Wednesday, August 5, 2015

پاکستان کا دوست کون؟ دشمن کون؟

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب نوے فیصد افغانستان پر ملؔا عمر کی حکومت تھی۔ تب ایک بار مجھے مغرب کے بعد کابل سے قندھار کے لئے ہنگامی طور پر نکلنا پڑا۔ گاڑی کے افغان ڈرائیور نے بتایا کہ رات کے اوقات میں شہر سے نکلنے اور راستے کی چوکیوں سے گزرنے کے لئے ’’نامِ شب‘‘ (Night code) معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کابل سے نکلنا راستے میں موجود درجنوں چوکیوں سے گزرنا اور قندھار میں داخل ہونا ناممکن ہے۔
میں نے کئی جگہ فون گمایا کہ کسی متعلقہ ذمہ دار سے رابطہ ہوجائے تاکہ نائٹ کوڈ حاصل کر سکوں، لیکن اتفاق ایسا تھا کہ کوئی بھی فرد دستیاب نہیں تھا۔ ڈرائیور سے عرض کی کہ اللہ کا نام لے کر نکلتے ہیں، دیکھیں گے کہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ ڈرائیور نے بڑے معنی خیر انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ضد کر رہے ہو تو چلے چلتے ہیں لیکن ایک گھنٹے بعد پہنچیں گے واپس اِدھر ہی۔
کابل کے علاقے ’’وزیر اکبر خان‘‘ سے روانہ ہو کر ہم آدھ گھنٹے میں شہر کے خارجی راستے پر واقع پہلی چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ پوسٹ پر رُکتے ہی حسبِ توقع پہلے منزل اور پھر ’’نامِ شب‘‘ پوچھا گیا۔ ’’نامِ شب‘‘ معلوم نہ ہونے پر آگے جانے کی اجازت دینے سے قطعی انکار ہو گیا۔ ڈرائیور نے پشتو اور فارسی میں خاصی بحث کی لیکن جب انکار، اقرار میں تبدیل نہ ہوا تو میری طرف مڑ کر پشتو لہجے میں پنجابی کا مشہور جملہ بولا ’’ہن آرام ای‘‘۔
ڈرائیور کا یہ جملہ سُن کر چوکی پر موجود طالبان کے ذمہ دار نے مجھ سے پوچھا تم پاکستانی ہو؟
میرے اقرار پر اُس نے ہمیں چوکی کے اندر آنے کی دعوت دی، قہوہ پلایا، تاخیر پر معذرت کی، نامِ شب بتایا اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی کہ ہر صوبے کی چوکی پر "نامِ شب" مختلف ہوتا ہے۔ ہر نئے صوبے کی چوکی پر بتا دینا کہ تم پاکستانی ہو، انشا اللہ کہیں مسئلہ نہیں ہوگا، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ راستے میں آنے والی درجنوں چوکیوں میں سے کسی پر "نامِ شب" اور کہیں ’’پاکستانی‘‘ کا ’’اسم اعظم‘‘ دھراتے رہے، جس پر فورا قہوہ پر اصرار کے ساتھ آگے جانے کی اجازت مل جاتی۔ یقین جانیے اُس وقت اپنے پاکستانی ہونے پر جتنا فخر محسوس ہوا ویسی نوبت آج تک دوبارہ نہیں آ سکی ہے۔
اس کے ٹھیک ایک سال بعد ہی پاکستانی ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے والے بی 52 طیاروں سے برسنے والے ڈیزی کٹر بموں نے طالبان کی حکومت کو قصہ پارینہ بنا دیا تھا۔ پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر طالبان حکومت کے خاتمے اور حامد کرزی کی حکومت کے قیام میں اہم قردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت مجھے ایک بین القوامی ٹی وی چینل سے اس کے کابل بیورو میں کام کرنے کی آفر ملی۔ میں اپنے پاکستانی اور غیر ملکی صحافی دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے متفقہ طور پر ایک ہی جواب دیا، افغانستان میں انڈین لابی قابض ہے وہاں کسی بھی پاکستانی کی زندگی کسی بھی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔ افغانستان جانے والے کئی پاکستانی صحافی دوستوں نے کابل میں عوام اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تذلیل کے ایسے قصے سُنائے کے کابل جانے کے نام سے توبہ کر لی۔
آج جب مجھ سے کہا جاتا ہے کہ طالبان اور ملّا عمر کا اچھے الفاظ میں ذکر یا افغانستان پر قابض امریکہ کی کٹھ پُتلی حکومت پر تنقید پاکستان سے دشمنی کے برابر ہے، تو مجھے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دشمنی اور دوستی کے معیار بنانے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کا دل کرتا ہے۔

3 comments:

  1. نامِ شب ،،،،،،،،،،،جوابِ شب
    کیا خوب یادیں تازہ کر دیں آپ نے

    ReplyDelete
  2. اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل عطا فرمائے اور منافقت سے محفوظ رکھے

    ReplyDelete
  3. حضور صرف یہی نہیں ہماری اُس وقت کی حکومت نے اپنے آقا کے کہنے پر بھارتی سرکار کا ساتھ دیتے ہوئے نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کا خون بیچ دیا تھا بلکہ پاکستان کی تباہی کے منصوبہ پر دستخط کئے دیکھیئے
    http://www.theajmals.com/blog/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1/

    ReplyDelete

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...