Friday, May 12, 2017

مطیع الرحمٰن نظامی ۔۔ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت


مطیع الرحمن نظامی۔۔۔۔ سعادت کی زندگی شہادت کی موت






اس شخص کے نصیب کے کیا ہی کہنے۔
ایک مومن کی خواہشات ہی کتنی ہوتی ہیں؟
سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت۔

اس شخص کی حیات قابل رشک تھی تو موت قابل فخر۔ 31 مارچ 1943 کو لطف الرحمٰن کے گھر پیدا ہونے والا مطیع الرحمٰن بچپن میں والدین کا ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کا دلارا رہا۔ مدرسہ العالیہ سے اسلامی فقہ میں کامل کی سند اور ڈھاکہ یونیوسٹی سے گریجویشن کی ڈگری کے ساتھ استاتذہ کی محبت بھی سمیٹی۔ دور طالب عملی میں ہی وہ لاکھوں طلبہ کی دلوں کی دھڑکن بھی بن چکا تھا۔ پہلے اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان (اسلامی چھاترو شنگو) کا ںاطم ہوا، پھر متحدہ پاکستان میں طالبہ کی سب سے بڑی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلا اور اکلوتا بنگالی ناظم اعلیٰ بنا۔ بیسویں صدی کے چھٹے اور ساتویں پُر آشوب عشروں میں یہ نوجوانوں کا ہیرو تھا۔ یہ بنگلہ، انگریزی، عربی اور اردو کا بے مثل مقرر تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد انتہائی خطرناک حالات میں اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلامی چھاترو شبر کے نام سے احیاٗ کیا۔ پھر جماعت اسلامی میں آئے اور ایک عشرے کے اندر ہی اُسے ملک کی بڑی سیاسی جماعت بنا ڈالا۔ یہ کسی ایک جماعت کا ہی نہیں بلکہ عوام کا بھی ہر دلعزیز قائد تھا۔ ہر حلقے کا ناقابل شکست سیاسی امیدار رہا ۔ ایک بار وزیر زراعت اور ایک بار وزیر صنعت بنا۔ اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کے کامیاب ترین وزیروں میں شمار کیا گیا۔ پیشے کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات کا استاد تھا۔ اُس نے مختلف موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کیں۔ مسلم دنیا میں انہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک دنیا کے 500 با اثر ترین افراد میں شامل رہا ہے۔
 پھر جب عالمی استعماری طاقتوں نے دنیا میں اسلام کے نفاذ کی تحریکوں کو مٹانے کا فیصلہ کیا، تو سکیولرازم کے نشانے پر اسلامی سیاسی جماعتیں آئیں۔ سیاسی اسلام کے لئے دنیا بھر میں عرصہ حیات تنگ ہوا۔ بنگلہ دیش میں ربع صدی پہلے حل ہو جانے والے قضیے کو دوبارہ کھولا گیا۔ نام نہاد جنگی جرائم کی تحقیق کا ایسا ٹربیونل بنا جس کی کاروائی کی مذمت دنیا بھر نے کی۔ اسی ٹربیونل کی جانب سے اس پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ بنایا گیا۔ انتہائی یکطرفہ کاروائی کے بعد موت کی سزا سنائی گئی۔ اس قسمت کے دھنی نے فیصلہ پوری جرات اور استقامت سے سنا۔ ایک اللہ کے سوا کسی سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کیا، تہتر سال کی عمر میں ثابت قدمی اور آہنی عزم کے ساتھ خود چل کر تختہ دار تک آیا۔ اسلام سے وفاداری کی پاداشت میں ملنے پھندے کو چوم کر گلے میں حمائل کیا۔ اور ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔
 اس شخص کی دار فانی سے رخصتی پر دنیا بھر کے کروڑوں اہل ایمان کی آنکھیں نمناک ہوئیں، اور دل دکھ سے شق ہوئے۔ دنیا کے تقریبا ہر بڑے شہر میں اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ایسے نصیب اللہ کی خاص عنایت سے ہی میسر آ سکتے ہیں۔
اے راہروانِ راہ وفا! ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
 تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت
(مطیع الرحمٰن نظامی صاحب کی شہادت پر لکھی گئی تحریر)

No comments:

Post a Comment

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔ عرب اور ایران کی ن...