Thursday, February 13, 2014

اُمت مسلمہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

 بلا شک و شبہ اور بلا خوف تردید "3  مارچ" مسلم امہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ  اِس اُمتِ مظلوم پر پہلے بھی لا تعداد خونچکاں سانحے گزر چکے تھے، اس کی داستان میں اُحد، جمل وصفین کی کی شہادت گاہیں بھی ہیں اور منصورہ اور خوارزم کی رزمگاہ ہوں میں ہونے والی حزیمت بھی۔ تاتاریوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کے مناظر بھی یادوں میں تازہ ہیں اور صلیبیوں کی لائی ہوئی افتاد بھی بھولی نہیں، اندلس کا سقوط بھی یاد ہے اور اقصٰی کے چھن جانے کی مصیبت بھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک حادثہ گزر چکا تھا۔ یہ زخم گہرے ضرور تھے لیکن مہلک ہرگز نہیں۔ یہ سخت جان اُمت ہر زخم کے بعد پہلے سے زیادہ ہمت اور جرات کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوتی رہی ہے۔ اسی لیے ظالموں نے "3  مارچ" کو وہ کاری وار کیا کہ سمجھا جانے لگا کہ اُمت کی کمر توڑ دی گئی اور شیرازہ بکھیر ڈالا گیا ہے۔

 "3مارچ" وہ منحوس دن جب ترکی پر مسلط یہودیہ ماں کے بیٹے مصطفی کمال پاشا نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ ترکی کو جمہوریہ بنانے کے اعلان کے ساتھ ہی "18 اپریل 1923ء" کو اپنی تقریر میں اعلان کر چکا تھا کہ 'خلافت ایک مقدس اسلامی ادارہ ہے اس لئے "اعلٰی تُرک قومی اسمبلی" اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے'۔ لیکن "3مارچ 1924ء" کو تمام وعدوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ترک جمہوریہ کےقانون نمبر 431 کے تحت خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا۔ یہ دن اچانک نہیں آیا تھا، بلکہ اس کے پس منظر میں دشمن کی صدیوں کی محنت تھی، ایک طرف اس کے خاتمے کی وجہ یہودی "فری میسن" کے ممبر مصطفی کمال پاشا اور عصمت انونو تھے تو دوسری طرف اس کی راہ ہموار کرنے میں یہودی "لانس آف عریبیہ" کے فریب خوردہ "ہاشمی النسب" شریف حسین اور اس کے فرزند فیصل شامل  تھے۔

 خلافت کےخاتمے نے گویا اُمت ِ مسلمہ سے اُس کی وہ ڈھال چھین لی جو اسےصدیوں سے دشمن کے وار سے محفوظ رکھے ہوئےتھی، وہ شجرِ سایہ دار کٹ گرا جو آلام اور مصاحب کی تیز دھوپ میں اس کی جائے پناہ ہوا کرتا تھا، وہ نخلستان تباہ ہو گیا جو زمانے کےریگستان میں اٹھنے والے ہر طوفان کی ذد میں آنے کے بعد اسکی آخری اُمید ہوا کرتا تھا۔ خلافت کے خاتمے کے ساتھ ہی اُمت کے حصے یوں بخرے ہوئے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ کبھی یہ تمام مسلمان ملکوں اور خطوں سے ماورا ایک  ملت ہوا کرتے تھے۔ ذلت، محکومی اور بے چارگی اس پر یوں مسلط ہوئی کہ اب گمان تک کرنا دشوار ہے کہ کبھی یہ اُمت اس کائینات میں جہانگیر و جہاندار رہی ہے۔

 دشمن نے صرف خلافت کے خاتمے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے دوبارہ قیام کے راستے مسدود کرنے کی بھی اپنی سی سعی کر ڈالی۔ گروہی و مسلکی تعصب کو ہوا دے کر نفاق کے بیج بوئے۔ اُمت کے خطوں کو الگ الگ ٹکڑوں میں بانٹ کر انہیں وطن قرار دیا اور حُب الوطنی کے نام پر وطن پرستی کو اُمت ِتوحید میں رواج دیا۔ اُمت کی نئی نسل کو ان کی تاریخ سے بے بہرہ رکھ کرانہیں مغربی علوم، فکر و تہذیب کی حقانیت کا قائل کرنے کی کوشش کی۔ اُمت کے ایسے منافقین کو قابل فخر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو اسلام کا لبادہ اُٹھ کر دشمن کے گُن گاتے ہیں۔ ممالکِ اسلامیہ پر ایسےبدبخت حکمران مسلط کئے گئے جو اسلام کے بجائے دشمن کے وفادار ہیں۔

 اسلام دشمنوں نے بظاہر اپنے ارادوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی، ایک ملت کا تصور خواب ہو کر رہ گیا، خلافت بھولی بسری داستان بنا دی گئی۔ لیکن یہ امت دشمن کی توقع سے کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوئی، کئی صدیوں کی جدوجہد کے بعد ہونے والے"سقوطِ خلافت" کو ابھی ایک صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ زمیں کے شرق و وسط سے خلافت کی احیا کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ امت کے جواں رنگ و خون کے بُتوں کوتوڑ کر ملتِ واحدہ میں جذب ہو رہے ہیں۔ کہیں احیائے خلافت کی صدا رگوں میں لہو گرما رہی ہے تو کہیں شعلہ جوالہ بن کر پھوٹ چکی ہے۔ مچلتے طوفان کو روکنے کی خاطر کی جانے والی چالوں کا بھودا پن نمایا ں ہو چکا۔ فیصلے کی گھڑی قریب آن پہنچی ہے۔

 " 3مارچ " ہمیں یاد ہے، اس سال یعنی 2014 کو خلافت کے سقوط کو پورے نوے سال ہو جائیں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اس روزیعنی " یوم سقوط خلافت" کو یاد رکھیں گے ۔ غیروں کی عیاری اور ان کے ایجنٹوں کی مکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہر سال ہم اس روز کو "یوم احیائے خلافت "کے عنوان سے یاد کرتے رہیں گے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی، یہاں تک کے خلافت کا ادارہ دوبارہ قائم نہیں ہوجاتا، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے، فتح کے خدوخال بہت نمایاں ہو چلے ہیں، امت کےنوجواں فتح مبین کا مژدہ اپنے خون سے در و دیوار پر لکھ رہےہیں، اب صرف چند ہی مہ و سال کا فرق ہے اور پھر وہ وقت آپہنچے گا جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
 بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی

 پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
 پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

1 comment:

  1. مومن جہاں میں ماندِ خورشید جیتے ہیں
    اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے, اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

    ReplyDelete

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔ عرب اور ایران کی ن...