Sunday, January 6, 2013

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا

کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھے کے پاس جانے کون سا جادو تھا جس کے زور پے وہ لاکھوں نوجونوں کے دلوں میں بستا تھا۔

 آج جب وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا تو پتہ چلا کہ اس کی عمر تو 74 سال ہو چکی تھی ۔ 
لیکن کیا کروں کہ اسے لاٹھی کے سہارے چلتے دیکھ کر بھی کبھی یقین نہیں آیا کہ یہ شخص بوڑھا بھی ہو سکتا ہے۔ یقین آتا بھی تو کیسے؟ میں نے اسے نہ جانے کتنی ہی بار آنسو گیس کے گہرے بادلوں میں ثابت قدم، اور پولیس کی برستی ہوئی لاٹھیوں کے سامنے سینہ سپر دیکھا ہے۔ 

 انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہ صرف وہ خود امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتا، بلکہ دوسروں کے لئے بھی امید کی کرن بن جایا کرتا تھا۔ جوانوں میں بجلیاں بھرنے کا جادو تو اسے آ تا ہی تھا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ضعیف العمر افراد بھی اسکی ولولہ انگریز شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو کر بے خود ہو جایا کرتے تھے۔ 

مجھے آج سندھ کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والا وہ بوڑھا "بابا چانڈیو" بے طرح یاد آ رہا ہے جو اڈیالہ جیل میں لہک لہک کر نعرے لگایا کرتا تھا۔
 ہم بیٹے کس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔    قاضی کے
ہم دست و بازو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے
ہم ساتھ جیئیں گے۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے 
ہم ساتھ مریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔   قاضی کے

بینظیر حکومت کے خلاف ہونے والے دھرنے کی پاداش میں با با چانڈیو بھی سینکڑوں دیگر کارکنان جماعت کے ہمرا اڈیالہ جیل میں قید تھا۔  بابا چانڈیو جب نعرے لگا کر تھک جاتا تو ہم پوچھتے کہ بابا! کیا قاضی صاحب آپ سے بڑے ہونگے؟ 
بابا ایک دم جذباتی ہو کر کہتا "ہونگے تو چھوٹے ہی، لیکن اس سے کیا ہوتا ہے، میں ان کا احترام اپنے باپ سے زیادہ کرتا ہوں۔

ایک بابا چانڈیو ہی کیا، بہت ہی قلیل تعداد ان لوگوں کی ہوگی، جن کے دلوں میں اس شخص کے لئے احترام کے جذبات کے سوا بھی کچھ ہوگا۔ میں نے مخالف سیاستدانوں اور مذہبی رہنماوں کو (جو اپنی پارٹی اور اپنے فرقے کے باہر کے کسی شخص کے بارے میں کلمہ خیر کہنے کو گناہ سمجھتے ہیں) قاضی حسین احمد کی تعریف کرتے ہی دیکھا ہے۔ان میں مرحوم شاہ احمد نورانی، حافظ حسین احمد اور چوہدری شجاعت حسین کے الفاظ کا میں خود گواہ ہوں۔

بات اگر عوام کی ہو تو مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق یہاں تک کہ پیپلز پارٹی تک کے ورکروں کو اس بوڑھے کی ہمت اور جرات کو سلام کرتے دیکھا ہے۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ مخالف مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں میں بھی اگر کسی کی بات توجہ اور احترام سے سنی جاتی تھی تو وہ بھی یہی شخصیت تھی، جس کے گرویدہ دیوبندی بھی تھے، شعیہ بھی، اہل حدیث بھی تھے اور بریلوی بھی۔

آج وہ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ وہ کتنا سایہ دار شجر تھا۔ آج "میرے عزیزو" کی صدا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی، "شاندار اسلامی انقلاب" کی نوید سنانے والا اس بستی سے کوچ کر گیا، ظالموں کو مبارک ہو اب "قاضی کھبی نہیں آئے گا"۔

 وہ یقیناً بہت ہی خوش و خرم اس جہان فانی سے رخصت ہوا ہوگا لیکن کون شمار کرے کہ اپنے کتنے بیٹوں کو احساس یتیمی دے گیا ہے۔ کتنی آنکھیں اس کے لئے اشکبار ہیں۔ جن دلوں میں وہ بجلیاں دوڑایا کرتا تھا آج  ان میں رنج و ملال کے سوا کچھ بھی نہیں۔  
آج جب خود کو اس کا دست و بازو قرار دینے والے ہاتھ ہی اسے لحد میں اتار چکے ہیں۔ تو میں سوچ رہا ہوں " اے میرے قائد تیرا بدل کوئی نہیں ہوسکتا۔ 

کون ہے کہ تجھ سا کہیں جسے


2 comments:

  1. اسلام و علیکم، آج ہمارے روحآنی قائد ہم میں نہیں رہے، وہ ایک شفیق باپ کی طرح نوجوانوں سے محبت کرتے تھے اور اپنے بڑھابے او ربےماری میں بھی نوجوانوں خی طرح متحرک رہتے تھے ان کا مشن اسلام کی سربلندی تھا سوڈان سے لے کر کشمیر تک پوری دنی اکی اسلامی تحریکوں سے ان کے گہرے روابط تھے کیونہ وہ اتحآد امت کےداعی تھے ملی یکجہتی کونسل کا قیام بھی ان کے اسی خؤاب کی عملی تعبیر تھا کے پاکستان میں بسنے والے مسلمان ایک ہو جاہیں

    ReplyDelete
  2. اردو بلاگروںمیں "جیہڑا بھنو، اوہو ای لال اے" والا حساب ہوا ہے۔ :)
    ماشاءاللہ۔ یعنی آپ بھی جماعتیے رہے ہیں۔
    خوشی ہوئی پڑھ کر۔
    آپ اپنے بلاگ پر کبھی کبھار ہی لکھتے ہیں۔ آخر کیوں؟

    ReplyDelete

بابر مسجد تنازعے کی تاریخ

انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال بیت گئے۔ 6 دسمبر 1992ء کو بھارتی نیم فوجی دستوں،ہندو انتہا پسند شیوسینا، آر ایس...