Friday, December 13, 2013

بنگلہ دیش جنگی جرائم کے ٹریبیونل اور اس کے تحت دی جانے والی سزاوں کی حقیقت


بنگلہ دیش میں منتازعہ ترین عدالتی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ جرنل سکریٹری عبدالقادر ملا کو گزشتہ رات پھانسی دے دی گئی۔ جس کی دنیا کے ہرانصاف پسند انسان شدد مذمت کر رہا ہے۔ عبدالقادر ملا کو ابتدائی طور پر نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کے سیکولر اور بھارت نواز افراد نے اس سزا کو کم کہہ کر اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے تھے۔ جس کے دباو میں آگر بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کے نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے جن اسلام پسند رہنماوں کو سزا سنائی ہے ان میں بی این پی کے صلاح الدین قادر چوہدری کے علاوہ جماعت اسلامی کے پروفیسرغلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی ، علامہ دلاور حسین سعیدی، مولانا ابوالکلام آزاد و دیگر رہنما شامل ہیں۔ جن میں سے مولانا ابوالکلام آزاد کے علادہ تمام رہنما بنگلہ دیش کی جیلوں میں بند ہیں۔

 بنگلہ دیش کی پاکستان سے اعلیحدگی کے 42 سال بعد اس قسم کے متعصب ٹریبونل کا قیام اور اس کے جانبدارانہ فیصلوں کے نتیجے میں سزاوں کا نفاذ دراصل بنگلہ دیش میں برسر اقتدارعوامی لیگ کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش ہے تو دوسری جانب یہ اسلام پسندوں کے خلاف جاری بین القوامی مہم کا ایک حصہ ہے، جسے وہ ’سیاسی اسلام‘ کو دنیا میں شکست دینے کی مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

 وکی لیکس‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی ایک کیبل کے مطابق 18 جون 2009ء کو بنگلہ دیش میں اس وقت کے امریکی سفیر ’ مسٹر موری آر ٹی‘ نے ایک خفیہ پیغام واشنگٹن بھیجا تھا جس میں بتایا گیا تھاکہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ و سینٹرل ایشین افیئرز، مسٹر رابرٹ بلیک جب ڈھاکہ کے دورہ پر آئے تو بنگلہ دیش کی خاتوں وزیر داخلہ ایڈووکیٹ سہارا خاتون ان سے ملاقات کی تھی۔ جس میں انہوں نے مسٹر بلیک سے جنگی مجرموں کے ٹرائل کے حوالے سے معملات طے کیے تھے۔ ملاقات میں بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں امریکی حمایت بھی طلب کی تھی جس پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے مشروط آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ہونے والی یہ تمام کاروائی ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کیوں کے بنگلہ دیش کے قیام کے فوری بعد اس وقت کے صدر اورآزادی کے ہیرو شیخ مجیب حکومت نے کڑی تفتیش کے بعد پاکستانی فوج کے 195 افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے 19 جولائی 1973ء کو بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل ایکٹ پاس کروایا گیا تھا۔ لیکن 9 اپریل 1974ء کو دہلی میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے وزراے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں ان 195 مجرم قرار دیے جانے والے افراد کو بنگلہ دیش کی حکومت نے باقاعدہ طور پر معاف کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ شیخ مجیب کی زیر نگرانی ہونے والی اس تمام کاروائی کے دوران کبھی بھی کسی سویلین کو جنگی مجرم قرار نہیں دیا۔

 جو لوگ بنگلہ دیش بنانے کی مہم میں شامل نہ تھے، اس کے مخالف تھے یا پاکستان آرمی کے ساتھ تھے۔ مجیب حکومت کے کمیشن نے ان سب کو collaborator یعنی تعاون کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہاں میں اس بات کا ذکرکرنا مناسب ہے کہ 1971 میں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے مقامی لوگوں پر مشتمل کئی تنظیمیں تشکیل دیں تھیں ان عسکری تنظیموں میں البدر، الشمس اور رضاکار کے نام اہم ہیں۔ ان تنظیموں کی تشکیل رضاکارانہ اور اس وقت کی حکومت کی رضا مندی سے ہوئی تھی ۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب حکومت نے collaborator قرار دیا تھا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے 24.جنوری 1972ء کو collaborator's orderجاری کیا گیا تھا۔ جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو گرفتاربھی کیا گیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں سے 37 ہزار4 سو 71 افراد پر الزامات عائد کیے گئے۔ جن افراد پر الزامات عاید کیے گئیے تھے ان میں سے 2334 افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ دائر کرنا ممکن نہ ہوسکا تھا۔ کُل صرف 2 ہزار 8 سو 48 افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ جن میں سے عدالت نے 752 کے خلاف جرم ثابت ہونے پر، مختلف سزاؤں کے فیصلے دیے گئے تھے۔ جب کہ 2 ہزار 94 افراد کو باعزت طور پر بری کردیا گیا ۔ بعد ازاں جب نومبر1973ء میں بنگہ دیش کی حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان کیا گیا تو یہ تمام افراد بھی رہا ہو گئے تھے۔

 موجودہ حسینہ واجد کی حکومت نے 42 سال گزرنے کے بعد ملزمان کے خلاف تفتیش کے لیے جو ادارہ بنایا ہے وہ سرکاری پارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس ٹریبونل کے لیے حکومت نے اپنے من پسند ججوں کا تقرر کیا ہے۔ ایک طرف کمزور اور جانب دارکالا قانون تیار کیا گیا اور دوسری طرف اپنے ہی لوگوں کے ذریعے تحقیقات اورپھر من پسند ججوں کا تقرر۔ ان حالات میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس کیس میں انصاف کا کوئی معمولی تعلق بھی ان فیصلوں میں تھا تو یہ حماقت ہے۔ عملاً جو ہوا ہے کہ تفتیشی ٹیم نےاپنی پسند کے لوگوں کو اکٹھا کرکے ،انھیں جھوٹی گواہیاں دلائی ہیں۔ واقفانِ حال اور غیر جانب دار گواہوں کو اس ٹیم نے پوچھتا تک بھی نہیں، بلکہ پولیس کے ذریعے ان کو ہراساں کرکے بھگانے کے لیے کوشاں رہتی ہے ۔ یہ سب واقعات اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس طرح ٹریبونل کی یہ کارروائی پہلے دن سے عوام کے نزدیک ایک مذاق بن کر رہ گئی تھی۔

2 comments:

  1. اس سے قطعاً اختلاف نہیں کہ عوامی لیگ نے یہ مقدمات بدنیتی پہ قائم کئے ، اس میں بھی شک نہیں عدالتی کاروائی بھی شفاف نہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ کی آشیرباد سے یہ ہورہا ہے۔ مگر جہاں تک جنگی جرائم کا تعلق ہے تو یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج نے سابق مشرقی پاکستان میں بے تحاشہ ظلم کیا تھا، جسے بنگلہ دیش والے جنگی جرائم سے تعبیر کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کا شملہ معاہدہ کے وقت بھی مطالبہ تھا کہ پاکستان کی فوج کے 195 افسران پہ جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔ پاکستان کی فوج جس واحد کتاب کی بنیاد پہ ان جنگی جرائم سے انکاری ، وہ بھارتی قلمکارشرمیلا بوس کی کتاب
    Dead Reckoning: Memories of the 1971 Bangladesh War
    ہے، اس میں بھی شرمیلا بوس نے صرف بنگلہ دیش کی طرف سے جو تعداد بتائی جاتی تھی اس سے اختلاف کیا تھا نہ کہ جنگی جرائم سے۔
    1971 کے بعد پاکستان کی فوج نےایسے ہی جرائم (بھٹو کے دور میں) بلوچستان ، لال مسجد، سوات، فاٹا،اور دوبارہ بلوچستان میں کر رھی ہے۔ یہ پاکستان کی فوج کی عادت سی بن گئی ہے۔
    جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کیلئے بہتر تھا کہ غیر عوامی لیگ حکومتوں کے دور میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے پہ عوامی معافی مانگ لیتی، مگریہ نہیں کیا گیا۔

    جماعتِ اسلامی پاکستان نے بھی سبق نہیں لیا، انہیں بھی توفیق نہیں ہوئی کہ فوج کے 1971 کے بعد مظالم پہ کھل کر موقف اختیار کرتے۔ اسکا خمیازہ انہیں عنقریب بھگتنے ہونگے، جب یہی فوج ان پہ ٹوٹ پڑے گی

    ReplyDelete

بابر مسجد تنازعے کی تاریخ

انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال بیت گئے۔ 6 دسمبر 1992ء کو بھارتی نیم فوجی دستوں،ہندو انتہا پسند شیوسینا، آر ایس...