Wednesday, July 15, 2015

اعلیٰ عدلیہ ہر مظلوم کی آخری امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے پاکستان میں انصاف بروقت نہیں ملتا، سندھ ہائی کورٹ کے جج محمد علی مظہر نے تو عدل کی تاریخ رقم کی ہے جس پر دنیا بھر کے منصف صدیوں تک رشک کرتے رہیں گے۔

موصوف کی عدالت میں درخواست پیش ہوئی کہ ایف آئی اے ایک آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی انکوائری کر رہی ہے۔ انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے کسی مجاز عدالت سے حکم لئے بغیر ازخود ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل بول کے تمام اکاونٹ سیل کیے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بول اور ایگزیکٹ کے 7 ہزار ملازمین کو تین مہینوں سے تنخوائیں ادا نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کی وجہ سے 7 ہزار خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چونکے یہ اکاونٹس کی بندش غیر قانونی ہے لہذا عدالت عید سے پہلے اکاونٹس کی بحالی کا حکم صادر کرے۔

جسٹس محمد علی مظہر صاحب نے درخواست کی سماعت پر ایف آئی اے سے پوچھا کہ، کیا اکاونٹس کی بندش کا حکم نامہ کسی عدالت نے جاری کیا ہے؟ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ کسی عدالت نے ایسا حکم جاری نہیں کیا۔ معزز جج صاحب نے پوچھا کہ، کیا ایگزیکٹ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کوئی ایسی دفعہ شامل ہے جس میں اکاونٹ سیل کرنا قانونی تقاضہ ہو؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایسی کوئی دفعہ ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے۔ جناب جسٹس نے استفسار کیا کہ، کیا ایسے متاثرہ مدعی موجود ہیں جنہیں ایگزیکٹ سے ریکوری کروانی ہے؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایگزیکٹ سے ریکوری کا کوئی مدعی ملک میں یا بیرون ملک موجود نہیں ہے۔ پھر جج صاحب نے ایف آئی اے سے پوچھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ ایگزیکٹ اور بول کے اکاونٹ کیوں سیل کیے گئے ہیں؟ ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ ہم جواب تیار کر سکیں۔ جج صاحب نے حکم جاری کیا کہ آپ کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے آپ لوگ جواب تیار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

دس دن بعد جب سماعت شروع ہوئی تو عید میں چند دن ہی باقی تھے۔ جج صاحب نے ایف آئی اے کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تو ایک وکیل صاحب نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز سابق وکیل کو ہٹا کر یہ کیس میرے سپرد کیا ہے، چونکہ مجھے تیاری کا وقت نہیں ملا لہذا مجھے دو ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے۔ جج صاحب نے کچھ سوچنے کے بعد حکم صادر کیا کہ آپ کو تیاری کے لئے 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔

ایگزیکٹ کے وکیل نے عدالت سے استداء کی کہ یہ سات ہزار خاندانوں کے لاکھوں افراد کا معملہ ہے۔ اگر عدالت اکاونٹ بحالی کے لئے لمبی تاریخ دے رہی ہے تو وہ کم از کم ایف آئی اے کو اپنی نگرانی میں ملازمین کو تنخواوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دے۔ جتنی رقم اکانٹس سے جاری کی جائے اُتنی رقم کے برابر مالیت کی جائیداد عدالت رہن رکھ لے۔ جج صاحب نے ایک طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ملازمین اور اُن کے خاندانوں سے ہمدردی ہے لیکن ایف آئی اے کے جواب آنے سے پہلے کیس کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ عدل کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جانے سے بھلے ہی محروم رہے، لیکن یہ وفاداری کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ کیوں کہ جناب جسٹس محمد علی مظہر صاحبزادے ہیں مظہر علی صدیقی صاحب کے جن کا بطور وکیل سارا کیرئر جنگ گروپ کے قانونی مشیر گزرا تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد محمد علی مظہر اپنے والد کی جگہ جنگ گروپ کے قانونی مشیر مقرر ہوئے تھے۔ جن کے سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے کے لئے جنگ گروپ نے باقاعدہ لابنگ کی تھی۔ ان کے جج بننے پر جنگ اخبار نے خلاف معمول اپنا پورا رنگین صفہ ان کی خدمات اور شخصیت کے کارناموں کے لئے مختص کیا تھا۔ اب اگر جج صاحب انصاف کی کُرسی پر بیٹھ کر محسن نوازی کی روایت قائم کر رہے ہیں تو اس میں بُرا کیا ہے۔ اب وہ دور تو رہا نہیں جب جج خود کو ایسے کسی مقدمے سے از خودعلیحدگی اختیار کر لیتے تھے جس میں اُن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہو۔ اب تو مشہور ہے کہ وکیل کیا کرنا سیدھا جج کر لو۔

خیر جناب جسٹس محمد علی مظہر کی نذر روز نامہ جنگ کے ہی گروپ ایڈیٹر جناب محمود شام کے اشعار کرنے کو جی  چاہتا ہے، جو عین حسب حال بھی ہیں۔

اب کے تو اہلِ عدل انصاف کر گئے
برسوں کے داغ انکی جبیں سے اتر گئے
کتنے باضمیر تھے جو مر کے بھی زندہ ہیں آج
کتنے بے ضمیر ہیں جو زندہ ہی مر گئے

2 comments:

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. قانون اندھا ہوتا ہے۔۔۔۔یہ وہ سبق ہے جو ہم عقل کے اندھے بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں سمجھتے پھر بھی نہیں۔ ہم تو اس ڈگڈگی پر ناچنے والی قوم ہیں جس نے کہا "جمہوریت بہترین انتقام ہے" ان ہر دو محاوروں کے آگے" عام عوام سے " کا لاحقہ کافی ہے۔

    ReplyDelete

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟

بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی...