Saturday, October 24, 2015

واعظ اثر کیوں کھو دیتے ہیں

نکاح کی تقریب میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مولانا صاحب نے سماں باندھ دیا. نہایت جلالی انداز میں حاضریں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے اپنی خوائشات اور نمود نمائش کی خاطر نکاح کو مہنگا بنا دیا ہے. جس کی وجہ سے زنا آج آسان جبکہ نکاح مشکل ہو چکا ہے. بے حیائی نے معاشرے کی چولیں ہلا ڈالی ہیں. یاد رکھو قوموں کی تباہی میں سب سے اہم کردار بے حیائی اور زنا کاری کا ہوتا ہے. تمارا معاشرہ اب تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے. اگر اب بھی نہ پلٹے تو تمارا مقدر دردناک عذاب ہو گا. اگر اللہ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے نکاح کو سہل اور بلا قیمت کر دو. شادی میں مہر اور ولیمہ کے سوا ہونے والے تمام اخراجات اور رسومات کو ختم کر دو. مہر بھی کم مقرر کرو اور ولیمہ بھی سادگی سے ہو. تبھی معاشرے میں عفت حیا اور پاکبازی کو فروغ ملے گا. اللہ کی نعمتیں اور برکتیں نازل ہوگی.
تقریب کے اختتام پر میرا دل چاہا کہ اسے حق گو اور بے باک عالم سے مصافہ کرنے کی سعادت حاصل کروں. مولانا صاحب کی طرف گیا تو انہیں ہجوم میں گرا پایا. غالبا تقریب میں موجود ہر شخص کی دلی کیفیت میرے جیسی تھی. حل میں ایک طرف مولانا صاحب کے ساتھ آنے ان کے اسسٹنٹ نما صاحب دولہے کے باپ سے مصروف گفتگو تھے. سوچا اُن سے ہی مولانا صاحب اُن کا پتہ پوچھ لوں اور مستقل ان کے ہاں حاضری کو معمول بناوں. تاکہ کچھ تذکیہ نفس ہو سکے. یہی سوچ لئے قریب جا کر کھڑا ہوا. وہ صاحب دولہے کے والد سے کہ رہے تھے کہ نکاح پڑھانے کے پانچ سات ہزار تو گلی محلے کے کے مولوی لیتے ہیں. مولانا صاحب کو تو لوگ لاکھوں ہدیہ کر دیتے ہیں. آپ زیادہ اصرار کر رہے ہیں تو بیس ہزار روپے اور کپڑوں کا جوڑا دے دیں.
میں ایڈریس لئے بغیر ہیک واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.

2 comments:

  1. سورت 61 الصّف ۔ آیات 2 و 3
    اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں‏
    تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالٰی کو سخت ناپسند ہے

    ReplyDelete
  2. آج کل نکاح کو مشکل بنا دیا گیا ہے اور زنا عام ہے

    ReplyDelete

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس ...