Friday, January 25, 2013

عید میلاد۔۔۔۔۔۔ عشق رسول یا کاروبار ؟

آج صبح آفس پہنچ کر اخبارات پڑھنے شروع کیے تو اچانک دل میں ایک ہوک سی اٹھی، اخبارات کے صفحوں پر جمی سرخیاں  مسلم امہ کا حال زار چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام اور املاک کی تباہی کے بعد اب انہیں بردہ فروشوں کو بیچا جا رہا ہے۔ مالی میں اسلامی شرعیت کے نفاذ کا اعلان کرنے والوں پر صلیب کے پجاریوں کی یلغار ہے، شام میں خانہ جنگی کے بعد اب اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت ہو چکی ہے، افغانستان ہو یا شیشان، پاکستان ہو  یا کشمیر عراق و فلسطین ہوں یا یمن، ہر جگہ خون مسلم کی ارزانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اخبارات کا مطالعہ ابھی جاری ہی تھا کہ اسائنمنٹ ڈیسک کا پیغام ملا۔ آج "عید میلاد" کی تیاریوں پر رپوٹ تیار کرنا ہے۔ کیمرہ مین کے ساتھ ایک چھوٹی سی میٹنگ کے بعد طے پایا کہ اس پیکج رپوٹ کی تیاری کے لئے راولپنڈی جانا بہتر رہے گا۔ وہاں آسانی سے کم وقت میں درکار تمام شاٹس اور ساٹ (S.O.T)  مل جائیں گے۔

 یوں ہم راولپنڈی کے بنی چوک کی جانب روانہ ہوئے جہاں آرائشی لائٹس، ساونڈ سسٹمز کے علاوہ ہر قسم کی پرنٹنگ کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔

راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ "مری روڈ" کو چھوڑ کر جیسے ہی ایک ذیلی سڑک کی طرف ٹرن لیا، تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نئی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سبز رنگ کی جھنڈیوں اور جھنڈوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ سبز کپڑے کے کئی میٹر لمبے ٹکڑوں کو سڑک کے دائیں بائیں کی عمارتوں سے باندھ کر یوں تان دیا گیا ہے کہ ایک چھت کا گمان ہو رہا تھا. دیواروں اور دروازوں کو جھنڈیوں کے علاوہ چمکدار پنیوں سے سجایا گیا ہے۔

کیمرہ مین نے در و دیور کو عکس بند کرنا شروع کیا تو میں علاقے کے کاروباریوں سے معلومات اگٹھی کرنے میں مشغول ہو گیا۔ سب سے پہلے آرائشی بتیوں اور ساؤنڈ سسٹم والوں سے رابطہ ہوا، تو پتہ چلا کہ لائٹنگ کی بکنگ تو ہفتوں پہلے مکمل ہو چکی ہے، تاہم کئی سیانے دکاندار اب بھی بلیک میں بکنگ کر رہے ہیں، لیکن اس کے ریٹس شادیوں میں ہونے والی لائٹنگ کے مقابلے میں تگنے چگنے ہیں۔  قیمت کی کسی کو فکر نہیں البتہ دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے لئے پیسوں کے علاوہ سفارش اور دھونس بھی خوب چل رہی ہے۔

لائٹنگ اینڈ ساؤنڈ سسٹم کے دکانداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اگرچہ شادیوں کا سیزن اور 14 اگست بھی ان کے کاروبار کے لئے منافع بخش ایام ہوتے ہیں، لیکن "عید میلاد" کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس مرتبہ یہاں کتنے کا بزنس متوقع ہے؟  یہ سوال پوچھنے پر انہوں نےبتایا! حتمی طور پر کچھ کہنا تو ذرا مشکل ہے، تاہم صرف اس مارکیٹ میں اس دن کے لئے 29 لاکھ روپے سے زیادہ کی بکنگ ہو چکی ہے۔ میری معلومات میں اضافے کے لئے انہوں نے بتایا کہ اب روایتی لائٹنگ کے علاوہ لیزر لائٹنگ اور لانگ رینج ہلوجن لائٹنگ کی بھی بکنگ ہو رہی ہے، ساونڈ سسٹمز میں بھی عام
ایمپلی فائیر اور ہارن لاوڈ سپیکرز کے ساتھ ساتھ اب مکمل "ڈی جے سیٹ" کی بکنگ بھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے سالوں کی نسبت کاروبار کے مالیاتی حجم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔


پرنٹنگ والوں نے بتایا کہ "میلاد" کے دن کے لئے مختلف انداز کی جھنڈیوں کے علاوہ بیجز، سٹکرز اور پوسٹرز تیار کیے جاتے ہیں، ایک ذیلی کاروبار کے طور پر حرم مکی اور مسجد نبوی کے مختلف انداز اور سائز کے "تعزیہ نما" ماڈلز بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ کپڑے اور پینافلیکس کے بینرز اور پس منظر (Backdrops) کی تیاری اس کے علاوہ ہے۔ بنی چوک سے ملحقہ سرکلر روڈ اور اردو بازار میں "میلاد" کے حوالے سے اس سال تقریباً 87 لاکھ روپے کا کاروبار متوقع ہے۔

نعت خوانوں اور دیگر شرکا کو حوصلہ افزائی کے طور پر دی جانے والی ٹرافیوں، شیلڈز اور سوینیرز (Souvenirs) کی فروخت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ میلاد کے روز پہننے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں عربی لباس بھی خصوصی طور پر تیارکیا جاتا ہے، جس کی مجموعی مالیت بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔ جلوسوں کے شرکاء کی سواری کے لئے ٹرک، پک اپ اور ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر اقسام کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ گھوڑوں اور اُنٹوں کی بھی بکنگ مہنگے داموں ہو رہی ہے۔

 اس سال "عید میلاد" کی مناسبت سے ایک نئی جدت "میلاد کیک" خصوصی طور پر متعارف کی گئی ہے، بیکریوں والے "میلاد" کے دن کی مناسبت سے سبز رنگ اور حرمین مکہ و مدینہ کی تصویروں والے کیک تیار کر رہے ہیں، جن کے آڈرز بھی دھڑا دھڑ بک کیے جارہے ہیں، امید ہے کہ کئی لاکھ کے کیک بھی اس روز کے لئے تیار کیے جائیں گے۔ جلوس کے شرکا، نعت خوانوں اور مقررین پر نچھاور کرنے کے لئے نئے کرنسی نوٹوں کی خریداری بھی عروج پر ہے۔

میلاد کمیٹیوں کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ تو دراصل ضمنی اخراجات ہیں۔ عیدِ میلاد کا اصل خرچ تو نعت خوانوں اور مقرروں کا معاوضہ ہے۔ جس کی پیشگی آدائیگی کے بعد ہی وہ جلوس کے راستے میں آنے والے ہر "مقام" پر سرور کائناتﷺ کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کریں گے اور سیرت پاکﷺ پر روشنی ڈالیں گے۔ معروف نعت خوان اور مقرر تو کئی لاکھ روپے معاوضہ طلب کر تے ہیں۔ ان کی بکنگ بھی بلیک میں ہوتی ہے۔ طے شدہ معاوضے کے علاوہ جلوس کے دوران ویلوں اور نچھاور ہونے والے نوٹوں کی شکل میں بھی انہیں خاصی آمدن ہو جاتی ہے۔   

یہ تمام مواد جمع کر کے آفس پہنچ کر جب میں اس رپوٹ کے لئے سکرپٹ لکھنے بیٹھا، تو اچانک خیال آیا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے عشق کے نام پر ہم جو کچھ کر رہے ہیں کیا یہ انﷺ کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے؟؟؟
دل سے صدا آئی ہر گز نہیں۔

تیرے حسن خلق کی اک رمک میرے زندگی میں نہ مل سکی 
میں اسی میں خوش ہوں کے شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
یہ میری عقیدت بے بصر ، یہ میری ارادت بے ثمر
مجھے میرے دعوایٰء عشق نے  نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آپﷺ کو اپنی امت سے جس قدر محبت تھی وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج جب امت کے لاکھوں مرد و زن اور معصوم بچے بھوک اور سردی کے عذاب سے دوچار ہیں۔ ہم عشق نبی ﷺ کے نام پر در و دیوار سجا کر آخرت میں شفاعت کی امید رکھتے ہیں تو یہ ہماری خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ جس نبی ﷺ نے امت کے غم میں لاتعداد راتوں کے کئی کئی پہر آنسوں بہاتے گزارے ہیں، انﷺ کے سامنے قیامت کے دن کیا منہ لے کر جائیں گے۔

ایک لمحے کے لئے یہ خیال آیا اور پھر میں سر جھٹک کر سکرپٹ لکھنے میں مصروف ہوگیا ۔۔۔۔۔ "عید میلاد" نبی ﷺ کو پورے عقیدت و احترام سے منانے کی تیاریاں عروج پر پہنج گئیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلیوں اور محلوں کو دلہن کی ظرح سجا دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3 comments:

  1. ایک سادہ دیہاتی بھی جب عشق کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اسکے دل میں صرف تو ہے تیرے سوا اور کوئی نہیں ہے، پھر وہ یہ بات اپنے عمل سے ثابت بھی کرتا ہے. اپنے محبوب کے خلاف کوئی بات نہیں سنتا بیشک وہ اسے گود میں کھلا پلا کر پال پوس کر بڑا کرنے والی ماں ہی کیوں نہ ہو. حیرت ہے ہم دنیا کی دلدل میں الجھے ہوئے لوگ ہیں جن کے دلوں اور ذہنوں میں ہر طرح کے بت اور محبوب سمائے ہوئے ہیں، اتنی مورتیاں جمع ہیں کہ وہاں میرے پیارے رسول صلى الله عليه وسلم
    کی محبّت کی جگہ نہیں بن پاتی.

    جس امت مسلمہ میں اتنے عشق کے دعوے دار ہوں اور دنیا کو علم ہو جائے کہ یہ واقئی عاشقانِ سید الانبیا صلى الله عليه وسلم
    ہیں وہاں شاید ہی کوئی انکے محبوب کی شان میں کارٹون چھاپنے یا فلم بنانے کی جرات کر سکے. جس پر عشق کا جنوں سوار ہوتا ہے اسکے سامنے تو لوگ اسکے محبوب کے خلاف بات کرنے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں.لیکن مغربی دنیا کو یہ یقین ہے کہ عشق کے یہ دعویدار، اپنے آپکو پروانوں کا درجہ دینے والے اپنے دلوں سے ہمارے بت ہی نہیں نکل سکے. انہیں مغرب کی طرزِ زندگی سے عشق ہے، انکی مصنوعات سے محبت، انکے رہن سہن سے رغبت ہے. ان کے علاقوں میں ہجرت کر کہ قسمت بنانے کی خواہش ہے. یہ عشق تو ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، بھلا ایسے لوگوں کے دلوں میں عشق کا کیا کام؟

    ReplyDelete
  2. ماشاءاللہ اچھا مضمون لکھا ہے اور اچھی سوچ دی گئی ہے مگر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کی عوام جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ لوگ مولویوں کی جھوٹی باتوں میں آ گے ہیں ورنہ یہ کون نہیں جانتا کہ اسلام میں اس تیسری عید کا کوئی تصور تک نہیں ہے مگر شیطان ان کو اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے زیادہ نہیں چند سال پہلے تک اتنی بےغیرتی اور لادینی دیکھنے میں نہیں آتی تھی جتنی آجکل دیکھ رہے ہیں۔
    12 کی رات کو فاحشہ عورتیں سج دھج کر باہر نکلتی ہیں اور بےغیرتی اور لادین ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں اور ان کے والدین اور بھائی اپنی بےغیرتی کا مظاہرہ کرتے ہیں!!!
    کیا یہ اسلام ہے؟؟ کیا ایسا ہی اسلام ہم کو نبی ﷺ نے دیا تھا کہ جن کی محبت کے لیئے یہ سب برُائیاں کی جا رہی ہیں؟؟
    اللہ ہی ان جاہلوں کو ہدایت دے آمین

    ReplyDelete
  3. او یار جو عشق کرتے ہیں وہ کشادہ دل و کشادہ دست ہوتے ہیں۔ کسی غریب کی مدد نہیں کر سکتے تو کیا ہوا کسی کا گلا تو نہیں کاٹتے نا
    کیا ہو گیا اگر ڈیک اور الاؤڈ سپیکر بجا بجا کر ہمسایوں کی بجاتے ہیں؟
    عوام سارا سال نرگس کے مجرے دیکھتی ہے تو نصیبو لال ٹائپ نعتیں نی سن سکتی؟
    راحت فتح علی گائے تو واہ وا اور نعت گو گلے پھاڑیں تو اعتراض؟
    نہ بھئی نہ ،ایسے تو بات نہیں بنے گی
    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ چھتر غالب دوسروں کو ھی لگائے تو بات بنے

    ReplyDelete

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اخ...