Saturday, June 20, 2015

مسجد قاسم خان پشاور میں رویت ہلال کی تاریخ

پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند کی رویت ہر سال ہی تنازعے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آتا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں عموما پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عید نہیں ہو پاتی۔
عموما لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد قاسم خان سے ہونے والا اعلان کوئی تازہ وادات ہے جس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔


 بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ پشاور کی مسجد قاسم خان سے چاند کی رویت کا فیصلہ ہونے کی راویت کئی صدیوں سے جاری ہے۔ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے پہلو میں واقع مسجد قاسم خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں پشاور کے گورنر محبت خان نے کی تھی۔ (محبت خان کے بھائی کا نام قاسم خان تھا)۔ بعد ازاں اس کی تعمیر نو اور توسیع کشمیری نژاد سوداگر حاجی غلام احمد صمدانی کے ہاتھوں اٹھارویں صدی کے آخر میں سرانجام پائی جو آج تک برقرار ہے۔ مسجد قاسم خان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے عہد میں پشاور کے قاضی اور خطیب مسجد قاسم خان عبدالرحیم پوپلزئی نے کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد پشاور سکھوں کی علمداری میں چلا گیا، بعد ازاں طویل عرصے تک انگریزوں کے زیر قبضہ رہا۔ اس تمام عرصے میں رویت کا حتمی فیصلہ مسجد قاسم خان سے ہی ہوتا رہا۔ عبد الرحیم پوپلزئی کے بعد اُن کے فرزند حافظ محمد آمین پوپلزئی اور پھر اُن کے فرزند عبدالقیوم پوپلزئی اور پوتے عبدالحکیم پوپلزئی مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یہاں سے رویتِ ہلال کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ عبدالحکیم کے فرزند عبد الرحیم پوپلزئی ثانی مسجد قاسم خان کے خطیب کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں تحریک خلافت کے سرگرم کارکن اور امیر بھی تھے۔ قصہ خوانی کے مشہور قتل عام کے بعد آپ کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید کی سزاء سنائی گئی تھی۔ دوسری مرتبہ آپ کو وزیرستان میں انگریزی طیاروں کی بمباری کے خلاف بنوں میں احتجاج کی پاداشت میں طویل عرصے کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ عبد الرحیم پوپلزئی ثانی کے بعد مسجد قاسم خان کی خطابت آپ کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپلزئی کرتے رہے۔ جن کے فرزند مفتی شہاب الدین پوپلزئی مسجد قاسم خان کے موجودہ خطیب و امام ہیں۔ جو آج بھی پشاور و اطراف کے ٓنے والی شہادتوں کو جمع کر کے رمضان، شوال اور ذوالحجہ کی رؤیت کااعلان کیاجاتاہےکیونکہ ان مہینوں پہ اسلامی احکامات موقوف ہوتےہیں پشاور و اطراف کے علاوہ دیر، بونیر، ملاکنڈ اور قبائل کی اکثر آبادی آج بھی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے بجائے مسجد قاسم خان سے ہونے والے رویت کے اعلان کے مطابق رمضان اور عید مناتے ہیں۔


نوٹ: اس مضمون کے لئے قاسم اقبال صاحب کی کتاب ۔ (ثقافت سرحد ،تاریخ کے آئینے میں) اور عبدالجلیل پوپلزئی صاحب کی کتاب ( تاریخ خاندان پوپلزئی) کے علاوہ پاکستان کرونیکل سے استفادہ کیا گیا ہے

1 comment:

  1. اس تاریخ سے بہت کم لوگ واقف ہونگے۔ آپ کی فیس بک تحریر سے یہی پیراگراف میں نے بھی اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں بطور اقتباس لیا ہے۔ بہت شکریہ معلومات کیلئے۔

    ReplyDelete

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اخ...