لاہور میں ہونے والی "بین القوامی اردو بلاگنگ کانفرنس" میرے لئے واقعی ایک "بلائنڈ ڈیٹ" تھی۔ چند مہینے بیشتر ہی اردو بلاگنگ کی دنیا میں آیا ہی تھا کہ یہاں قدم قدم پے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے جاننے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کا آزالہ کر سکتا ہو۔ ایسے میں ایک مہربان نے "اردو بلاگر گروپ" میں شمولیت کا مشورہ دیا کہ وہاں سے مناسب رہنمائی ملنے کی امید ہے۔
بدقسمتی سے میں گروپ میں اس وقت شامل ہوا جب وہاں گمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ ابتدا میں تو یہی سمجھا کہ اردو بلاگنگ کے لئے یہ سب ضروری ہوتا ہو گا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معرکہ عارضی ہے اور وجہ نزاع مستقبل قریب میں ہونے والی ایک عدد "اردو بلاگر کانفرنس" ہے۔ چند پوسٹیں اور ان پر ہونے والے ڈھیروں تبصرے پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ کانفرنس ہی "بین القوامی" نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک بڑی بین لاقوامی سازش بھی ہونے جا رہی ہے۔
سازش کا معلوم ہوتے ہی میری صحافیانہ حس بھی بیدار ہو گئی اور میں نے گروپ میں دیے گئے ویب پتے پر رجسٹریشن فارم پُر کر دیا۔ چار دن ہی گزرے تھے کہ بلاگر فورم کا جواب موصول ہوا کہ تم بحیثیت بلاگر شرکت کرنے کے اہل نہیں ہو، اگر بلاگنگ کے شوقین کے طور پر شریک ہونا چاہو تو آ جانا، لیکن اپنے خرچے پر۔
سوچا یہ بھی اچھا ہے ہمیشہ دوسروں کے خرچے پر کانفرنسیں اور سمینارز میں شرکت کی ہے، چلو ایک اپنے پلے سے بھی کر دیکھتے ہیں کہ اس کا مزا کیسا ہوتا ہے۔ خود کو سمجایا کہ میں واقعی بلاگنگ میں نو وارد ہوں ابھی تو ایک بلاگ پر کوئی 90 پوسٹ ہوئی ہیں اور دوسرے پر صرف دو ہیں۔ سچ پوچھیں تو بلاگر فورم کے اس "کڑے میرٹ" پر پیار بھی آیا کہ سچے اور کھرے لوگ ہیں۔ یوں انجانے اندیکھے لوگوں اور کئی سازشی نظریات میں گھری ہوئی کانفرنس میں شرکت کا اٹل فیصلہ ہو گیا، "چلو بلائینڈ ڈیٹ ہی سہی"
اسلام آباد سے پہلے بس اور پھر رکشے کے سفر کے اختتام پر جب لاہور ایوان صعنت و تجارت کے اڈیٹوریم میں پہنچا تو کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا. حسب عادت آخری رو کی ایک خالی کرسی پر قبضہ جمایا اور حالات کا جائزہ لینے لگا۔ ابتداء میں سمجھ کچھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کوئی بھی شناسا چہرہ دیکھنے کو نہیں ملا اس لئے کچھ نروس سا ہو گیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ چائے کے وقفے کا اعلان ہوا۔
چائے کی میز بہت سے پرُ تکلف لوازمات سے پُر تھی، لیکن میں پنجابی محاورے کے مطابق ’گمشدہ گائے‘ کی ماند کسی شناسا چہرے کی تلاش میں گھوم رہا تھا، یہاں ہر فرد ’آپ کہاں سے ہیں؟ اور کس نام سے لکھتے ہیں؟‘ کے زریعے متعارف ہو رہا تھا، جلد ہی میرا پہلا تعارف برادر سعد ملک سے ہوا لیکن ان کے تن و توش کو دیکھ کر میں ان کے تمام تر خلوص کے باوجود ان سے کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر پایا۔
سوچا یہ بھی اچھا ہے ہمیشہ دوسروں کے خرچے پر کانفرنسیں اور سمینارز میں شرکت کی ہے، چلو ایک اپنے پلے سے بھی کر دیکھتے ہیں کہ اس کا مزا کیسا ہوتا ہے۔ خود کو سمجایا کہ میں واقعی بلاگنگ میں نو وارد ہوں ابھی تو ایک بلاگ پر کوئی 90 پوسٹ ہوئی ہیں اور دوسرے پر صرف دو ہیں۔ سچ پوچھیں تو بلاگر فورم کے اس "کڑے میرٹ" پر پیار بھی آیا کہ سچے اور کھرے لوگ ہیں۔ یوں انجانے اندیکھے لوگوں اور کئی سازشی نظریات میں گھری ہوئی کانفرنس میں شرکت کا اٹل فیصلہ ہو گیا، "چلو بلائینڈ ڈیٹ ہی سہی"
اسلام آباد سے پہلے بس اور پھر رکشے کے سفر کے اختتام پر جب لاہور ایوان صعنت و تجارت کے اڈیٹوریم میں پہنچا تو کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا. حسب عادت آخری رو کی ایک خالی کرسی پر قبضہ جمایا اور حالات کا جائزہ لینے لگا۔ ابتداء میں سمجھ کچھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کوئی بھی شناسا چہرہ دیکھنے کو نہیں ملا اس لئے کچھ نروس سا ہو گیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ چائے کے وقفے کا اعلان ہوا۔
چائے کی میز بہت سے پرُ تکلف لوازمات سے پُر تھی، لیکن میں پنجابی محاورے کے مطابق ’گمشدہ گائے‘ کی ماند کسی شناسا چہرے کی تلاش میں گھوم رہا تھا، یہاں ہر فرد ’آپ کہاں سے ہیں؟ اور کس نام سے لکھتے ہیں؟‘ کے زریعے متعارف ہو رہا تھا، جلد ہی میرا پہلا تعارف برادر سعد ملک سے ہوا لیکن ان کے تن و توش کو دیکھ کر میں ان کے تمام تر خلوص کے باوجود ان سے کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر پایا۔
یہ دیکھ کر ڈھارس بندھی کہ یہاں مجھ سے بھی کمزور کئی افراد موجود ہیں۔ اپنے خیال میں سب سے کمزور فرد کا انتخاب کرکے رائج الوقت دونوں سوال داغ دیے۔ جواب ملا کہ ’تعلق سوات سے ہے‘’ بلاگنگ تو نہیں کرتا لیکن ایک ویب سائیڈ بنانے کا ارادہ ضرور ہے‘ اپنے سامنے موجود دوست کے گلے میں لٹکتے کارڈ پر لکھا ہوا ’بلاگر‘ مجھے منہ چڑھانے لگا لیکن میں نے خود کو ڈانٹ کر سمجھایا کہ یہ معرفت کی باتیں ہیں اور مجھے تصوف کی سمجھ کبھی نہیں آسکتی۔
چند گھنٹوں بعد کانفرنس میں دیا جانے والا کھانا چائے کی نسبت بہت "بے تکلف" تھا۔ اس وقت تک میں بھی سب بلاگروں سے بے تکلف ہو چکا تھا۔ کھل کر گپ شپ شروع ہو گئی تھی۔ شام کو شرکاء کانفرنس لاہور کی سیر کو نکلے تو مجھے بھی پروگرام نہ ہونے کے باوجود نئے نویلے دوستوں کے اصرار پر شامل ہونا پڑا۔ سیر کے دوران بہت ہی لطف آیا، ایک عرصے بعد کالج کا وقت یاد آیا۔
کانفرنس کا دوسرا دن دیار غیر میں بسنے والوں کے نام رہا۔ کنیڈا سے صحافی ناہید مصطفیٰ کے مشورے اور کیٹی مرسر کے ٹوٹکے کسی "بلاگر" کے لئے مفید ہوں یا نہ ہوں مجھے ان سے بہت کچھ حاصل ہوا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام سے قبل ہی میں نے جان لیا کہ روایتی میڈیا کے مکارانہ طرز عمل کے مقابلے میں سوشل میڈیا کے بلاگرز کی بے لاگ تحریروں سے معاشرے کی سچی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی حرس و ہوس، ہر لالچ اور دباؤ سے آزاد، ستائش اور ناموری کی تمنا سے کوسوں دور رہ کر حق و سچ کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔
کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سبھی محمود ایاز ایک ہی صف میں میں نظر آرہے تھے، لیکن کبھی کبھی احساس ہوتا جیسے ایک صاحب کو خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے۔ جب ان کی قبل از وقت رخصتی کا اعلان رقت امیز انداز سے ہوا تو میں رہ نہ پایا اور ساتھ کی نشت پر تشریف فرما ایک "ثقہ بلاگر" سے دریافت کیا کہ "یہ کون ہیں اور اس خصوصی برتاو کی وجہ کیا ہے؟" انہوں نے مختصراً بتایا کہ موصوف کا بلاگ ملک کے ایک بڑے نشریاتی و اشاعتی ادارے کی ویب سائیڈ پے پبلش ہوتا ہے۔ مجھے ایک بار پھر جھٹکا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"روایتی میڈیا کا جھوٹ ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا کا سچ؟؟" لیکن جلد ہی خود کو سمجھا لیا کہ یہ بھی معرفت کی بات ہو گی اور مجھے تو تصوف کی سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔
سو باتوں کی ایک بات کہ کانفرنس بہت کامیاب رہی، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ دوستوں کی ڈھیر ساری محبتوں اور موبائل نمبروں سمیت بہت سی یادیں سمیٹی ہیں، یوں میری بلائینڈ ڈیٹ بہت ہی کامیاب رہی۔