Saturday, June 8, 2013

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا کُھلا تضاد

حالیہ الکشن کے دوران پاکستان کی تمام ہی "مذہبی سیاسی" جماعتوں کی جانب سے عوام کو باور کروانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ووٹ ایک مقدس امانت ہے۔ اسے دیانت دار لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ کہا جاتا رہا ہے کہ  ووٹ کی بہت اہم شرعی حیثیت ہے۔ اس کے غلط استعمال پر روز آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ گر کسی ووٹر نے جان بوجھ کر قومی اور ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی اغراض کی وجہ سے نااہل اور بددیانت امیدوار کو ووٹ دیا تو وہ شخص مقدس امانت میں خیانت کا مرتکب ہو گا۔ مزید براں اگر غلط آدمی منتخب ہو گیا تو وہ پانچ سال جتنے بد عمل کرے گا اس کو ووٹ دینے والے اس کے جرائم اور گناہوں میں شریک ہو جائیں گے۔

الیکشن کے نتائج آنے پر یہ ساری جماعتیں ہی شکواہ کناں ہیں کہ عوام نے ووٹ کے استعمال میں اس کے "شرعی" تقاضوں کا خیال نہیں رکھا۔ ووٹ دیتے وقت عوام کی اکثریت نے ذاتی اور گروہی مفادات کو اولیت دی ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی اور دینی جماعتوں کے امیدوار بہت کم تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عوام کی نمائندگی کے لئے منتخب ہو پائے ہیں۔

لیکن خود یہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت ووٹ کے تقدس کے فلسفے اور اس کی آخرت میں جوابدہی کے موقف سے واضع روگردانی کرتی نظر آئی ہیں جب انہوں نے الیکشن کے اگلے مرحلے میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اندر ووٹ کا استعمال کا مرحلہ درپیش آیا ہے۔

جماعت اسلامی نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ جبکہ اسی صوبے میں جے یو آئی مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی ناکام کوشش کر چکی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہی جمعیت علمائے اسلام نے ایک قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حمایت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں دونوں بڑی مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے ووٹ وزارت اعظمیٰ کے امید وار اور مسلم نون کے سربراہ میان محمد نواز شریف کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔

یہاں تضاد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ کل عام انتخابات کے موقع پر جن جماعتوں کو سیکولر، لبرل اور اباجیت پسند کہہ کر عوام کو ان کے امید واروں کو ووٹ نہ ڈالنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اب انہی افراد کو دینی جماعتوں کی قیادت کس معیار پر ووٹ دے کر ملک کی اہم ترین ذمہ داریوں کے لئے منتخب کر رہی ہے؟؟

اگر یہ لوگ واقعی ان مناصب کے لئے اہل ہیں اور مذہبی جماعتوں کی قیادت اگلے پانچ سال کے لئے ان کے عمال کا وبال اٹھانے اور آخرت میں ہونی والی جوابدہی کے لئے تیار ہے تو پھر ایک عام آدمی ان کی ہی پیروی میں براہ راست ان جماعتوں کو ووٹ کیوں نہ ڈالے؟؟؟؟
 

No comments:

Post a Comment

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اخ...