Tuesday, October 27, 2015

تاریخ برصغیر چند حقائق (حصہ اوّل)


تاریخ کا کھلے دماغ اور غیرجاندارانہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو عجیب عجیب انکشافات ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے تاریخ برصغیر زیر مطالعہ ہے۔ اس مطالعہ سے حاصل ہونے والی اہم معلومات احباب سے شئیر کرنے کا ارادہ ہے۔ تاکہ جو حقائق نظر آئے ہیں، اجتماعی طور پر معروضی انداز میں اُن کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور اگر سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اُس کی اصلاح ہو سکے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی ستمبر 1599ء میں لندن میں وجود میں آئی۔ اگلے سال یعنی 1600 اس نے ملکہ الزبتھ اول سے ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ 1612ء میں تھامس مور نے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہو کر کمپنی کے لئے تجارت کی اجازت حاصل کی۔ 1613ء میں سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی گئی۔1647ء تک ان کی 23 قلعہ بند فیکٹریاں مختلف شہروں میں تھیں۔ جن کی حفاظت کے نام پر خاصی بڑی فوج بھی تیار کی گئی تھی۔ جس کی مدد سے 1689ء میں کمپنی نے پہلی مرتبہ بھاری معاوضے پر علاقائی جھگڑے میں ایک فریق کی مدد کی۔ یوں وہ ایک علاقائی قوت بن گئی۔ طوائف الملوکی کے اس دور میں پرائیوٹ فوج سب سے نفع بخش کاروبار تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کاروبار سے خوب نفع کمایا۔ اور ساتھ ہی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے طور پر علاقوں کی تسخیر کا آغاز بھی کر دیا۔ 1717ء میں کمپنی کے سامان اور مال پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ جس سے اس کے نفعے میں گئی گناہ اضافہ ہو گیا۔ کمپنی نے اس نفعے کو فوج میں اضافے کے لئے استعمال کیا۔ اور وہ ایک بڑی فوجی قوت بن گئی۔ کمپنی کو پہلی بڑی عسکری کامیابی 1757ء میں پلاسی کے میدان میں حاصل ہوئی۔ جب اس کی افواج نے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال جیسے بڑے صوبے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کمپنی کامیابیوں کو گویا پر لگ گئے۔ 1799 ء میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شکست کے بعد ہندوستان پر قبضے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔ یہاں تک کہ 1835ء میں سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن اکبر شاہ ثانی انگریزوں کا کٹ پُتلی بن گیا۔ تب سے منادی کرنے والوں نے صدا لگانی شروع کی کہ "خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا"۔ 1849ء تک پنجاب، سرحد اور سندھ بھی انگریزوں کے سامنے ڈھیر ہو چکے تھے۔ یوں انیسویں صدی کے نصف اول کے اختتام سے پہلے ہی برصغیر کی تمام ریاستیں، راجے، مہاراجے اور فوجی طاقتیں یا تو انگریزوں کی حاشیہ بردار بن چکی تھیں یا پھر اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
ہندوستان کی کامل تسخیر کو صرف آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ 1857ء میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوئی۔ جسے ہندوستانیوں نے جنگ آزادی اور انگریزوں نے غدر کا نام دیا۔ یہ بغاوت سراسر عوامی تھی۔ اس میں تمام ہندوستانیوں نے بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب مل کر حصہ لیا۔ خصوصا مسلمانوں اور ہندوں کا اتحاد مثالی تھا۔
ایک بار تو انگریزوں کی ہوا اکھڑ گئی تھی۔ لیکن وہ سکھوں کی فوج اور غداروں کی مدد سے بلآخر بمشکل بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔ غداروں میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ جنگ آزادی تو ناکام ہو گئی، لیکن انگریزوں کو کھٹکا لگ گیا کہ کسی بھی وقت دوبارہ بغاوت کا ظہور ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لئے انہوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی اختیار کی۔
انگریزوں کی اس پالیسی نے متحدہ ہندوستان میں کیا رنگ بکھیرے اور آج تک ہم کن صورتوں میں اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں اسی کا مطالعہ ہمارا موضوع ہے۔
انشا اللہ آئیندہ اقساط میں اسی پر گفتگو کی جائے گی۔
(جاری ہے)

No comments:

Post a Comment

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس ...