Wednesday, May 8, 2013

چھوٹا بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرعابد نقی خان

چھوٹا بھائی جی وہ چاند بن کر مری چشم تر میں رہتا ہے ٹی ایس ایلیٹ نے سچ کہا ہے کہ ” اپریل سب سے زیا دہ بے رحم مہینہ ہے جو مردہ زمین میں لالہ اگاتا ہے، یادوں کی خواہشوں سے آمیزش کرتا ہے اور ابر بہار کے ذریعے پژ مردہ جڑوں کو جگا تا ہے“
 اسی اپریل کے یہی دن تھے جب ہر طرف کیکر اور دریک کے پھولوں کی مہک پھیلی تھی، بہار اپنے جوبن پر تھی اور شام کے کناروں سے مہکتے شفق میں وہ جانکا واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ جب بھی اپریل کا مہینہ آتا ہے، ان نا قابل فراموش اور ہماری زندگی کی بہاریں چھین لینے والی یادوں کی آمیزش، خوشبوں میں ہر طرف پھیلی محسوس ہوتی ہے۔ یوں بہار کے یہ دن و رات صبح شام گزارنے مشکل ہوجاتے ہیں۔
 اردو کے مشہور افسانہ نگار کے یہ الفاظ  مجھے معلوم نہیں کیوں اچھے لگے تھے۔ پھر میں نے اپنی ڈائری پہ لکھتے ہوئے بالکل نہیں سوچا تھا کہ وہ انہیں امر کر جائے گا” میں ایک پر نشہ وداع کو غمگین وصال پر ترجیح دیتا ہوں یہی وجہ ہے کہ چاہتا ہوں کہ دغدغئہ حیات کو بہار کے پر شوق کے زمانے میں ۔جب پھول کھلے ہوں، دنیا میری طرف ہنس رہی ہو اور میں دنیا کی طرف۔ ایسے میں دنیا کو الوداع کہوں“
ان لفظوں کو حقیقت کا روپ دینے والا اور اپریل کے پر بہاردنوں میں سارے شہر کو ویران کرنے والا ہمارا پیارا حافظ خالد نقی خان جسے عرف عام میں حافظ صاحب اور میں پیار سے” چھوٹا بھائی جی “ کہا کرتا تھا۔ آج اسے پھر یاد کرتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو مرحوم بھی ہوچکے ہوں لکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے کہ دل مانتا ہی نہیں کہ وہ مرحوم ہو چکے ہیں۔ درمیانہ سا قد، چھوٹی چھوٹی ترشی ہوئی داڑھی، خوش گفتار و خوش مزاج، ہونٹوں کے ساتھ آنکھوں سے بھی مسکانے والا، اونچے اونچے سانس لینے اور ہر کسی کو"آو جی" کہنے والا چھوٹا بھائی جی، مرحوم ہوگیا ہے یہ 12 سال پورے ہونے پر بھی یقین نہیں آتا۔
 بچپن ہی سے دینی تعلیم کی طرف راغب خالد نقی خان نے آٹھویں کلاس میں قرآن حفظ کرکے اپنے نام کے ساتھ حافظ کا بھی اضافہ کرلیا تھا۔ صابر شہید پائلٹ سکول سے میٹرک اور حسین خان شہید ڈگری (اب پوسٹ گریجویٹ) کالج سے ایف اے اور بی اے (پرائیویٹ) کرنے والا خالد بھائی درس نظامی کے لئے راولپنڈی چلا گیا اور درس نظامی مکمل کرنے کے بعد 1990میں احباب جمعیت و جماعت کی خواہش کے مطابق دوبارہ راولاکوٹ (آزاد کشمیر) منتقل ہوگیا اور اسلامی جمعیت طلباءکے پلیٹ فارم سے طلباء سیاست میں ایک مثالی کردار اد اکرتے ہوئے ناظم مقام راولاکوٹ رہا۔
 جمعیت سے فراغت کے بعد اختتام زندگی تک جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر ذمہ دار کارکن کی حیثیت سے تحریک اسلامی کے کام میں مگن رہا۔ خالد بھائی یادگار کردار کی صورت ہر طرف یادیں بکھیرتا چلا گیا۔  انیس سو اٹھانوے میں جب میں نے دبستان (ایک مقامی تعلیمی ادارے کا نام) میں بطور معلم کام شروع کیا تو 2 سال پہلے سے پڑھانے والے خالد نقی خان کو طلباء اس طرح چاہتے ہوں گے یہ اندازہ نہیں تھا۔ طلباء کے ساتھ اس کی نرم مزاجی اور شفقت مثالی تھی پھر تحریک کشمیر میں حصہ ڈالنے کے لئے قطر گئے تو اس دلجمعی کے ساتھ کام کیا کہ بالآخر بھارتی سفارتخانے نے انہیں ان سرکل(incircle) کر کے خصوصی کوششوں کے بعد زبردستی واپس پاکستان کے سفر پر روانہ کرایا۔
خالی ہاتھ پاکستان پہنچے اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر کے کے مارکیٹنگ سروسز کے نام سے کاروبار کیا۔ سات ماہ کے اندر ہی ریکارڈ بزنس کر کے اپنے آپ کو کامیاب تاجر منوایا۔ غرض خالد بھائی کسی بھی فیلڈ میں گیا اس نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ہجوم آبادی نہیں۔ جمیعت طلباءعربیہ ہو کہ اسلامی جمیعت طلباء یا جماعت اسلامی، سارے کارکنان خالد بھائی کے جداگانہ رول کے گواہ ہیں۔
خالد بھائی مرحوم ہونا دراصل تحریک اسلامی کا ایک تربیت یافتہ وپختہ فکر اور ایک بالغ نظر اور غیر معمولی صلاحیتوں والے کارکن سے محرو م ہونا ہے۔ صرف تحریک اسلامی  ہی نہیں بلکہ ہمارے سارے رشتہ دار، اہل محلہ و علا قہ اب خالد بھائی ایسے ساتھی سے محروم ہوگئے جو شاید صرف دوسروں کے لئے جینے کا ہنر جانتا تھا۔
 اس بات کا اندازہ اس لمحے ہوا جب خالد بھائی کے دفنانے کے بعد تعزیت کے لئے آنے والے اس کے دوستوں سے ملاقات ہوئی ۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ خود روؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا انہیں چپ کراوں۔  پھر خالد بھائی کی وفات کے بعد اس کے مسجد کے ساتھیوں میں سے حافظ گوہر رحمان صاحب کے تعزیتی خط سے اندازہ ہوا کہ خالد بھائی کا اپنے دوستوں کے ساتھ کیسا گہرا جذباتی تعلق اور ان پریادگار اثرات تھے جنہوں نے لکھا تھا کہ "یوں تو کئی سال ہوئے خالد بھائی سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن وہ ہرلمحہ میرے ساتھ تھے اور اب جب اخبار میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو ایسے لگا جس طرح میرے حقیقی بھائی مجھ سے جدا ہو گئے ہوں ۔
 خالد بھائی کے حادثے اور پھر 30 اپریل کی صبح ان کے اختتام دنیا کے وقت میں پشاور یونیورسٹی میں تھا گھر والوں نے مجھے اطلاع دینے کے لئے میرے پیارے دوست حسان (مرحوم ) کی ذمہ داری لگائی ۔ حسان نے مجھے بتانے کے بجائے خود رونا شروع کیا اور کہا کہ اس کو فورا گھر پہنچنا ہے ۔ راولاکوٹ سے کچھ فاصلے پہلے تک میں اس کو ہی تسلیاں دیتا آیا لیکن جب راولاکوٹ شہر میں پہنچے تو خالد بھائی کے جسد خاکی کو صابر شہید اسٹیڈیم لایا جا رہا تھا ۔ میرے قدموں تلے سے تو زمین نکل ہی چکی تھی لیکن انسانوں کا ایک جم غفیر سنسان شہر آہیں اور سسکیاں آخری دیدار کے لئے بے قرار ہزاروں آنکھوں اور ہر طبقہ فکر اور شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت آزاد کشمیر اور پنڈی اسلام آباد سے آنے والے چیدہ چیدہ افراد کی شمولیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بھائی جی جسے ہم گھر میں سادہ بھائی کہتے تھے کتنے جامع کمالات اور تعلقات کے حامل شخصیت تھا۔ راولاکوٹ کی تاریخ کے چند بڑے جنازوں میں ایک اس کی نماز جنازہ بھی تھی ۔

استاد محترم ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کے تاثراتی الفاظ کچھ اس طرح ہیں "حافظ خالد نقی جیسے نوجوانوں کا یوں اٹھ جانا اگرچہ خدا کی مرضی ہے اور یہی ہمارے لئے تسلی اور تشفی کا باعث ہے لیکن ظاہری اسباب کے سحر میں گرفتار معاشرے کے لئے یہ ایک عظیم سانحہ ہے ایسے نوجوانوں کا نام حافظ خالد نقی تھا لیکن شہادت کے انعام سے سر خرو ہونے کے بعد وہ ایک زندہ بیدار جذبہ و احساس بن گیا ہے محبت خلوص امن آشتی ٹھنڈک سکون و راحت کا جذبہ حوصلے و قار متانت سپردگی جانفروشی پختگی سعادت و شہادت کا جذبہ انہی جذبوں کا نام خالد نقی تھا"۔

 آج خالد بھائی ہمارے درمیان موجود نہیں ہمارے گھر کے بالکل سامنے ہی مغرب کی طرف وہ ابدی نیند سو رہا ہے اس کے پیکر خاکی کو ہماری پیاسی آنکھیں اگرچہ دیکھنے سے قاصر ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ چھوٹا بھائی جی ہمارے درمیان ہی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماکر درجات بلند فرمائے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔ عرب اور ایران کی ن...