سوا ہونے والے تمام اخراجات اور رسومات کو ختم کر دو. مہر بھی کم مقرر کرو اور ولیمہ بھی سادگی سے ہو. تبھی معاشرے میں عفت حیا اور پاکبازی کو فروغ ملے گا. اللہ کی نعمتیں اور برکتیں نازل ہوگی.
تقریب کے اختتام پر میرا دل چاہا کہ اسے حق گو اور بے باک عالم سے مصافہ کرنے کی سعادت حاصل کروں. مولانا صاحب کی طرف گیا تو انہیں ہجوم میں گرا پایا. غالبا تقریب میں موجود ہر شخص کی دلی کیفیت میرے جیسی تھی. حل میں ایک طرف مولانا صاحب کے ساتھ آنے ان کے اسسٹنٹ نما صاحب دولہے کے باپ سے مصروف گفتگو تھے. سوچا اُن سے ہی مولانا صاحب اُن کا پتہ پوچھ لوں اور مستقل ان کے ہاں حاضری کو معمول بناوں. تاکہ کچھ تذکیہ نفس ہو سکے. یہی سوچ لئے قریب جا کر کھڑا ہوا. وہ صاحب دولہے کے والد سے کہ رہے تھے کہ نکاح پڑھانے کے پانچ سات ہزار تو گلی محلے کے کے مولوی لیتے ہیں. مولانا صاحب کو تو لوگ لاکھوں ہدیہ کر دیتے ہیں. آپ زیادہ اصرار کر رہے ہیں تو بیس ہزار روپے اور کپڑوں کا جوڑا دے دیں.
میں ایڈریس لئے بغیر ہیک واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.

Wednesday, August 5, 2015

پاکستان کا دوست کون؟ دشمن کون؟

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب نوے فیصد افغانستان پر ملؔا عمر کی حکومت تھی۔ تب ایک بار مجھے مغرب کے بعد کابل سے قندھار کے لئے ہنگامی طور پر نکلنا پڑا۔ گاڑی کے افغان ڈرائیور نے بتایا کہ رات کے اوقات میں شہر سے نکلنے اور راستے کی چوکیوں سے گزرنے کے لئے ’’نامِ شب‘‘ (Night code) معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کابل سے نکلنا راستے میں موجود درجنوں چوکیوں سے گزرنا اور قندھار میں داخل ہونا ناممکن ہے۔
میں نے کئی جگہ فون گمایا کہ کسی متعلقہ ذمہ دار سے رابطہ ہوجائے تاکہ نائٹ کوڈ حاصل کر سکوں، لیکن اتفاق ایسا تھا کہ کوئی بھی فرد دستیاب نہیں تھا۔ ڈرائیور سے عرض کی کہ اللہ کا نام لے کر نکلتے ہیں، دیکھیں گے کہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ ڈرائیور نے بڑے معنی خیر انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ضد کر رہے ہو تو چلے چلتے ہیں لیکن ایک گھنٹے بعد پہنچیں گے واپس اِدھر ہی۔
کابل کے علاقے ’’وزیر اکبر خان‘‘ سے روانہ ہو کر ہم آدھ گھنٹے میں شہر کے خارجی راستے پر واقع پہلی چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ پوسٹ پر رُکتے ہی حسبِ توقع پہلے منزل اور پھر ’’نامِ شب‘‘ پوچھا گیا۔ ’’نامِ شب‘‘ معلوم نہ ہونے پر آگے جانے کی اجازت دینے سے قطعی انکار ہو گیا۔ ڈرائیور نے پشتو اور فارسی میں خاصی بحث کی لیکن جب انکار، اقرار میں تبدیل نہ ہوا تو میری طرف مڑ کر پشتو لہجے میں پنجابی کا مشہور جملہ بولا ’’ہن آرام ای‘‘۔
ڈرائیور کا یہ جملہ سُن کر چوکی پر موجود طالبان کے ذمہ دار نے مجھ سے پوچھا تم پاکستانی ہو؟
میرے اقرار پر اُس نے ہمیں چوکی کے اندر آنے کی دعوت دی، قہوہ پلایا، تاخیر پر معذرت کی، نامِ شب بتایا اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی کہ ہر صوبے کی چوکی پر "نامِ شب" مختلف ہوتا ہے۔ ہر نئے صوبے کی چوکی پر بتا دینا کہ تم پاکستانی ہو، انشا اللہ کہیں مسئلہ نہیں ہوگا، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ راستے میں آنے والی درجنوں چوکیوں میں سے کسی پر "نامِ شب" اور کہیں ’’پاکستانی‘‘ کا ’’اسم اعظم‘‘ دھراتے رہے، جس پر فورا قہوہ پر اصرار کے ساتھ آگے جانے کی اجازت مل جاتی۔ یقین جانیے اُس وقت اپنے پاکستانی ہونے پر جتنا فخر محسوس ہوا ویسی نوبت آج تک دوبارہ نہیں آ سکی ہے۔
اس کے ٹھیک ایک سال بعد ہی پاکستانی ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے والے بی 52 طیاروں سے برسنے والے ڈیزی کٹر بموں نے طالبان کی حکومت کو قصہ پارینہ بنا دیا تھا۔ پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر طالبان حکومت کے خاتمے اور حامد کرزی کی حکومت کے قیام میں اہم قردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت مجھے ایک بین القوامی ٹی وی چینل سے اس کے کابل بیورو میں کام کرنے کی آفر ملی۔ میں اپنے پاکستانی اور غیر ملکی صحافی دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے متفقہ طور پر ایک ہی جواب دیا، افغانستان میں انڈین لابی قابض ہے وہاں کسی بھی پاکستانی کی زندگی کسی بھی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔ افغانستان جانے والے کئی پاکستانی صحافی دوستوں نے کابل میں عوام اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تذلیل کے ایسے قصے سُنائے کے کابل جانے کے نام سے توبہ کر لی۔
آج جب مجھ سے کہا جاتا ہے کہ طالبان اور ملّا عمر کا اچھے الفاظ میں ذکر یا افغانستان پر قابض امریکہ کی کٹھ پُتلی حکومت پر تنقید پاکستان سے دشمنی کے برابر ہے، تو مجھے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دشمنی اور دوستی کے معیار بنانے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کا دل کرتا ہے۔

Wednesday, July 15, 2015

اعلیٰ عدلیہ ہر مظلوم کی آخری امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے پاکستان میں انصاف بروقت نہیں ملتا، سندھ ہائی کورٹ کے جج محمد علی مظہر نے تو عدل کی تاریخ رقم کی ہے جس پر دنیا بھر کے منصف صدیوں تک رشک کرتے رہیں گے۔

موصوف کی عدالت میں درخواست پیش ہوئی کہ ایف آئی اے ایک آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی انکوائری کر رہی ہے۔ انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے کسی مجاز عدالت سے حکم لئے بغیر ازخود ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل بول کے تمام اکاونٹ سیل کیے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بول اور ایگزیکٹ کے 7 ہزار ملازمین کو تین مہینوں سے تنخوائیں ادا نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کی وجہ سے 7 ہزار خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چونکے یہ اکاونٹس کی بندش غیر قانونی ہے لہذا عدالت عید سے پہلے اکاونٹس کی بحالی کا حکم صادر کرے۔

جسٹس محمد علی مظہر صاحب نے درخواست کی سماعت پر ایف آئی اے سے پوچھا کہ، کیا اکاونٹس کی بندش کا حکم نامہ کسی عدالت نے جاری کیا ہے؟ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ کسی عدالت نے ایسا حکم جاری نہیں کیا۔ معزز جج صاحب نے پوچھا کہ، کیا ایگزیکٹ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کوئی ایسی دفعہ شامل ہے جس میں اکاونٹ سیل کرنا قانونی تقاضہ ہو؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایسی کوئی دفعہ ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے۔ جناب جسٹس نے استفسار کیا کہ، کیا ایسے متاثرہ مدعی موجود ہیں جنہیں ایگزیکٹ سے ریکوری کروانی ہے؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایگزیکٹ سے ریکوری کا کوئی مدعی ملک میں یا بیرون ملک موجود نہیں ہے۔ پھر جج صاحب نے ایف آئی اے سے پوچھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ ایگزیکٹ اور بول کے اکاونٹ کیوں سیل کیے گئے ہیں؟ ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ ہم جواب تیار کر سکیں۔ جج صاحب نے حکم جاری کیا کہ آپ کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے آپ لوگ جواب تیار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

دس دن بعد جب سماعت شروع ہوئی تو عید میں چند دن ہی باقی تھے۔ جج صاحب نے ایف آئی اے کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تو ایک وکیل صاحب نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز سابق وکیل کو ہٹا کر یہ کیس میرے سپرد کیا ہے، چونکہ مجھے تیاری کا وقت نہیں ملا لہذا مجھے دو ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے۔ جج صاحب نے کچھ سوچنے کے بعد حکم صادر کیا کہ آپ کو تیاری کے لئے 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔

ایگزیکٹ کے وکیل نے عدالت سے استداء کی کہ یہ سات ہزار خاندانوں کے لاکھوں افراد کا معملہ ہے۔ اگر عدالت اکاونٹ بحالی کے لئے لمبی تاریخ دے رہی ہے تو وہ کم از کم ایف آئی اے کو اپنی نگرانی میں ملازمین کو تنخواوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دے۔ جتنی رقم اکانٹس سے جاری کی جائے اُتنی رقم کے برابر مالیت کی جائیداد عدالت رہن رکھ لے۔ جج صاحب نے ایک طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ملازمین اور اُن کے خاندانوں سے ہمدردی ہے لیکن ایف آئی اے کے جواب آنے سے پہلے کیس کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ عدل کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جانے سے بھلے ہی محروم رہے، لیکن یہ وفاداری کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ کیوں کہ جناب جسٹس محمد علی مظہر صاحبزادے ہیں مظہر علی صدیقی صاحب کے جن کا بطور وکیل سارا کیرئر جنگ گروپ کے قانونی مشیر گزرا تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد محمد علی مظہر اپنے والد کی جگہ جنگ گروپ کے قانونی مشیر مقرر ہوئے تھے۔ جن کے سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے کے لئے جنگ گروپ نے باقاعدہ لابنگ کی تھی۔ ان کے جج بننے پر جنگ اخبار نے خلاف معمول اپنا پورا رنگین صفہ ان کی خدمات اور شخصیت کے کارناموں کے لئے مختص کیا تھا۔ اب اگر جج صاحب انصاف کی کُرسی پر بیٹھ کر محسن نوازی کی روایت قائم کر رہے ہیں تو اس میں بُرا کیا ہے۔ اب وہ دور تو رہا نہیں جب جج خود کو ایسے کسی مقدمے سے از خودعلیحدگی اختیار کر لیتے تھے جس میں اُن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہو۔ اب تو مشہور ہے کہ وکیل کیا کرنا سیدھا جج کر لو۔

خیر جناب جسٹس محمد علی مظہر کی نذر روز نامہ جنگ کے ہی گروپ ایڈیٹر جناب محمود شام کے اشعار کرنے کو جی  چاہتا ہے، جو عین حسب حال بھی ہیں۔

اب کے تو اہلِ عدل انصاف کر گئے
برسوں کے داغ انکی جبیں سے اتر گئے
کتنے باضمیر تھے جو مر کے بھی زندہ ہیں آج
کتنے بے ضمیر ہیں جو زندہ ہی مر گئے

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس ...