Monday, July 13, 2015

جہاد کشمیر ۔۔۔۔ ناکامی کا ذمہ دار کون؟؟

میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا اولین انٹرویو سردار عبدالقیوم خان صاحب کا کیا تھا۔ تقریبا 14 سال پہلے کی بات ہے۔ یہی جون جولائی کے دن تھے۔ حبس سے دم گُھٹا جا رہا تھا۔ جب پہلی بار چیف رپوٹر نے مجھے کہا کہ آج تم نے اکیلے انٹرویو کرنا ہے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ ایک سنئیر نے ساتھ بیٹھ کر چار پانچ سوال ایک کاغذ پر لکھوائے اور پھر کہا کہ باقی بات سے بات نکلا کرتی ہے، تم موقعے کی مناسبت سے مزید سوال کرتے جانا۔ پھر تاکید بھی فرمائی کہ سردار صاحب منجھے ہوئے سیاستدان اور صاحبِ مطالعہ فرد ہیں دیکھنا کوئی بونگی نہ مار دینا۔

خیر میں میلوڈی اسلام آباد سے ایک نمبر ویگن پر بیٹھ کر مری روڈ کے رحمان آباد سٹاپ پہنچا، پھر سٹلائٹ ٹاون کی قریبی گلیوں میں واقعے خانہ فرہنگ ایران کو ڈھوندتا ہوا مجاہد منزل کے صدر دروازے پر پہنچ گیا۔ لیکن جون جون وقت گزرا، ایک نامعلوم سا خوف مسلط ہوتا گیا تھا۔ کال بیل کا بٹن دبانے تک میں باقاعدہ نروس ہو چکا تھا۔ بہرحال بیل بجانے اور اپنا تعارف کرانے کے بعد جلد ہی وسیع و عرض ڈرائنگ روم میں درجنوں لوگوں میں گھرے ہوئے سردار عبدالقیوم صاحب کے سامنے موجود تھا۔ جنہوں نے کمال شفقت سے کھڑے ہو کر معانقہ کیا، اپنے نزدیکی صوبے پر بٹھایا اور پانی لانے کا حکم دیا۔ پانی کے بجائے ایک صاحب سیون اپ لے آئے۔ جس کی چسکیاں لیتے ہوئے میرا خوف کچھ کم ہو گیا، ابھی گلاس آدھا ہی کیا تھا کہ سردار صاحب نے با آواز بلند اعلان کیا کہ یہ بچہ انٹرویو کے لئے آیا ہے، لہذا باقی سب لوگوں کو مکمل خاموش ہو کر ہیٹھنا ہوگا یا پھر آپ لوگ دوسرے کمرے میں تشریف لے جائیں۔ اعلان کے خاتمے پر اکثریت دوسرے کمرے کی طرف روانہ ہوگئی۔ میں نے اپنا ننھا منا سا ٹیپ ریکاڈر نکال کر سامنے رکھا، ریکارڈ کا سرخ بٹن دبایا، نوٹ پیڈ اور بال پوانٹ کی پوزیشن درست کی اور جیب سے سوالات والا کاغذ نکال کر پہلا سوال داغ دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلا سوال کرتے ہوئے ہوئے میری آواز میں ارتعاش بہت واضع تھا۔ سردار صاحب نے بڑے تحمل سے سوال سُنا اور پھر تفصیلی جواب دینا شروع کیا۔

خیال رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں جہاد کشمیر اپنا جوبن دیکھنے کے بعد اب اپنے ہی "پشتی بانوں" کی بدعمالیوں اور سازشوں کے نتیجے میں کسی ضعیف اور لاغر فرد کی طرح ہو چکا تھا۔ میرے تمام سولات جہاد آزادی کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں تھے۔ جن کے جوابات سرادار صاحب بہت محتاط انداز اور نپے تلے الفاظ میں دے رہے تھے۔ تقریبا پون گھنٹے تک مسلسل سوال، جواب کے بعد میں نے ایک آخری سوال ان الفاظ میں داغا۔ "کشمیر کے پہلے جہاد کے آپ بانی مبانی تھے، موجودہ دم توڑتے جہاد کے اول و آخر، ظاہر و باطن سب سے آپ اچھی طرح واقف ہیں، آپ کے نزدیک دونوں مرتبہ ناکامی کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے؟"

سردار عبدالقیوم صاحب نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا، پھر مسکراتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔ "کشمیرکی آزادی کے دونوں تحریکوں کی ناکامی کے ذمہ دار کا نام میں نہیں لوں گا، اگر میں لے بھی لوں تو کہیں چھپے گا نہیں، اور اگر کہیں چھپ گیا تو میں، تم اور چھاپنے والے کسی کی خیر نہیں۔ تم صحافت میں نئے ہو اس لئے یہ سوال کر رہے ہو، تھوڑا وقت گزرنے دو، پھر تم کبھی ایسا سوال نہیں کیا کرو گے"۔

اُس روز مجھے معلوم ہوا کہ "کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے" دراصل ہوتا کیا ہے۔ اب کہاں وہ لوگ جن سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان سے مل کر انسان کچھ سیکھتا ضرور تھا۔

2 comments:

  1. آپ تو نام بتا دیتے :(

    ReplyDelete
  2. نام تو سب کے سامنے ہی ہے!!! بقول سردار صاحب:" اگر میں لے بھی لوں تو کہیں چھپے گا نہیں، اور اگر کہیں چھپ گیا تو میں، تم اور چھاپنے والے کسی کی خیر نہیں"

    ReplyDelete

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اخ...